تاروں سے ماہتاب سے اور کہکشاں سے کیا
تاروں سے ماہتاب سے اور کہکشاں سے کیا میرا وطن زمیں ہے مجھے آسماں سے کیا ٹکڑے جگر کے ہوں کہ ٹپکتا ہو خون دل عنواں جو تم نہیں تو تمہیں داستاں سے کیا جینا جو جانتا ہو تڑپ کر ترے بغیر اس کو تری گلی سے ترے آستاں سے کیا ان کا نہ سامنا ہو اسی میں ہے عافیت کیا جانئے کہ نکلے ہماری زباں سے ...