قومی زبان

کماں اٹھاؤ کہ ہیں سامنے نشانے بہت

کماں اٹھاؤ کہ ہیں سامنے نشانے بہت ابھی تو خالی پڑے ہیں لہو کے خانے بہت وہ دھوپ تھی کہ ہوئی جا رہی تھی جسم کے پار اگرچہ ہم نے گھنے سائے سر پہ تانے بہت ابھی کچھ اور کا احساس پھر بھی زندہ ہے نواح جسم کے اسرار ہم نے جانے بہت زیادہ کچھ بھی نہیں ایک مشت خاک سے میں ذرا سی چیز کو پھیلا ...

مزید پڑھیے

دیکھوں وہ کرتی ہے اب کے علم آرائی کہ میں

دیکھوں وہ کرتی ہے اب کے علم آرائی کہ میں ہارتا کون ہے اس جنگ میں تنہائی کہ میں بھول بیٹھا ہوں کہ افلاک بھی کچھ ہوتے ہیں اپنی وسعت میں ملی مجھ کو وہ گہرائی کہ میں آج تک اپنی رہائی کی دعا کرتا ہوں اب کے زنجیر ہواؤں نے وہ پہنائی کہ میں خود کو پانے لگا تنہائی کی تاریکی میں اس قدر ...

مزید پڑھیے

جو نقش‌ برگ کرم ڈال ڈال ہے اس کا

جو نقش‌ برگ کرم ڈال ڈال ہے اس کا تو دشت آگ اگلتا جلال ہے اس کا دیار دیدہ و دل میں میں سوچتا ہوں اسے کہ اس سے آگے تصور محال ہے اس کا ادھوری بات ہے ذکر مقیم شہر جنوب ہر اک مسافر راہ شمال ہے اس کا بدن کے دشت میں اس کی ہی گونج ہے ہر سو جواب اس کے ہیں ہر اک سوال ہے اس کا اسی کا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

خود پر کوئی طوفان گزر جانے کے ڈر سے

خود پر کوئی طوفان گزر جانے کے ڈر سے میں بند ہوں کمرے میں بکھر جانے کے ڈر سے یہ لوگ مجھے خون کا تاجر نہ سمجھ لیں میں تیغ لیے پھرتا ہوں سر جانے کے ڈر سے ہر سائے پہ آہٹ پہ نظر رکھتا ہوں شب بھر بستر پہ نہیں جاتا ہوں ڈر جانے کے ڈر سے میں ٹوٹنے دیتا نہیں رنگوں کا تسلسل زخموں کو ہرا کرتا ...

مزید پڑھیے

اک قصۂ طویل ہے افسانہ دشت کا

اک قصۂ طویل ہے افسانہ دشت کا آخر کہیں تو ختم ہو ویرانہ دشت کا مجھ کو بھی غرق بحر تماشا میں کر دیا اب حد سے بڑھتا جاتا ہے دیوانہ دشت کا تعویذ آب کے سوا چارہ نہیں کوئی آسیب تشنگی سے ہے یارانہ دشت کا تو نے شکست کھائی محاذ قیام پر اب سکۂ سفر میں دے ہرجانہ دشت کا ہوتا نہیں جو خالی ...

مزید پڑھیے

شعاع زر نہ ملی رنگ شاعرانہ ملا

شعاع زر نہ ملی رنگ شاعرانہ ملا متاع نور سے کیا مجھ کو منصفانہ ملا میں کس سے پوچھوں کہ اس سیل خاک سے باہر کسے نکلنا نہ تھا کس کو راستہ نہ ملا کہیں دکھائی نہ دی انجم دعا کی چمک گھنے اندھیرے میں اک ہاتھ بھی اٹھا نہ ملا بھٹک رہا ہوں میں اس دشت سنگ میں کب سے ابھی تلک تو در آئینہ کھلا ...

مزید پڑھیے

سینے میں چراغ جل رہا ہے

سینے میں چراغ جل رہا ہے ماتھے سے لہو ابل رہا ہے ہونٹوں پہ چمن کھلے ہوئے ہیں آنکھوں سے دھواں نکل رہا ہے پیکر پہ اگے ہوئے ہیں کانٹے احساس کا پیڑ پھل رہا ہے باطن میں بپا ہے ایک طوفاں دریا ہے کہ رخ بدل رہا ہے کیا وقت پڑا ہے اے غم جاں خود اپنا وجود کھل رہا ہے میں جس کی تلاش کو چلا ...

مزید پڑھیے

اک بھیانک تیرگی ہے روشنی اے روشنی

اک بھیانک تیرگی ہے روشنی اے روشنی شمع جاں بجھنے لگی ہے روشنی اے روشنی کیا کوئی بھٹکا ہوا جگنو ادھر بھی آئے گا رات گہری ہو چلی ہے روشنی اے روشنی آسمانوں پر ستارے ہیں نہ سینوں میں شرار یہ قیامت کی گھڑی ہے روشنی اے روشنی ختم کب ہوگا یہ احساس زیاں کا رت جگا ایک اک لمحہ صدی ہے روشنی ...

مزید پڑھیے

چھیڑئیے ساز زندگی نغمہ نواز ہو نہ ہو

چھیڑئیے ساز زندگی نغمہ نواز ہو نہ ہو آہ تو کر کے دیکھیے سوز میں ساز ہو نہ ہو دیکھیے قابل قبول اپنی نماز ہو نہ ہو سجدہ تو کر جبین شوق در گہہ ناز ہو نہ ہو پیر مغاں کے نام پر ساقی ہر اک کو مست کر آج کے بعد سال بھر میکدہ باز ہو نہ ہو ضبط غم وفور شوق اور دل ناصبور عشق مجھ کو تو ہے غرور ...

مزید پڑھیے

زمیں کے ذرے ذرے نالہ و فریاد کرتے ہیں

زمیں کے ذرے ذرے نالہ و فریاد کرتے ہیں چلے آؤ در و دیوار تم کو یاد کرتے ہیں مزا آتا ہے کچھ ان کو ہمارا دل دکھانے میں کبھی ہم نالہ کرتے ہیں کبھی فریاد کرتے ہیں بتا دے اے نظر سے دور رہ کر روٹھنے والے کسی کی اس طرح دنیائے دل برباد کرتے ہیں مریض ہجر کی بالیں پہ تم اک بار آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3930 سے 6203