قومی زبان

تاروں سے ماہتاب سے اور کہکشاں سے کیا

تاروں سے ماہتاب سے اور کہکشاں سے کیا میرا وطن زمیں ہے مجھے آسماں سے کیا ٹکڑے جگر کے ہوں کہ ٹپکتا ہو خون دل عنواں جو تم نہیں تو تمہیں داستاں سے کیا جینا جو جانتا ہو تڑپ کر ترے بغیر اس کو تری گلی سے ترے آستاں سے کیا ان کا نہ سامنا ہو اسی میں ہے عافیت کیا جانئے کہ نکلے ہماری زباں سے ...

مزید پڑھیے

میری ہستی میں مری زیست میں شامل ہونا

میری ہستی میں مری زیست میں شامل ہونا تجھ کو اے حسن مبارک ہو مرا دل ہونا خشک ہو جائیں جو آنکھیں تو غم فرقت کیا چاہئے اور بھی تر دیدۂ بسمل ہونا اس پہ مشکل کوئی پڑ جائے تو آساں ہو جائے حوصلہ بخشے جسے کام کا مشکل ہونا لا مرا جام اٹھا اپنی صراحی ساقی آج ہے گردش دوراں کے مقابل ...

مزید پڑھیے

آراستہ بزم عیش ہوئی اب رند پئیں گے کھل کھل کے

آراستہ بزم عیش ہوئی اب رند پئیں گے کھل کھل کے جھکتی ہے صراحی ساغر پر نغمے ہیں فضا میں قلقل کے آ تجھ کو بنا دوں رشک چمن میزان محبت میں تل کے عارض کو گلوں کی رعنائی بل زلف کو بخشوں سنبل کے گلشن میں بہار آئے کہ خزاں مرجھائے کلی یا پھول کھلیں صیاد تجھے کیا مطلب ہے تو اشک گنے جا بلبل ...

مزید پڑھیے

کتنا لمبا ترا سفر دریا

کتنا لمبا ترا سفر دریا اس کو کر تھوڑا مختصر دریا اس زمیں پر ہے بے گھری قسمت مر کے بن جائے اپنا گھر دریا مل گیا جا کے اب سمندر سے واہ تو ہو گیا امر دریا باندھ کر بندھ تجھ کو روک لیا معرکہ ہو گیا ہے سر دریا بیچ اپنے جو ہو گئی حائل اس بلندی سے اب اتر دریا تیرا سیلاب سنگ دل ہے ...

مزید پڑھیے

یہ شوخیاں یہ خمار جیسے شراب آنکھیں

یہ شوخیاں یہ خمار جیسے شراب آنکھیں دکھا رہی ہیں ہر ایک شب ہم کو خواب آنکھیں ہمیں یقیں ہے کہ کیمروں کی نہیں ضرورت ہمارا ہر پل جو کرتی ہیں احتساب آنکھیں لگے ہوئے ہیں قطار میں بے شمار عاقبؔ نہ جانے کس کا کریں گی اب انتخاب آنکھیں سوال دل نے کیا محبت کا ڈرتے ڈرتے تو دے رہی ہیں ادا ...

مزید پڑھیے

یہ کیا کہ گلی میں ترا آنا نہیں ہوتا

یہ کیا کہ گلی میں ترا آنا نہیں ہوتا اس درجہ ستانا بھی تو اچھا نہیں ہوتا ہم شہر محبت میں کریں لاکھ چراغاں جب تک نہ جلے دل تو اجالا نہیں ہوتا ہم زاد مرا ساتھ مرے رہتا ہے ہر دم جب ساتھ وہ ہوتا ہے تو پھر کیا نہیں ہوتا فطرت میں ہے دریا بھی سمندر کے برابر یہ بات الگ ہے کہ وہ گہرا نہیں ...

مزید پڑھیے

گناہوں کی محبت گھٹ رہی ہے

گناہوں کی محبت گھٹ رہی ہے ابھی گرد کدورت چھٹ رہی ہے ہماری پیاس کو دریا بھی کم ہیں مگر پیالوں میں بس تلچھٹ رہی ہے سمیٹے پھر رہے ہیں نفرتیں ہم گماں یہ تھا کہ الفت بٹ رہی ہے ضرورت خوب مہنگی ہو گئی ہے مگر انساں کی قیمت گھٹ رہی ہے جسے سن کر دھڑکتا تھا مرا دل ترے قدموں کی وہ آہٹ رہی ...

مزید پڑھیے

سر ورق پہ لکھا انتقام ہے شاید

سر ورق پہ لکھا انتقام ہے شاید اسی بیاض میں میرا بھی نام ہے شاید کہا جو میں نے کہ کچھ احتجاج ہے برپا تو بولے ظل الٰہی عوام ہے شاید اٹھے جو ہاتھ دعا کو بدل گئے منظر خدا سے میرا یقیں ہم کلام ہے شاید میں آؤں تم کو نہ دیکھوں تو پھر پلٹ جاؤں تمہاری سمت سے یہ انتظام ہے شاید یہ آب و گل ...

مزید پڑھیے

نہ تحریری شواہد نہ زبانی

نہ تحریری شواہد نہ زبانی بھلا کس کام کی ایسی جوانی یہ جتنی نعمتیں دی ہیں خدا نے یہ پرچہ ہے ہمارا امتحانی کبھی وہ بھی تھے اس دنیا کی رونق وہ سب جو ہو گئے ہیں آنجہانی ہمیں تھا اشتیاق وصل لیکن ہمارے شوق سے ان کو گرانی یہ کیا ذہنوں پہ کرتے ہو حکومت کرو دل پر کسی کے حکمرانی ادھر ...

مزید پڑھیے

تمہارے ساتھ یہ جھوٹے فقیر رہتے ہیں

تمہارے ساتھ یہ جھوٹے فقیر رہتے ہیں ہمارے ساتھ تو منکر نکیر رہتے ہیں ہماری کم نظری سے جو ہو گئے محدود انہی مزاروں میں روشن ضمیر رہتے ہیں روایتوں کے تأثر کا اپنا جادو ہے کہیں کہیں مری غزلوں میں میرؔ رہتے ہیں بہت اداس ہیں دیواریں اونچے محلوں کی یہ وہ کھنڈر ہیں کہ جن میں امیر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3880 سے 6203