پکڑی نہ تھی کتاب کہ استاد ہو گئے
پکڑی نہ تھی کتاب کہ استاد ہو گئے ہاتھ آ گئی غلیل تو صیاد ہو گئے لے ہم نے کھول دی ہیں یہ آنکھیں شعور کی لے ہم ترے فریب سے آزاد ہو گئے تو نے اے زندگی جو سکھائے ہمیں سبق آسانی سے ہمیں وہ سبق یاد ہو گئے دنیا سے ڈر گئے جو وہ دنیا میں گم ہوئے کرتے رہے جو عشق وہ فرہاد ہو گئے یادیں تری ...