قومی زبان

کنگال

تمہیں بھی معلوم ہے مجھے بھی کہ پاس میرے تو کچھ نہیں ہے جو زر پرستی کے اس جہاں میں مجھے بھی کچھ معتبر بنا دے نہ قیمتی ہے لباس میرا نہ مال و دولت زر و جواہر کہ جن میں تم کو شریک کر لوں مری تو دولت عجیب سی ہے مری متاع جہاں میں تم کو بہت سی رسوائیاں ملیں گی وفا کے آنسو گماں کی ...

مزید پڑھیے

عافیت کی تلاش میں

کراچی ایک زخمی خانماں برباد کچھوا جس کے سب بازو تھکن سے بے بسی سے شل ہوئے ہیں جہاں بھر کے دکھوں کا بوجھ اٹھائے بہت ہلکان خشکی پر پڑا ہے اب اپنے آنسوؤں سے زخم بھرنا چاہتا ہے جو انڈے بچ گئے ہیں وہ سنبھالے سمندر میں اترنا چاہتا ہے

مزید پڑھیے

بکھر کے ریت ہوئے ہیں وہ خواب دیکھے ہیں

بکھر کے ریت ہوئے ہیں وہ خواب دیکھے ہیں مری نگاہ نے کتنے سراب دیکھے ہیں سحر کہیں تو کہیں کیسے اپنی صبحوں کو کہ رات اگلتے ہوئے آفتاب دیکھے ہیں کوئی بھی رت ہو ملی ہے دکھوں کی فصل ہمیں جو موسم آیا ہے اس کے عتاب دیکھے ہیں میں بد گمان نہیں ہوں مگر کتابوں میں تمہارے نام کئی انتساب ...

مزید پڑھیے

اونٹ کی مینگنیں

انور صابری لائل پور کے مشاعرے میں کلام پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ میری طبیعت علیل ہے ، اس لیے میں آج صرف پانچ شعر ہی سناؤں گا ۔ ہری چند اختر نے جو مشاعرے کی نظامت کررہے تھے ‘ فرمایا: ’’حضرت،یہ تو ایسے لگے گا جیسے اونٹ مینگنیں دے رہا ہو۔‘‘ ( انورؔ صابری دیوقامت شکل ...

مزید پڑھیے

آواز

اس کی آمد کے تصور سے سنبھلتی آواز اس کی قربت کی تمازت سے پگھلتی آواز صبح دم شوخ پرندوں کے چہکنے کی صدا بند کلیوں کے نئے روپ کی کھلتی آواز بحر ذخار کی عادت ہے یہ ٹھہرا ہوا شور تیز دریاؤں کے پانی کی مچلتی آواز کوہساروں کے چٹخنے سے گرجنے کی صدا اور چشموں کی روانی سے اچھلتی آواز گردش ...

مزید پڑھیے

ہجر

اک مہیب سناٹا ہجر کا گھنا جنگل جس کے سب درختوں پر وحشتوں کا پیراہن پیرہن سے لپٹی ہے نا امیدیوں کی بیل بیل کا ہر اک پتا اپنے دامن دل میں ہجر کا گھنا جنگل

مزید پڑھیے

وہ عالم خواب کا تھا

وہ عالم خواب کا تھا سو رہے تھے سب مگر اک وہ اکیلا جاگ اٹھا تھا کچھ ایسے نیند ٹوٹی تھی کہ ہر ہر عضو بے کل تھا بدن سارا تغیر کی طلب میں ماہی بے آب کی صورت تڑپتا تھا جنوں‌‌‌ و بے قراری نے رگوں میں بجلیاں بھر دیں ہزاروں سال سے رکھے ہوئے پتھر کو سرکایا وہ اپنے غار سے باہر نکل ...

مزید پڑھیے

علی محسن ایم بی اے، خالد بن ولید روڈ

علی محسن کے ماموں لٹ کے انبالہ سے جب لاہور آئے تھے کلام پاک علم اور سجدہ گاہیں ساتھ لائے تھے چنانچہ ان کے گھر میں مستقل دلدل بھی پلتا تھا ہمیشہ نو محرم کو علم گھر سے نکلتا تھا ہر عاشورے علی محسن بڑے ماموں کے گھر لاہور ہوتا تھا وہیں دو چار دن رک کر کراچی جب وہ آتا تھا تو بیڈن روڈ کے ...

مزید پڑھیے

انیائے

رادھا جی کے پتی ابھے کرشن کی پتنی رکمنی رادھا کرشن کی پریمکا کرشن جی ان کے پریمی جگ میں چاروں اور کریں سب ان کے نام کا جاپ ہم جو من کو ہار دیں ہمیں لگے ہے پاپ بھول کے سب کچھ سوہنی کیا شوہر کیا سنسار مہینوال کی پریت میں کرتی بپھرا دریا پار سوہنی ٹھہری دیویکا اسے کریں پرنام ہم جو من ...

مزید پڑھیے

التجا

یہ عورت ہے اسے تم سات پردوں میں چھپاؤ اسے تم باندھ کر رکھو یہ بکری سے زیادہ قیمتی ہے کہ بکری دودھ دیتی ہے مگر جب کاٹ کر کھا لو تو پھر کچھ بھی نہیں رہتا یہ عورت ہے اسے کچا چبا لو پھر بھی یہ زندہ رہے گی اور تمہارے کام آئے گی تم اس کے ذہن و دل پر اور اس کے جسم کے ایک ایک حصے پر خلا میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3951 سے 6203