گھرانوں سے محبت کی فضائیں چھین لیتے ہیں
گھرانوں سے محبت کی فضائیں چھین لیتے ہیں ستم گر پھول سے بچوں کی مائیں چھین لیتے ہیں ہمارے بادشاہوں کو ہے نفرت شور سے اتنی کہ مظلوموں سے رونے کی صدائیں چھین لیتے ہیں کہیں ہیں کفر کے فتوے کہیں شور ملامت ہے خدا جب لوگ بن جائیں جزائیں چھین لیتے ہیں الٰہی تیری بستی میں یہ کیسے لوگ ...