ممکن ہی نہیں کہ کنارا بھی کرے گا
ممکن ہی نہیں کہ کنارا بھی کرے گا عاشق ہے تو پھر عشق دوبارہ بھی کرے گا پردیس میں آیا ہوں تو کچھ میں بھی کروں گا کچھ کام مرے تخت کا تارا بھی کرے گا انداز یہی ہے یہی اطوار ہیں اس کے بیٹھے گا بہت دور اشارہ بھی کرے گا روئے گا کبھی خوب کبھی ہنسے گا کیا اور ترے تیر کا مارا بھی کرے گا جب ...