قومی زبان

شریک درد دنیا میں بڑی مشکل سے ملتا ہے

شریک درد دنیا میں بڑی مشکل سے ملتا ہے دعائیں جو دوا سے دل کا مارا دل سے ملتا ہے فریب آسماں غربت کی راتیں دیکھتے جاؤ کہ ہر تارہ چراغ سرحد منزل سے ملتا ہے نہ جانے روح کس ناکام کی موجوں میں بیکل سے سفینہ ڈگمگا جاتا ہے جب ساحل سے ملتا ہے تمہیں تو قدر کرنی چاہیے تھی اپنے عاشق ...

مزید پڑھیے

وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی

وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی شاید اب ان کو مجھ سے محبت نہیں رہی گھبرا رہا ہوں کیوں یہ غم ناروا سے اب کیا مجھ میں غم کے سہنے کی طاقت نہیں رہی تم کیا بدل گئے کہ زمانہ بدل گیا تسکین دل کی اب کوئی صورت نہیں رہی جینے کو جی رہے ہیں تمہارے بغیر بھی اس طرح جیسے جینے کی حسرت نہیں ...

مزید پڑھیے

جب ان کی نگاہ ستم دیکھتے ہیں

جب ان کی نگاہ ستم دیکھتے ہیں تو عالم کو جائے الم دیکھتے ہیں ہو اک آئنہ آئنے کے مقابل وہ زلفوں کے جب پیچ و خم دیکھتے ہیں چلے جائیں گے کیوں جھڑکتے ہو صاحب تمہاری نگاہ کرم دیکھتے ہیں نگاہیں تمہاری ہیں آنکھیں تمہاری تمہیں ہو جسے دل سے ہم دیکھتے ہیں خبر تک نگاہوں کو ہوتی نہیں ...

مزید پڑھیے

نہ منزل نہ راہ عدم دیکھتے ہیں

نہ منزل نہ راہ عدم دیکھتے ہیں مگر جانے والوں کو ہم دیکھتے ہیں عجب ناز سے ہاتھ سینے پہ رکھ کر وہ بیمار ہجراں کا دم دیکھتے ہیں جواب خط شوق کی یہ خلش ہے وہ ناخن پہ زور قلم دیکھتے ہیں محبت کے آنسو بھرے چشم تر میں حبابوں میں جوئے کرم دیکھتے ہیں کہاں ہو حیاتؔ اگ گزرتی ہے کیسی ادھر ...

مزید پڑھیے

اعتبار نگہ یار نے دم توڑ دیا

اعتبار نگہ یار نے دم توڑ دیا آج اک ہجر کے بیمار نے دم توڑ دیا زیست کے قافلۂ سالار نے دم توڑ دیا راہ الفت میں دل زار نے دم توڑ دیا ہے شفایاب مریض غم ہستی اے دوست زندگی تھک گئی آزار نے دم توڑ دیا کیا کیا آپ نے چہرہ سے ہٹا کر پردہ دفعتاً حسرت دیدار نے دم توڑ دیا کیا ترے ساغر دل کی ...

مزید پڑھیے

عشق کا فیصلہ نہیں ہوتا

عشق کا فیصلہ نہیں ہوتا مدعا بھی ادا نہیں ہوتا بھول جاتا ہوں سب گناہ کے وقت جیسے میرا خدا نہیں ہوتا کون سمجھے گا دل کی بیتابی اس پہ جب آسرا نہیں ہوتا غیر سے ملتے ہیں وہ چھپ چھپ کر گویا مجھ کو پتا نہیں ہوتا دم آخر بھی وہ نہ آئے حیاتؔ یہ بھی مجھ سے گلہ نہیں ہوتا

مزید پڑھیے

جلوؤں سے عیاں تیری حقیقت نہیں ہوتی

جلوؤں سے عیاں تیری حقیقت نہیں ہوتی آئینے میں آئینے کی صورت نہیں ہوتی کیا شاد رہے دہر میں باشندہ عدم کا پردیس میں جی لگنے کی صورت نہیں ہوتی مرجھائے ہوئے دل پہ جمیں کس کی نگاہیں کمہلائے ہوئے پھول کی قیمت نہیں ہوتی پابندیٔ آئین سے مجبور ہیں ورنہ درباں کو اسیروں سے عداوت نہیں ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد ہے میں ہوں کہ زندگی ہے یہی

تمہاری یاد ہے میں ہوں کہ زندگی ہے یہی مآل غم ہے یہی حاصل خوشی ہے یہی عدو پہ لطف و کرم اور مجھ پہ جور و ستم بتا دے میری وفاؤں کی تحفگی ہے یہی تمہاری دید سے تسکین قلب ہوتی ہے مری نگاہ کی بس وجہ تشنگی ہے یہی ترے حضور میں دھونی رمائے بیٹھا ہوں زمانہ کچھ بھی کہے اپنی زندگی ہے یہی کسی ...

مزید پڑھیے

طبیبوں سے نظر کی چوٹ پہچانی نہیں جاتی

طبیبوں سے نظر کی چوٹ پہچانی نہیں جاتی پریشاں ہیں کہ کیوں میری پریشانی نہیں جاتی کسی صورت مری آشفتہ سامانی نہیں جاتی بیاباں بس گئے اور گھر کی ویرانی نہیں جاتی فنا کے گھاٹ تک غم کی ستم رانی نہیں جاتی بہی جاتی ہیں آنکھیں اشک افشانی نہیں جاتی تمہارا حکم ہے وہ حکم جو ٹالا نہیں ...

مزید پڑھیے

قریب موت کھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ

قریب موت کھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ قضا سے آنکھ لڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ نہ جاؤ تم ابھی تاروں کا دل دھڑکتا ہے تمام رات پڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ بجھے بجھے سے ستارے تھکی تھکی سی نگاہ بڑی اداس گھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ نہیں امید کہ ہم آج کی سحر دیکھیں یہ رات ہم پہ کڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ حیاتؔ کا دم آخر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3931 سے 6203