قومی زبان

خانۂ دل کہ معطر بھی بہت لگتا ہے

خانۂ دل کہ معطر بھی بہت لگتا ہے تیری یادوں سے منور بھی بہت لگتا ہے گرچہ ہلکا سا دھندلکا ہے تصور بھی ترا بند آنکھوں کو یہ منظر بھی بہت لگتا ہے سوچتے ہیں کہ جئیں گے تجھے جی بھر کے مگر زندگی تجھ سے ہمیں ڈر بھی بہت لگتا ہے پوچھ ہم سے کہ حقیقت میں ہے کیا تیرا وجود تیرے شانوں پہ یہ اک ...

مزید پڑھیے

پاس مذہب کا ہو یا بھرم ذات کا

پاس مذہب کا ہو یا بھرم ذات کا آدمی ہے غلام اپنی عادات کا دم نکل جائے گا اب جوابات کا سلسلہ چل پڑا ہے سوالات کا گھر کی دیواریں تو ہو چکیں نم مگر جانے اب کیا ارادہ ہے برسات کا لاکھ باتیں سناتی ہے دنیا ہمیں کیا برا ماننا تیری اک بات کا دو گھڑی مجھ سے روٹھا ہے میرا شعور سلسلہ منقطع ...

مزید پڑھیے

بیٹا جو ہونہار تھا زن کے اثر میں ہے

بیٹا جو ہونہار تھا زن کے اثر میں ہے کس کی نظر کا نور تھا کس کی نظر میں ہے نظریں تو تھک کے آ گئیں اپنے مدار پر اور اک خیال یار کہ اب تک سفر میں ہے پرواز کا خیال اسے کر دے گا منتشر برسوں ہوئے جو گرد جمی بال و پر میں ہے چلتا نہیں ہے مجھ کو پتہ کب میں بک گیا خوبی کمال کی یہ مرے راہبر ...

مزید پڑھیے

تم کو دیکھا وہ خواب تھا جانی

تم کو دیکھا وہ خواب تھا جانی نیند کا اک نقاب تھا جانی عشق کو تم گناہ سمجھتے رہے یہ تو کار ثواب تھا جانی ہر شکن میں عبارتیں مضمر اس کا چہرہ کتاب تھا جانی چھوڑ کر تم چلے گئے مجھ کو فیصلہ وہ خراب تھا جانی زندگی کی گھٹن ارے توبہ سانس لینا عذاب تھا جانی فطرتاً تم بھی تھے انا کے ...

مزید پڑھیے

نہ سطر سطر میں تلاش کر نہ عبارتوں میں تلاش کر

نہ سطر سطر میں تلاش کر نہ عبارتوں میں تلاش کر جو ہماری طرح فقیر ہیں انہیں حاشیوں میں تلاش کر جنہیں بھولنا ترا مشغلہ انہیں سلسلوں میں تلاش کر کبھی فاصلوں سے گریز کر کبھی قربتوں میں تلاش کر مجھے نا پسند قیام دل میں قرار جاں کے خلاف ہوں مجھے گردشوں کا جنون ہے مجھے راستوں میں تلاش ...

مزید پڑھیے

سینے محبتوں سے منور کیے گئے

سینے محبتوں سے منور کیے گئے ہم دوسروں سے ایسے بھی بہتر کیے گئے ویسے تمہارا خوف بھی کافی زیادہ تھا کچھ فیصلے تو خود سے بھی ڈر کر کیے گئے یک دم کسی نے ہم کو گلے سے لگا لیا صحرا سے ایک پل میں سمندر کیے گئے باقاعدہ ہمارا لیا جا رہا تھا نام پھر دیکھتے ہی دیکھتے دیگر کیے گئے اب آئنے ...

مزید پڑھیے

اک دوسرے میں ڈوب کے ہم پار ہو گئے

اک دوسرے میں ڈوب کے ہم پار ہو گئے اس بار یوں ملے ہیں کہ سرشار ہو گئے ویسے شروع میں ہمیں دشواریاں ہوئیں پھر اس کے بعد ہم بھی اداکار ہو گئے اس جسم کو توجہ کا فقدان لے گیا تم نے چھوا نہیں ہے تو مسمار ہو گئے کل کا کسے پتا مگر اتنا ضرور ہے ہم لوگ ذہنی طور پہ تیار ہو گئے دریا نہ دوریوں ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی خوف کے گرداب میں رہنا ہی نہیں

ہر گھڑی خوف کے گرداب میں رہنا ہی نہیں اب مجھے حلقۂ احباب میں رہنا ہی نہیں میں تری بات کرا دیتا ہوں خود سے لیکن آنکھ کہتی ہے کسی خواب میں رہنا ہی نہیں نام بھی لیتا نہیں اب وہ کہیں جانے کا کل جو کہتا تھا کہ پنجاب میں رہنا ہی نہیں ہم ملاقات کے اوقات بڑھا دیں لیکن دیر تک چاند کو ...

مزید پڑھیے

پرانے گھر کا جو سیدھا سا ایک نقشہ تھے

پرانے گھر کا جو سیدھا سا ایک نقشہ تھے یہ لوگ وہ ہیں جو پہلے کبھی فرشتہ تھے تمہارے حسن نظر نے بنا دیا منزل کبھی نہ جس پہ چلا کوئی ہم وہ رستہ تھے دیار دشمن جاں سے بہت سہارا ملا تمہارے شہر سے نکلے تو دل شکستہ تھے بڑے مزے میں رہے مصلحت کے شہزادے جو سچ کی راہ میں تھے ان کے حال خستہ ...

مزید پڑھیے

کھوئے ہوئے پلوں کی کوئی بات بھی تو ہو

کھوئے ہوئے پلوں کی کوئی بات بھی تو ہو وہ مل گیا ہے اس سے ملاقات بھی تو ہو برباد میں ہوا تو یہ بولا امیر شہر کافی نہیں ہے اتنا، فنا ذات بھی تو ہو دنیا کی مجھ پہ لاکھ نوازش سہی مگر میری ترقیوں میں ترا ہات بھی تو ہو ملتی ہیں گور یاں تو سر راہ بھی مگر پنگھٹ ہو گاگری ہو وہ دیہات بھی تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3881 سے 6203