قومی زبان

شناسائے صلیب غم بدن ہے

شناسائے صلیب غم بدن ہے یہ اپنا آپ ہی گویا کفن ہے مجھے رسوا کیا کم مائیگی نے مرا ہی ظرف مجھ پر طعنہ زن ہے پتا دیتی ہے لو یہ تھرتھرا کر فسردہ دل چراغ انجمن ہے لگاؤ تہمت عصیاں نہ اس پر نہیں یوسف کا میرا پیرہن ہے عزیز مصر اور قرب زلیخا نگار خواب کا یہ حسن ظن ہے فدائی زندگی پائیں ...

مزید پڑھیے

میکدے کے بجھ گئے سارے چراغ

میکدے کے بجھ گئے سارے چراغ کرب جاں سوزی سے دل ہارے چراغ میری پلکوں پر جلے تھے جو کبھی بن گئے وہ عرش کے تارے چراغ درد سے کچھ اس طرح سمٹی ہے لو آہ بھر کر چپ ہیں بے چارے چراغ میں وہ رہرو ہوں کہ جس کی راہ میں تیرگی نے ہر قدم وارے چراغ بختؔ ظرف انجمن پر رات بھر ٹمٹمائے درد کے مارے ...

مزید پڑھیے

آستانے لہو میں تر دیکھے

آستانے لہو میں تر دیکھے ابن مریم صلیب پر دیکھے یہ کرشمہ ہے دیر و کعبہ کا جلتے آتش بغیر گھر دیکھے دیکھی تقدیس ناچتے عریاں ہنستے اس پر حرم کے در دیکھے شمع روئی نہ حشر محفل پر لٹتے جذبات تا سحر دیکھے پھول مسلے گئے عقیدت کے جلوے محمل کے در بدر دیکھے چشم عبرت میں پڑ گئے ...

مزید پڑھیے

چشم جنوں میں حسن سلاسل ہے بے قرار (ردیف .. م)

چشم جنوں میں حسن سلاسل ہے بے قرار کس کی گلی میں جشن گریباں منائیں ہم شاید کسی کا ہاتھ بڑھے بن کے مدعی الزام کی تلاش میں دامن سجائیں ہم روزن بنے گا دیدۂ یعقوب ایک دن اپنے لیے خود آپ ہی زنداں بنائیں ہم چھپنے لگی ہے زیست اندھیروں کی گود میں آؤ تو پھر چراغ حوادث جلائیں ہم شہر طرب ...

مزید پڑھیے

ہم نے دیکھی وفا سہاروں کی

ہم نے دیکھی وفا سہاروں کی بن گئے دھول رہ گزاروں کی زخم بھرنے یہاں نہیں پاتے یہ تو بستی ہے دل فگاروں کی غم کدوں کے چراغ مدھم ہیں خشک آنکھیں ہیں غم کے ماروں کی اب تو ڈسنے لگے ہیں راز ہمیں یہ عنایت ہے راز داروں کی دامن گل ملا ہے صد پارہ یوں حقیقت کھلی ہے خاروں کی آشنائے ستم ہوئے ...

مزید پڑھیے

کارواں والوں نے کھو دی خود ہی اپنی آبرو (ردیف .. ن)

کارواں والوں نے کھو دی خود ہی اپنی آبرو لیلیٰٔ محمل نشیں کو پا بجولاں لائے ہیں قیس کی غیرت کا ملتا ہی نہیں کوئی سراغ کچھ بگولے ڈھونڈ کر صحرا بہ صحرا آئے ہیں ڈس لیا ہے روشنی نے دے کے جلوؤں کا فریب سانپ کتنے اس کے اجلے روپ میں لہرائے ہیں آئنے ٹوٹے ہیں کتنے دیکھ کر ان کا جمال آپ ...

مزید پڑھیے

جہاں اشک حسرت رواں چھوڑ آئے

جہاں اشک حسرت رواں چھوڑ آئے محبت وہاں نیم جاں چھوڑ آئے ہمارے ہی خوں کی گلوں میں ہے سرخی چمن در چمن داستاں چھوڑ آئے قفس کی دلآویزیاں ہم سے پوچھو قفس کے لیے آشیاں چھوڑ آئے بھرم کھل نہ جائے ترے آستاں کا ترا آستاں مہرباں چھوڑ آئے مسافر نہ بھٹکے گا رستے سے کوئی کہ ہر گام پر اک نشاں ...

مزید پڑھیے

شراب پی کر دیا ہے تم نے جو ہم کو جام شراب آدھا

شراب پی کر دیا ہے تم نے جو ہم کو جام شراب آدھا ازل سے لکھا ہوا تھا شاید کہ پائیں ہم تم ثواب آدھا گلے لگا کر لیا تھا بوسہ ہوئے تھے راضی وصال پر بھی تڑپ نے دل کو جگا دیا کیوں ابھی تو دیکھا تھا خواب آدھا فلک سے کہہ دو سحر قریں ہے گئی وہ ظلمت ہوئی شب آخر شفق حنا لے کے آپ آئے کہ اڑ گیا ہے ...

مزید پڑھیے

جاگے ہو رات محفل اغیار میں ضرور (ردیف .. ی)

جاگے ہو رات محفل اغیار میں ضرور آنکھوں میں اب وہ کفر کی ظلمت نہیں رہی جب کر دیا خزاں نے وہ رنگیں چمن تباہ وہ حسن اب کہاں وہ ملاحت نہیں رہی زاہد میں ہے نہ زہد نہ رندوں میں مے کشی پھولوں میں حسن غنچوں میں نکہت نہیں رہی ہاں اے حیاتؔ ہم نے زمانے کے دکھ سہے پھر بھی ہمیں کسی سے شکایت ...

مزید پڑھیے

میرے ہونے سے پہنچ جائے گا آرام کے ساتھ

میرے ہونے سے پہنچ جائے گا آرام کے ساتھ نامہ بر مجھ کو بھی لے چل مرے پیغام کے ساتھ وہ جو دیوانہ سا گلیوں میں پھرا کرتا ہے یاد کرتے ہیں وہ مجھ کو مگر الزام کے ساتھ یوں نظر کا ہوا ٹکراؤ کہ توبہ توبہ ہوش بھی ہو گیا رخصت دل ناکام کے ساتھ کس لیے اپنے مقدر پہ مجھے فخر نہ ہو ان کا دیوانہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3932 سے 6203