قومی زبان

عشق کی دیکھیے روداد وفا ٹھہری ہے

عشق کی دیکھیے روداد وفا ٹھہری ہے دل کی آواز زمانے کی صدا ٹھہری ہے آج تک آئنۂ دل میں یقیناً میرے ہر جفا تیری وفاؤں کی ادا ٹھہری ہے اب کہاں جائیں گے یہ اہل خرد اہل جنوں آرزو دل کی تو زنجیر وفا ٹھہری ہے جانے کس موڑ پہ حاصل ہے سکوں لوگوں کو جانے کس موڑ پہ یہ تازہ ہوا ٹھہری ہے آج کے ...

مزید پڑھیے

تیری نگاہ ناز جو ناوک اثر نہ ہو

تیری نگاہ ناز جو ناوک اثر نہ ہو تکلیف چارہ سازئ‌ زخم جگر نہ ہو مجھ سے بھی کچھ سوا ہے انہیں میری آرزو یہ شوق وہ نہیں جو ادھر ہو ادھر نہ ہو میں اور مجھ کو وعدۂ دیدار کی امید وہ چاہتا ہوں آج کہ جو عمر بھر نہ ہو اے برق حسن یار ذرا چشم التفات یوں جل بجھوں کہ مجھ کو بھی میری خبر نہ ...

مزید پڑھیے

کوئی نہیں تھا ہنر آشنا تمہارے بعد

کوئی نہیں تھا ہنر آشنا تمہارے بعد میں اپنے آپ سے الجھا رہا تمہارے بعد یہ میری آنکھیں بڑی تیز روشنی میں کھلیں میں چاہتا بھی تو کیا دیکھتا تمہارے بعد ہر ایک بات ہے الجھی ہوئی زبان تلے ہر ایک لفظ کوئی بد دعا تمہارے بعد بڑے قرینے سے رشتے سجائے تھے سارے بکھر بکھر گیا ہر سلسلہ ...

مزید پڑھیے

پیارا دیس

دیس اپنا ہم کو پیارا کیوں نہ ہو دیس اپنا ہم کو پیارا کیوں نہ ہو دل فدا اس پر ہمارا کیوں نہ ہو ''ہند'' سے بڑھ کر نہیں کوئی زمین گو جہاں جنت ہی سارا کیوں نہ ہو کہتے ہیں جس چیز کو آب حیات پھر وہ شے گنگا کی دھارا کیوں نہ ہو جس نے پھیلایا جہاں میں نور علم آنکھ کا دنیا کی تارا کیوں نہ ہو کب ...

مزید پڑھیے

بلبل کو پھر چمن میں لگا لائی بوئے گل

بلبل کو پھر چمن میں لگا لائی بوئے گل اے کاش ہوتی گل بدنوں میں بھی خوئے گل دل داغ داغ اس میں خیال خرام ناز جس طرح اڑتی پھرتی ہو گلشن میں بوئے گل عاشق ہی جب نہیں تو خزاں ہے بہار حسن بلبل کے ساتھ ساتھ گئی آبروئے گل راز محبت اور دل غنچہ تا بہ کے نکلے گی بو کے پردے میں ہر آرزوئے گل لو ...

مزید پڑھیے

کب قہر سے آشوب زمانہ سے ڈری ہوں

کب قہر سے آشوب زمانہ سے ڈری ہوں کب پانی کے ہم راہ میں تنکے سی بہی ہوں رستہ بڑا پر خار ہے پر جان تمنا میں آبلہ پا ساتھ رہی ساتھ چلی ہوں کب روک سکے میرے عزائم کوئی طوفاں چٹان ہوں تلوار کے سائے میں پلی ہوں جو روک سکو روک لو اس جذب جنوں کو اونچے کھڑے پربت سے نہ طوفاں سے رکی ...

مزید پڑھیے

وہ کون ہے فرصت سے مجھے یاد کرے ہے

وہ کون ہے فرصت سے مجھے یاد کرے ہے دل غم سے ہو معمور تو وہ شاد کرے ہے پھر دیجئے دیوانے کی ہمت کو ذرا داد ویرانے کا ویرانہ جو آباد کرے ہے سرمایہ محبت کا تری جس نے ہے لوٹا کیا دے گا وہ کیوں اس سے تو فریاد کرے ہے ٹی وی کے حسیں روپ میں ہے کیسی ترقی کردار جوانوں کا جو برباد کرے ہے آئے ...

مزید پڑھیے

کہانی مری گرچہ انجان ہوگی

کہانی مری گرچہ انجان ہوگی یہ میری غزل میری پہچان ہوگی سفینے کو جب ڈوبنے کا ہو خدشہ مشیت خدا کی نگہبان ہوگی سمجھتی رہوں گی اسی کو میں رہبر نہیں تو انا اس کی قربان ہوگی نشیمن جلاؤ مگر یاد رکھو تمہاری انا خود پشیمان ہوگی چمک میں ستاروں کی کچھ ڈھونڈھتی ہے مری ہی طرح وہ بھی نادان ...

مزید پڑھیے

انا کے دشت میں تنہا بھٹک رہا ہے کوئی

انا کے دشت میں تنہا بھٹک رہا ہے کوئی صلیب شوق پہ جیسے لٹک رہا ہے کوئی ہمارے شہر کا حاکم عجیب منصف ہے کیا ہے جرم کسی نے کھٹک رہا ہے کوئی مزاج عشق ہے نازک بساط حسن ہے کم وفا کی راہ پہ اب تک بھٹک رہا ہے کوئی بڑا غرور ہے اور کیوں نہ ہو بھلا خود پر بدن ہے چاند سا جیسے چمک رہا ہے ...

مزید پڑھیے

ٹھہر کے راہ میں کچھ دیر انتظار کرو

ٹھہر کے راہ میں کچھ دیر انتظار کرو وفا کرو نہ کرو میرا اعتبار کرو ہے قید مذہب و ملت گراں تمہارے لئے ادا کبھی تو نماز صد افتخار کرو ہے بے وفا بڑی ظالم حسینہ ماہ جبیں کبھی تو اس کا بھروسہ بے اختیار کرو گوارا مجھ کو نہیں تھی تمہاری رسوائی تھا وہ جنون مرا مجھ پہ اعتبار کرو کبھی تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3976 سے 6203