امیدوں سے دل برباد کو آباد کرتا ہوں
امیدوں سے دل برباد کو آباد کرتا ہوں مٹانے کے لیے دنیا نئی ایجاد کرتا ہوں
امیدوں سے دل برباد کو آباد کرتا ہوں مٹانے کے لیے دنیا نئی ایجاد کرتا ہوں
قدم قدم ہے اندھا موڑ دیکھ کے اپنی آنکھیں پھوڑ کبھی تو آنکھ کی پیاس بجھا کبھی تو دل کا پتھر توڑ ہمت ہے تو چوراہے میں اپنی چپ کا بھانڈا پھوڑ دل کی تمنا دل میں رکھ بند گلی کا رستہ چھوڑ تو بھی تصورؔ خواب وہ دیکھ آنکھ سے جو لے نیند نچوڑ
دشت میں مثل صدا کے تھے کیا کیا نقش وفا کے تھے توڑ گئے جو کعبۂ دل بندے خاص خدا کے تھے سال مہینے دن اور رات جھونکے چار ہوا کے تھے مجھ بے گھر کے پاس رہے جتنے سیل بلا کے تھے میں بھی تصورؔ ان میں تھا جن کے تیر خطا کے تھے
تیرے حسن کی خیر بنا دے اک دن کا سلطان مجھے آنکھوں کو بس دیکھنے دے اور ہونٹوں سے پہچان مجھے وصل میں اس کے مر جانے کی حسرت میرے دل میں ہے اور بچھڑ کر جینے کا بھی باقی ہے ارمان مجھے خون رگوں میں رک جائے گا لیکن سانس نہ اکھڑے گی کس کو بھول کے خوش بیٹھا ہوں جب آئے گا دھیان مجھے میں ...
خامشی سے سوال میرا تھا مجھ سے پہلے زوال میرا تھا وقت کا دھیان آیا تھا اس کو موسموں کا خیال میرا تھا معنی در معنی اس کی تھی پرواز لفظ در لفظ جال میرا تھا گھر کے باہر تھی کار دفتر کی گھر کے اندر کا حال میرا تھا اے تصورؔ نہ یاد آیا کبھی شعر جو حسب حال میرا تھا
منظر دے بینائی دے کاف اور نون دکھائی دے سب ہیں چپ اور اک اک لفظ دیواروں کو سنائی دے تو آئے تو مجھ کو بھی عید کا چاند دکھائی دے خالی ہاتھ چلوں میں کیوں مجھ کو کسی کی آئی دے میں دکتور تصورؔ ہوں مجھے حروف اڑھائی دے
ساتھ میں چاند وہ ہمارا تھا دن میں بھی رات کا نظارا تھا بزم میں دل سبھی کے بیٹھ گئے اس نے ہنس کر مجھے پکارا تھا اب جو چاہے تو تو ڈبو دے مجھے پار بھی تو نے ہی اتارا تھا پاؤں کے نیچے تھی دبی دنیا مٹھیوں میں ہر اک ستارہ تھا ایک وہ ہی تو تھا مرا ہمدم میرا اپنی طرف اشارہ تھا اور پھر ...
اشک ہیں غم ہے لا شعوری ہے یعنی اپنی کہانی پوری ہے ہم سفر تو ہیں ہم خیال نہیں ہائے یہ کس طرح کی دوری ہے وصل کی آرزو ہے جائز پر عشق میں ہجر بھی ضروری ہے پھر وہی میں ہوں پھر وہی چوکھٹ پھر کوئی آرزو ادھوری ہے عشق سے کیسے منہ چرائیں ہم اپنا پیشہ ہی جی حضوری ہے
سفر آسان ہوتا جا رہا ہے بہت نقصان ہوتا جا رہا ہے پرندہ قید میں ہے اور خوش ہے قفس حیران ہوتا جا رہا ہے گھٹن ہے بے قراری اور خموشی بدن زندان ہوتا جا رہا ہے یقیناً زخم سارے بھر گئے ہیں پہ دل ہلکان ہوتا جا رہا ہے کہاں کو جا رہے ہیں سب پرندے شجر ویران ہوتا جا رہا ہے
کیا عجب چال چل رہا ہے دن حادثوں سے سنبھل رہا ہے دن وقت سے پہلے جا رہا ہے کوئی وقت سے پہلے ڈھل رہا ہے دن ایک آہٹ پہ اڑ گئی ہے رات اور اب ہاتھ مل رہا ہے دن رات بیٹھی ہوئی ہے کونے میں اور چھت پر ٹہل رہا ہے دن صبح ہونے سے رات ڈھلنے تک کتنے چہرے بدل رہا ہے دن آج ہونا ہے امتحاں میرا آج ...