کماں اٹھاؤ کہ ہیں سامنے نشانے بہت
کماں اٹھاؤ کہ ہیں سامنے نشانے بہت ابھی تو خالی پڑے ہیں لہو کے خانے بہت وہ دھوپ تھی کہ ہوئی جا رہی تھی جسم کے پار اگرچہ ہم نے گھنے سائے سر پہ تانے بہت ابھی کچھ اور کا احساس پھر بھی زندہ ہے نواح جسم کے اسرار ہم نے جانے بہت زیادہ کچھ بھی نہیں ایک مشت خاک سے میں ذرا سی چیز کو پھیلا ...