قومی زبان

تم

تم آئے آپ ہی یا کہ بلائے گئے کچھ یاد نہیں اب جو ٹھہرے ہو میرے ذہن میں تو اس کتاب کے موافق جسے بک شیلف میں سجانے سے بھی ڈرا ہوں میں اکثر کسی اور کی نظر میں چڑھ جائے شاید یہ گوارا ہی نہیں ہر حرف جس کا یاد ہے زبانی مجھ کو اور ہر صفحہ کی عبارت میں جس کی پڑھا ہے خود کو کئی کئی بار میں ...

مزید پڑھیے

پردہ داری

زندگی کے سارے صفحے کہیں بھی کبھی بھی کھول دینا مناسب نہیں کچھ بے ایمانی ہو جاتی ہے ان میں لکھے حرف بے پردہ ہوتے ہی قدر تو ہمیشہ پردہ داری کی ہی ہوا کرتی ہے جیسے حجاب میں لپٹی کوئی دل ربا یا پھر کسی کتاب کا بنا پڑھا ہوا وہ آخری پنا

مزید پڑھیے

دوست

مردہ سناٹوں اور گھپ اندھیروں کو چیر کر لے چلا ایک ہاتھ مجھے خود ہی سے ملانے دیکھ کر اس کے یقین پر اپنا یقین لگتا ہے میرا کوئی دوست ہی رہا ہوگا

مزید پڑھیے

شوہر کی فطرت

ہم کو کچھ ہلچل مچانی چاہئے دل کی دنیا پھر بسانی چاہئے چاہے سر کے بال ہوں پورے سفید پھر بھی قسمت آزمانی چاہئے ہے ضرورت زوجۂ ثانی کی اب پیار کی تازہ کہانی چاہئے ہو گیا ہے گھر میں کچھ زیادہ سکوں گھر میں اب بچوں کی نانی چاہئے دیکھتے ہیں روز کھڑکی سے جسے وہ پڑوسن گھر میں آنی ...

مزید پڑھیے

امریکہ اور بیوی

میری بیوی ناشتہ کرتی نہ تھی میرے بغیر رات کا کھانا بھی میرے ساتھ ہی کھاتی تھی وہ پہنچی امریکہ تو اس کو لگ گئی ایسی ہوا مجھ کو نکڑ سے بس اک برگر منگا دیتی تھی وہ دندناتی پھرتی تھی وہ اپنی کیڈیلاک میں بات کرتا تھا تو بس ٹی وی لگا لیتی تھی وہ تب پلاؤ اور بریانی تو بس اک خواب ...

مزید پڑھیے

شوہر کی فریاد

ہم اپنے کمرے میں بے مونس و بے یار بیٹھے ہیں کہ ڈرائنگ روم میں بیوی کے رشتہ دار بیٹھے ہیں یہاں ہم بیٹھ کر چائے کے اک کپ کو ترستے ہیں وہاں سب لے کے بسکٹ کیک کے انبار بیٹھے ہیں ہمارا بس چلے تو سب کو ہی کچلا کھلا دیں ہم مگر قانون سے ڈرتے ہیں اور لاچار بیٹھے ہیں نہ چھیڑو ہم کو اے بی بی ...

مزید پڑھیے

ڈاکٹر بیوی

مجھ کو ہے دل کا عارضہ اور میری بیوی ڈاکٹر پھر بھلا ہر مزے کی چیز مجھ سے نہ دور جائے کیوں لنچ مرا ہے ابلی دال ناشتہ ایک سادہ ٹوسٹ روسٹ کی خوشبو پھر بھلا ناک میں میری آئے کیوں اصلی گھی سونگھ سکتا ہوں مکھن کو دیکھ سکتا ہوں کھانے کی آرزو مگر ناتواں دل میں آئے کیوں حال مرا نہ پوچھئے ...

مزید پڑھیے

ہو نہ اقرار تو انکار پے ٹالے مجھ کو

ہو نہ اقرار تو انکار پے ٹالے مجھ کو اس کا چپ رہنا کہیں مار نہ ڈالے مجھ کو کچھ گہر ٹوٹ کے قیمت نہیں کھوتے اپنی میں اگر ٹوٹ کے بکھروں تو اٹھا لے مجھ کو میں انا چھوڑ کے آیا ہوں ترے دروازے ہے جہاں تک تری حد اتنا جھکا لے مجھ کو سانس کے پہلے کہیں ٹوٹ نہ جائے امید اب کوئی وعدۂ فردا پہ ...

مزید پڑھیے

مسکراؤ کہ عید ہو جائے

مسکراؤ کہ عید ہو جائے گنگناؤ کے عید ہو جائے اپنے چھوٹے بڑوں کی سب غلطی بھول جاؤ کہ عید ہو جائے بے دلی سے نہ یوں گلے سے لگو دل ملاؤ کہ عید ہو جائے گر تمہیں کوئی اپنا کہہ دے تو مان جاؤ کہ عید ہو جائے جا کے اپنے بڑوں کے قدموں میں سر جھکاؤ کہ عید ہو جائے یوں تو گھر میں تمام مہماں ...

مزید پڑھیے

سر پہ دستار رکھے ہاتھ میں کاسہ رکھے

سر پہ دستار رکھے ہاتھ میں کاسہ رکھے کون اب جان پہ اپنی یہ تماشہ رکھے کوئی دریا نہ بجھا پایا مری تشنہ لبی اب کوئی لائے مرے ہونٹوں پہ صحرا رکھے اس کو ٹھکرا دوں اگر سر پہ بٹھا لے گی مجھے میں جو پھرتا ہوں ابھی سر پہ یہ دنیا رکھے ایک مدت سے نہیں دیکھا ہے چہرہ ان کا ایک مدت سے ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3945 سے 6203