کس وہم میں اسیر ترے مبتلا ہوئے
کس وہم میں اسیر ترے مبتلا ہوئے کب اہل شوق دام وفا سے رہا ہوئے آزاد ہو کے اور بھی بے دست و پا ہوئے کس درد لا علاج میں ہم مبتلا ہوئے منڈلا رہے تھے جن کے سروں پر کلاغ و بوم وہ فیضیاب سایۂ بال ہما ہوئے دل دادگان بادیۂ صرصر و سموم شہزادگان ملک نسیم و صبا ہوئے کرتے نہ تھے جو ساحل و ...