قومی زبان

گھرانوں سے محبت کی فضائیں چھین لیتے ہیں

گھرانوں سے محبت کی فضائیں چھین لیتے ہیں ستم گر پھول سے بچوں کی مائیں چھین لیتے ہیں ہمارے بادشاہوں کو ہے نفرت شور سے اتنی کہ مظلوموں سے رونے کی صدائیں چھین لیتے ہیں کہیں ہیں کفر کے فتوے کہیں شور ملامت ہے خدا جب لوگ بن جائیں جزائیں چھین لیتے ہیں الٰہی تیری بستی میں یہ کیسے لوگ ...

مزید پڑھیے

جو سخن کو میرے سنا کرے مرا عکس بن کے ملا کرے

جو سخن کو میرے سنا کرے مرا عکس بن کے ملا کرے وہی ہم سفر مری راہ میں مری روشنی جو خدا کرے مجھ چاند سے نہیں کچھ غرض مجھے مہر سے کیا گلہ کہ بس جو چراغ مجھ کو پسند ہے مرے طاقچے میں جلا کرے میں دروغ گوئی سے تنگ ہوں میں منافقوں سے بری کہ اب مجھے دوست وہ ہی عزیز ہے کہ جو بات منہ پہ کہا ...

مزید پڑھیے

کوئی اعجاز ہے شاید

کوئی اعجاز ہے شاید مرا اعزاز ہے شاید جو مطرب چھیڑ دیتا ہے وہ دل کا ساز ہے شاید مرے اپنے مخالف ہیں ہوا ناساز ہے شاید گلے یوں خواب میں ملنا ترا انداز ہے شاید یہاں جو جھوٹ کہتا ہے وہی ممتاز ہے شاید وہ جس میں دم اٹکتا ہے وہی دم ساز ہے شاید چمکتی دھوپ ہے تو ہے نیا آغاز ہے ...

مزید پڑھیے

نظم

تم چاک گریباں ہو ہم بھی تہی داماں ہیں تم ہم سے گریزاں ہو ہم تم سے گریزاں ہیں تم نوک قلم جاناں اک نظم فغاں لکھو جو بول نہ پاؤ وہ سب حرف نہاں لکھو کچھ حرف دعا لکھو کچھ بہر خدا لکھو جو نقش ہوئے دل پر وہ نقش وفا لکھو پھر یاد کرو گے تم جب پاس نہ ہوئے گی آغوش لحد میں جب دم ساز یہ سوئے ...

مزید پڑھیے

گھنگرو کھول ذرا

پورن ماشی رات سجی جب ساتھ زمیں بھی ڈول پڑی اک مورت آخر بول پڑی اک بار نہیں سو بار نہیں کیوں چاہت کا اقرار کروں کیوں رقص کو اپنے عام کروں جس کام کا حاصل کوئی نہ ہو کیوں ایسا کوئی کام کروں کیوں ایسا کوئی کام کروں ہے کوئی جو مجھ میں کہتا ہے جو دل میں ہے اب بول ذرا کچھ دیر کو گھنگرو ...

مزید پڑھیے

ہے جب تک دشت پیمائی سلامت

ہے جب تک دشت پیمائی سلامت رہے گی آبلہ پائی سلامت رہے جب تک یہ بینائی سلامت ہماری خامہ فرسائی سلامت بہت سنوریں گے سنگ و سر کے رشتے جنوں کی کار فرمائی سلامت بہت حیران ہیں آئینہ خانے ترے قامت کی زیبائی سلامت سبھی ہاتھوں میں لے کر سنگ آئے خرد کی جلوہ آرائی سلامت بہت دیکھے بہار ...

مزید پڑھیے

میں اکثر سوچتی ہوں زندگی کو کون لکھے گا

میں اکثر سوچتی ہوں زندگی کو کون لکھے گا نہ میں لکھوں تو پھر اس بے بسی کو کون لکھے گا بہت مصروف ہیں اہل جہاں ہرزہ سرائی میں اب آشوب سخن میں بے حسی کو کون لکھے گا کئی صدیاں گزاریں منزلوں کے کھوج میں پھرتے تو پھر میرے سوا اس گمرہی کو کون لکھے گا ہم اس شہر جفا پیشہ سے کچھ امید کیا ...

مزید پڑھیے

دعا ہی وجہ کرامات تھوڑی ہوتی ہے

دعا ہی وجہ کرامات تھوڑی ہوتی ہے غضب کی دھوپ میں برسات تھوڑی ہوتی ہے رہ وفا کی روایت ہے سر جھکا رکھنا بساط عشق پہ یہ مات تھوڑی ہوتی ہے جو اپنا نام صف معتبر میں لکھتے ہیں خود ان سے اپنی ملاقات تھوڑی ہوتی ہے بہت سے راز دلوں کے دلوں میں رہتے ہیں اسے بتانے کی ہر بات تھوڑی ہوتی ہے دل ...

مزید پڑھیے

بہت بے آبرو ہو کر

بجی گھنٹی جو چھٹی کی تو ہنستے گاتے ہم نکلے کسی موٹے سے مولیٰ بخش کے سہہ کر ستم نکلے بتاؤ ہاتھ پر پڑنے سے اس کا حال کیا ہوگا نظر آ جاتے ہیں جس بید کے ہم سب کا دم نکلے کبھی جب بھول کر بستے کو اپنے کھول کر بیٹھے پھٹی نکلیں کتابیں اور سب ٹوٹے قلم نکلے نتیجہ گاہ سے نکلے تو اس حالت میں ہم ...

مزید پڑھیے

یقیں کی حد سے جو نکلے گمان تک پہنچے

یقیں کی حد سے جو نکلے گمان تک پہنچے تخیلات کی اونچی اڑان تک پہنچے اسے بھی تھوڑا سا احساس ظلم ہو جائے پلٹ کے تیر کوئی گر کمان تک پہنچے نہ وہ ہی پڑھ سکا آنکھوں میں میری حال میرا نہ لفظ دل کے ہی میری زبان تک پہنچے بھلا یہ فن ہے کے حاصل ریاض سے ہو جائے کبھی تو کوئی دعا آسمان تک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3862 سے 6203