قومی زبان

پکڑی نہ تھی کتاب کہ استاد ہو گئے

پکڑی نہ تھی کتاب کہ استاد ہو گئے ہاتھ آ گئی غلیل تو صیاد ہو گئے لے ہم نے کھول دی ہیں یہ آنکھیں شعور کی لے ہم ترے فریب سے آزاد ہو گئے تو نے اے زندگی جو سکھائے ہمیں سبق آسانی سے ہمیں وہ سبق یاد ہو گئے دنیا سے ڈر گئے جو وہ دنیا میں گم ہوئے کرتے رہے جو عشق وہ فرہاد ہو گئے یادیں تری ...

مزید پڑھیے

ترے دیار سے جنس محال لے آئے

ترے دیار سے جنس محال لے آئے جواب لانے گئے اور سوال لے آئے بہت سے لوگ کوئی تجھ سا ڈھونڈنے نکلے مجال کس کی جو تیری مثال لے آئے شکاری دیکھتا ہی رہ گیا بہ حیرانی پرندے مل کے اڑے اور جال لے آئے وصال ہجر سیاست مسائل دنیا غزل میں ہم بھی یہ کیا کیا خیال لے آئے ستم ظریفی ہے مشکل پسند ...

مزید پڑھیے

وقت گزرا ہے ترے ہجر میں ایسے جاناں

وقت گزرا ہے ترے ہجر میں ایسے جاناں کوئی مچھلی بنا پانی کے ہو جیسے جاناں ہم کو معلوم تھا تو خوش ہے بچھڑ کر ہم سے پھر بھی ہم یاد میں بے حد تری روئے جاناں ہر گزر گاہ تری مجھ کو تھی منزل کی طرح تو نے دیکھا نہیں مجھ کو کبھی مڑ کے جاناں راہ کانٹوں بھری گلشن میں بدل سکتی تھی ایک دوجے کو ...

مزید پڑھیے

پاکیزگی نہیں ہے رداؤں میں ان دنوں

پاکیزگی نہیں ہے رداؤں میں ان دنوں معصومیت رہی نہ اداؤں میں ان دنوں راس آ گئی حسینوں کو شہروں کی روشنی موسم بہت اداس ہے گاؤں میں ان دنوں اصحاب کہف کی طرح جو نیک لوگ ہیں گوشہ‌ نشین ہیں وہ گپھاؤں میں ان دنوں شفاف راستوں سے تو لپٹی ہوئی ہے دھند چھایا ہوا دھواں ہے فضاؤں میں ان ...

مزید پڑھیے

ہار کر بازی پھر اک تدبیر ہو جاؤں گا میں

ہار کر بازی پھر اک تدبیر ہو جاؤں گا میں تم سمجھتے ہو یوں ہی تسخیر ہو جاؤں گا میں عشق میں اس کے سوا میں کچھ نہیں کر پاؤں گا ہو بہ ہو جاناں تری تصویر ہو جاؤں گا میں ساتھ چھوٹے گا نہیں اپنا سفر میں عمر کے رہ گزر تو اور ترا رہ گیر ہو جاؤں گا میں آیتیں منسوب ہیں تجھ سے رموز عشق کی اور ...

مزید پڑھیے

تمہارے چہرے کی جو چمک ہے

تمہارے چہرے کی جو چمک ہے یہ سات رنگوں کی اک دھنک ہے تمہاری چوڑی کی جیسے چھن چھن تمہارے لہجے میں وہ کھنک ہے سبک روی جیسے بہتا پانی تمہارے چلنے میں وہ لچک ہے غزال سی ہیں یہ تمہاری آنکھیں حیا بھی جن میں پلک پلک ہے جہاں رکھو تم قدم زمیں وہ مرے لیے تو حسیں فلک ہے اگرچہ باتیں ...

مزید پڑھیے

تو کسی اور کی ہے بات یہ سوچی تو نہ تھی

تو کسی اور کی ہے بات یہ سوچی تو نہ تھی بے وفائی تری عادت سہی اچھی تو نہ تھی ہر سہیلی تری کرتی رہی جس کی تعریف تیرے ہاتھوں پہ لہو تھا مرا مہندی تو نہ تھی تو جو آیا تو مرے چہرے پہ لوٹی رونق تجھ سے پہلے مری حالت کبھی ایسی تو نہ تھی تیری یادوں کی کسک ہے کہ بڑھی جاتی ہے یہ ہوا رات تری ...

مزید پڑھیے

کب تلک پیوے گا تو تر دامنوں سے مل کے مل

کب تلک پیوے گا تو تر دامنوں سے مل کے مل ایک دم اے غنچہ لب ہم سے کبھی تو کھل کے کھل بے سرو برگوں کو کیا نسبت ہے سیر باغ سے داغ دل ہیں ہم تہی دستان پا در گل کے گل اس کی جنگ بے سبب کا ہے تغافل ہی علاج آپ ڈھیلا ہو کے آوے گا ادھر ڈھل ڈھل کے ڈھل زیر ابرو اس طرح مژگاں نہیں رہتی مدام سر پہ ...

مزید پڑھیے

ساقی ہیں روز نو بہار یک دو سہ چار پنج و شش

ساقی ہیں روز نو بہار یک دو سہ چار پنج و شش دے مجھے جام خوش گوار یک دو سہ چار پنج و شش بوسہ میں لوں گا گن کے یار یک دو سہ چار پنج و شش کہہ چکا بس میں ایک بار یک دو سہ چار پنج و شش پہنچیں نہ تجھ کو گل عذار یک دو سہ چار پنج و شش رخ ترا ایک اور بہار یک دو سہ چار پنج و شش گھیریں رہیں ہیں ...

مزید پڑھیے

قاصد خوش فال لایا اس کے آنے کی خبر

قاصد خوش فال لایا اس کے آنے کی خبر دل تو خوش کرتا ہے بارے یہ بہانے کی خبر وہ بت بے رحم ہم سے یوں جدائی کر گیا ہائے کس کافر کو تھی اس بد زمانے کی خبر بلبلو دو دن غنیمت ہے یہ فرصت عیش کی باغ سے ہے آج کل ہی گل کے جانے کی خبر تا ابد خالی رہے یارب دلوں میں اس کی جا جو کوئی لاوے مرے گھر اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3882 سے 6203