قومی زبان

جس کو احساس غم نہیں ہوتا

جس کو احساس غم نہیں ہوتا وہ کبھی چشم نم نہیں ہوتا یوں تو عظمت میں اک فرشتے سے کوئی انساں بھی کم نہیں ہوتا عشق میں داغ دل خدا رکھے چاند سورج سے کم نہیں ہوتا اشک مژگاں پہ ہی لرزتے ہیں قطرہ دریا میں ضم نہیں ہوتا مرگ بلبل پہ آج گلشن میں دیدۂ گل بھی نم نہیں ہوتا چارہ سازوں کی اب ...

مزید پڑھیے

جان جاں میری یہ جاں کا مسئلہ ہے

جان جاں میری یہ جاں کا مسئلہ ہے صرف تیری ایک ہاں کا مسئلہ ہے کچھ تو میرا بھی نشانہ ہے نہیں ٹھیک اور کچھ تیر و کماں کا مسئلہ ہے یہ زمین و آسماں پکے عدو ہیں خلق ان کے درمیاں کا مسئلہ ہے جو تری بائیں ہتھیلی پر دکھا تھا یہ لڑائی اس نشاں کا مسئلہ ہے یہ فراق آشفتگی گریہ یہ وحشت ایک ...

مزید پڑھیے

وہ جو زخموں کی نمائش کرتے ہیں

وہ جو زخموں کی نمائش کرتے ہیں ان پہ چارہ گر بھی کوشش کرتے ہیں بس تمہیں پانے کی خواہش کرتے ہیں ہم جنوں کی آزمائش کرتے ہیں زندگی میں کل ملا کر دیکھیں تو خواب اور تقدیر گردش کرتے ہے آنکھ دو اک غم میں روتی ہی نہیں ابر یکجا ہو کے بارش کرتے ہیں مولیٰ تیری خلق کے سب لوگ ہی عشق کب کرتے ...

مزید پڑھیے

ان ہونٹوں نے پوچھا اس پیشانی سے

ان ہونٹوں نے پوچھا اس پیشانی سے تم تو ہم کو بھول گئے آسانی سے برف کا ٹکڑا دھوپ میں رکھ کر سوچ رہے یعنی پانی نکلے گا اب پانی سے یار اندھیرا کر پہلے اس کمرے میں چڑھ جاتا ہوں ورنہ میں عریانی سے لیجیے اک مصرعے میں سارا افسانہ اک تارے کو ہجر ملا تابانی سے آج کا مجنوں کیا کرتا ہے ...

مزید پڑھیے

میں پہلے تو بہت بادل بناتا

میں پہلے تو بہت بادل بناتا پھر اس کے بعد اک جنگل بناتا اگر ہوتا میں کوزہ گر تمہارا بچی مٹی سے پھر صندل بناتا اسے تم پیر سے لگنے نہ دیتی اگر ہاتھوں سے میں پائل بناتا بنایا تھا تجھے آنکھوں کا آنسو ہمیں بھی یار تو کاجل بناتا تمہیں دلدل بنا رکھا ہے اس نے میں جو ہوتا نہ تو مخمل ...

مزید پڑھیے

جو اس زمیں سے کبھی پھر نمو کروں گا میں

جو اس زمیں سے کبھی پھر نمو کروں گا میں تو چہرہ چہرہ تری جستجو کروں گا میں ہوں درد مند تمہارا مگر یہ مت سوچو جو تم کہو گے وہی مو بہ مو کروں گا میں مری وفا میں کچھ اپنی غرض بھی شامل ہے سو اپنے زخم کو پہلے رفو کروں گا میں جو مجھ کو دیکھے گا فوراً پکار اٹھے گا کہ اختیار تمہیں ہو بہو ...

مزید پڑھیے

ترا غم ہے تو یہ جذبوں کی رو میں بہہ نہیں سکتا

ترا غم ہے تو یہ جذبوں کی رو میں بہہ نہیں سکتا کسی کے حق میں میرا دل غلط کچھ کہہ نہیں سکتا ہوا اچھی ہے اس کی اور نہ پانی اس کا اچھا ہے میں اس شہر منافق میں تو اک دن رہ نہیں سکتا یہ شہر دل نہیں بستی ہے یہ فتویٰ فروشوں کی یہاں اپنے خدا کو میں خدا بھی کہہ نہیں سکتا زمیں سورج کے چاروں ...

مزید پڑھیے

کشود کار کی خاطر خدا بدلتے رہے

کشود کار کی خاطر خدا بدلتے رہے چراغ نذر تھے ہر آستاں پہ چلتے رہے فقیر عشق ہیں اپنا کوئی ٹھکانا ہے کیا ہوا میں اڑتے رہے پانیوں پر چلتے رہے ہم اہل دل نے چھوا تک نہیں کبھی کوئی پھول ہوا پرست مگر توڑتے مسلتے رہے پھسل کے تم بھی عبث سن گئے ہمارے ساتھ ہمیں تو یوں بھی پھسلنا تھا سو ...

مزید پڑھیے

یہ ساری باتیں چاہت کی یوں ہی کرتا رہوں گا

یہ ساری باتیں چاہت کی یوں ہی کرتا رہوں گا محبت میں مگر کچھ کچھ کمی کرتا رہوں گا مری نظروں میں ہے جغرافیہ اس کے بدن کا تصور باندھ لوں گا شاعری کرتا رہوں گا ملے گا جب تلک مجھ کو نہ وہ جان تمنا میں سب کاموں کو اپنے ملتوی کرتا رہوں گا ملوں جس سے خفا دو دن میں کر دیتا ہوں اس کو میں آخر ...

مزید پڑھیے

جمع ہیں سارے مسافر نا خدائے دل کے پاس

جمع ہیں سارے مسافر نا خدائے دل کے پاس کشتیٔ ہستی نظر آتی ہے اب ساحل کے پاس سارباں کس جستجو میں ہے یہاں مجنوں کہاں اب بگولا بھی نہ بھٹکے گا ترے محمل کے پاس ابتدائے عشق یعنی ایک مہلک حادثہ آ گئی ہستی یکایک موت کی منزل کے پاس نعمتوں کو دیکھتا ہے اور ہنس دیتا ہے دل محو حیرت ہوں کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3956 سے 6203