قومی زبان

قدم قدم ہے اندھا موڑ

قدم قدم ہے اندھا موڑ دیکھ کے اپنی آنکھیں پھوڑ کبھی تو آنکھ کی پیاس بجھا کبھی تو دل کا پتھر توڑ ہمت ہے تو چوراہے میں اپنی چپ کا بھانڈا پھوڑ دل کی تمنا دل میں رکھ بند گلی کا رستہ چھوڑ تو بھی تصورؔ خواب وہ دیکھ آنکھ سے جو لے نیند نچوڑ

مزید پڑھیے

دشت میں مثل صدا کے تھے

دشت میں مثل صدا کے تھے کیا کیا نقش وفا کے تھے توڑ گئے جو کعبۂ دل بندے خاص خدا کے تھے سال مہینے دن اور رات جھونکے چار ہوا کے تھے مجھ بے گھر کے پاس رہے جتنے سیل بلا کے تھے میں بھی تصورؔ ان میں تھا جن کے تیر خطا کے تھے

مزید پڑھیے

تیرے حسن کی خیر بنا دے اک دن کا سلطان مجھے

تیرے حسن کی خیر بنا دے اک دن کا سلطان مجھے آنکھوں کو بس دیکھنے دے اور ہونٹوں سے پہچان مجھے وصل میں اس کے مر جانے کی حسرت میرے دل میں ہے اور بچھڑ کر جینے کا بھی باقی ہے ارمان مجھے خون رگوں میں رک جائے گا لیکن سانس نہ اکھڑے گی کس کو بھول کے خوش بیٹھا ہوں جب آئے گا دھیان مجھے میں ...

مزید پڑھیے

خامشی سے سوال میرا تھا

خامشی سے سوال میرا تھا مجھ سے پہلے زوال میرا تھا وقت کا دھیان آیا تھا اس کو موسموں کا خیال میرا تھا معنی در معنی اس کی تھی پرواز لفظ در لفظ جال میرا تھا گھر کے باہر تھی کار دفتر کی گھر کے اندر کا حال میرا تھا اے تصورؔ نہ یاد آیا کبھی شعر جو حسب حال میرا تھا

مزید پڑھیے

منظر دے بینائی دے

منظر دے بینائی دے کاف اور نون دکھائی دے سب ہیں چپ اور اک اک لفظ دیواروں کو سنائی دے تو آئے تو مجھ کو بھی عید کا چاند دکھائی دے خالی ہاتھ چلوں میں کیوں مجھ کو کسی کی آئی دے میں دکتور تصورؔ ہوں مجھے حروف اڑھائی دے

مزید پڑھیے

ساتھ میں چاند وہ ہمارا تھا

ساتھ میں چاند وہ ہمارا تھا دن میں بھی رات کا نظارا تھا بزم میں دل سبھی کے بیٹھ گئے اس نے ہنس کر مجھے پکارا تھا اب جو چاہے تو تو ڈبو دے مجھے پار بھی تو نے ہی اتارا تھا پاؤں کے نیچے تھی دبی دنیا مٹھیوں میں ہر اک ستارہ تھا ایک وہ ہی تو تھا مرا ہمدم میرا اپنی طرف اشارہ تھا اور پھر ...

مزید پڑھیے

اشک ہیں غم ہے لا شعوری ہے

اشک ہیں غم ہے لا شعوری ہے یعنی اپنی کہانی پوری ہے ہم سفر تو ہیں ہم خیال نہیں ہائے یہ کس طرح کی دوری ہے وصل کی آرزو ہے جائز پر عشق میں ہجر بھی ضروری ہے پھر وہی میں ہوں پھر وہی چوکھٹ پھر کوئی آرزو ادھوری ہے عشق سے کیسے منہ چرائیں ہم اپنا پیشہ ہی جی حضوری ہے

مزید پڑھیے

سفر آسان ہوتا جا رہا ہے

سفر آسان ہوتا جا رہا ہے بہت نقصان ہوتا جا رہا ہے پرندہ قید میں ہے اور خوش ہے قفس حیران ہوتا جا رہا ہے گھٹن ہے بے قراری اور خموشی بدن زندان ہوتا جا رہا ہے یقیناً زخم سارے بھر گئے ہیں پہ دل ہلکان ہوتا جا رہا ہے کہاں کو جا رہے ہیں سب پرندے شجر ویران ہوتا جا رہا ہے

مزید پڑھیے

کیا عجب چال چل رہا ہے دن

کیا عجب چال چل رہا ہے دن حادثوں سے سنبھل رہا ہے دن وقت سے پہلے جا رہا ہے کوئی وقت سے پہلے ڈھل رہا ہے دن ایک آہٹ پہ اڑ گئی ہے رات اور اب ہاتھ مل رہا ہے دن رات بیٹھی ہوئی ہے کونے میں اور چھت پر ٹہل رہا ہے دن صبح ہونے سے رات ڈھلنے تک کتنے چہرے بدل رہا ہے دن آج ہونا ہے امتحاں میرا آج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3957 سے 6203