شریک درد دنیا میں بڑی مشکل سے ملتا ہے
شریک درد دنیا میں بڑی مشکل سے ملتا ہے دعائیں جو دوا سے دل کا مارا دل سے ملتا ہے فریب آسماں غربت کی راتیں دیکھتے جاؤ کہ ہر تارہ چراغ سرحد منزل سے ملتا ہے نہ جانے روح کس ناکام کی موجوں میں بیکل سے سفینہ ڈگمگا جاتا ہے جب ساحل سے ملتا ہے تمہیں تو قدر کرنی چاہیے تھی اپنے عاشق ...