قومی زبان

سراب ہے کہ نہیں کیوں جناب ہے کہ نہیں

سراب ہے کہ نہیں کیوں جناب ہے کہ نہیں ہماری زندگی مثل حباب ہے کہ نہیں ہماری بات کا ناصح جواب ہے کہ نہیں گناہ عشق پہ کوئی عذاب ہے کہ نہیں سبق پڑھیں گے محبت کا تجھ سے پر یہ بتا تری کتاب میں سوکھا گلاب ہے کی نہیں سبق کیوں امن کا ہم ہی پڑھیں کتابوں میں تمہارے پاس بھی کوئی کتاب ہے کہ ...

مزید پڑھیے

زیست کی صورت نکالی ہے ابھی

زیست کی صورت نکالی ہے ابھی میں نے توبہ توڑ ڈالی ہے ابھی جوڑ کر ٹکڑے تیری تصویر کے اک نئی صورت بنا لی ہے ابھی جو بھی مجھ کو بھول کر شاداب ہیں میں نے ان پر دھول ڈالی ہے ابھی زندگی عیب تنافر ہے مگر ٹکڑے کر کر کے نبھا لی ہے ابھی بن کے بیوی شيرنی ہو جائے گی دیکھنے میں بھولی بھالی ہے ...

مزید پڑھیے

میری دوست

میری ایک دوست ہم دم اور ہم راز اس کی گہری اداس آنکھیں سرود کے سروں جیسی برگد کی چھالوں جیسے بال ہونٹوں پر ان کہا پیار لمس میں جاں گداز نرمی اس کی خاموشی میں آخری دم تک میری ہم سفری کا وعدہ ہے یاس نام ہے اس کا

مزید پڑھیے

ہیروشیما

ہیروشیما کی سر زمیں پر سرکاری دفتر کے گنبد کے سامنے جہاں کئی برس پہلے میرے ہی ہاتھوں نے بم گرایا تھا آج میں تاریخ کا گناہ گار اپنے وجود کے معنی کی تلاش میں سر جھکائے کھڑا ہوں جہاں ہر جواب فقط سناٹا ہے نہ کسی سانس کی آواز نہ چراغ کی لو اس سناٹے میں میرے بم سے جلے پیڑ سے ایک انکر ...

مزید پڑھیے

تاج محل

پونم کی روشنی میں تاج محل کمال کی سرحد کے اس پار بے حد اکیلا اور بہت اداس جیسے کوئی بلا کی حسینہ ہجوم کے بیچ کھڑی ہر نگاہ سے ناآشنا ہر نگاہ میں برہنہ

مزید پڑھیے

سکون

ایک طویل عمر تم اور میں اپنے اپنے گھروں میں بند تھے جہاں زندگی نے کڑے پہرے لگا رکھے تھے اصولوں کے رشتوں کے اور فرائض کے اس تمام مدت میں جو شاید سترہ برس تھی یا ستر ایک دوسرے کی سانس کی آواز نے ہمیں تپش دی آواز جو بہت ہلکی بہت مدھم تھی تپش جو دور تھرتھراتی لو سے بھی ملائم اور ایک ...

مزید پڑھیے

میری خاموشی

میری خاموشی میں وقت کی آواز پنہاں ہے اس میں ہے شمع کی لرزاں جنبش اور آگ کی گرمی طوفان کا اضطراب ہے اور سیلاب کی توانائی میری خاموشی میں انقلاب زمانہ نہاں ہے

مزید پڑھیے

لا عنوان

وہ ان گنت خط جو کتنی ہی زندگیوں میں میں نے تمہیں لکھے تھے اور تم نے ہر ایک خط مسکراتے ہنستے روتے کئی کئی بار پڑھا اور اٹھا کر رکھ دیا ایک بار اور پڑھنے کو جیسے یہ خط ہی تمہارا اور میرا سب کچھ ہوں ان خطوں میں ہم نے کئی رنگ ڈھالے سفید پاکیزگی سبز تازگی سرخ تمازت اور نیلی گہرائی تم ...

مزید پڑھیے

تم

اس شام تمہاری آنکھوں میں جلتی ہوس کی لو مجھے وقت کی شاہراہ پر بہت دور لے آئی جہاں تم نے ممنوع پھل کھا کر خدا کی حکم عدولی کی تھی اس عظیم گناہ میں تھا تمہارے اپنے وجود کا احساس اور تھا اس لو سے دمکتے بدن میں میرے انسان ہونے کا عکس

مزید پڑھیے

نیم پاگل

وہ ایک نیم پاگل لڑکی بیٹھی رہتی تھی کنارے پر باندھے امید کی ڈور کہ لوٹ آئے گی اس کی کشتی جو بہہ گئی تھی تیز لہروں میں کبھی کنارے پر ہی دکھتی تھی صبح شام ہر آنے والی لہر کی آہٹ بھر سے چمک جاتی تھیں اس کی آنکھیں لیکن ہر آتی لہر خالی ہاتھ ہی آتی اور لوٹتی تو لے جاتی پیروں کی زمیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3944 سے 6203