قومی زبان

ممکن ہی نہیں کہ کنارا بھی کرے گا

ممکن ہی نہیں کہ کنارا بھی کرے گا عاشق ہے تو پھر عشق دوبارہ بھی کرے گا پردیس میں آیا ہوں تو کچھ میں بھی کروں گا کچھ کام مرے تخت کا تارا بھی کرے گا انداز یہی ہے یہی اطوار ہیں اس کے بیٹھے گا بہت دور اشارہ بھی کرے گا روئے گا کبھی خوب کبھی ہنسے گا کیا اور ترے تیر کا مارا بھی کرے گا جب ...

مزید پڑھیے

یہ وصال و ہجر کا مسئلہ تو مری سمجھ میں نہ آ سکا

یہ وصال و ہجر کا مسئلہ تو مری سمجھ میں نہ آ سکا کبھی کوئی مجھ کو نہ پا سکا کبھی میں کسی کو نہ پا سکا کئی بستیوں کو الٹ چکا کوئی تاب اس کی نہ لا سکا مگر آندھیوں کا یہ سلسلہ ترا نقش پا نہ مٹا سکا مری داستاں بھی عجیب ہے وہ قدم قدم مرے ساتھ تھا جسے راز دل نہ بتا سکا جسے داغ دل نہ دکھا ...

مزید پڑھیے

رکنے کے لیے دست ستم گر بھی نہیں تھا

رکنے کے لیے دست ستم گر بھی نہیں تھا افسوس کسی ہاتھ میں پتھر بھی نہیں تھا باہر جو نہیں تھا تو کوئی بات نہیں تھی احساس ندامت مگر اندر بھی نہیں تھا جنت نہ مجھے دی تو میں دوزخ بھی نہ لوں گا مومن جو نہیں تھا تو میں کافر بھی نہیں تھا لوٹا جو وطن کو تو وہ رستے ہی نہیں تھے جو گھر تھا ...

مزید پڑھیے

راستہ دیر تک سوچتا رہ گیا

راستہ دیر تک سوچتا رہ گیا جانے والے کا کیوں نقش پا رہ گیا آج پھر دب گئیں درد کی سسکیاں آج پھر گونجتا قہقہہ رہ گیا اب ہوا سے شجر کر رہا ہے گلہ ایک گل شاخ پر کیوں بچا رہ گیا جھوٹ کہنے لگا سچ سے بچنے لگا حوصلے مٹ گئے تجربہ رہ گیا ہنستے گاتے ہوئے لفظ سب مٹ گئے آنسوؤں سے لکھا حاشیہ ...

مزید پڑھیے

گھر سے نکلے ہوئے بھی بہت دن ہوئے

گھر سے نکلے ہوئے بھی بہت دن ہوئے ان کو دیکھے ہوئے بھی بہت دن ہوئے شہر خاموش ہے اس نے ہونا ہی تھا ہم کو بولے ہوئے بھی بہت دن ہوئے میں نہ گزروں گا رستوں سے گھر کے ترے گرچہ گزرے ہوئے بھی بہت دن ہوئے اچھا چہرہ کہیں کوئی دیکھا نہیں دل کو دھڑکے ہوئے بھی بہت دن ہوئے کوئی قاصد نہیں ...

مزید پڑھیے

نغموں کا شہر تھا کبھی آہوں کا شہر تھا

نغموں کا شہر تھا کبھی آہوں کا شہر تھا یہ دل تری بدلتی نگاہوں کا شہر تھا ہم لوگ طوطا چشم مزاجاً نہ تھے مگر نظریں بدلنے والی نگاہوں کا شہر تھا کوٹھے پہ کھانستی ہوئی بڑھیا کی آنکھ میں بیمار زندگی کی کراہوں کا شہر تھا وہ دوریوں کے خوف سے گھر میں پڑا رہا ورنہ ذرا ادھر مری ہا ہوں کا ...

مزید پڑھیے

ہم دلوں کے قرب کا منہ دیکھتے رہ جائیں گے

ہم دلوں کے قرب کا منہ دیکھتے رہ جائیں گے یاد رہ جائے گی یا کچھ خواب سے رہ جائیں گے اس تذبذب میں مری محنت اکارت جائے گی خود ہی وہ آ جائیں گے اور خط لکھے رہ جائیں گے ہم فصیل آب و گل میں در بنانے کے لیے وقت کے تہہ خانے میں سر پیٹتے رہ جائیں گے اپنے چہرے تکتے تکتے پھر سحر ہو جائے ...

مزید پڑھیے

ایک طرفہ عشق

میں اپنی نظم سے بھری ڈائری ہاتھ میں پکڑے تمہارے سامنے جب بھی پڑھنا چاہتا ہوں میرے ہاتھ اور میری زبان دونو لڑکھڑاتے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مجھے نظموں سے عشق تو ہے پر وہ ایک طرفہ ہے

مزید پڑھیے

شہر

کسی بھی شہر سے تمہیں کبھی بھی لوٹ آنا ہو شہر میں کسی کو بھی بتا دینا سارا شہر جانتا ہے تمہارے لوٹ آنے کی خبر شہر میں کس کو دینی ہے

مزید پڑھیے

تارے اور تم

کچھ تارے مل کر تمہاری تصویر بناتے ہیں آسمان میں تم ان تاروں سے ایک بار مل آؤ روز وہ تمہارے ہونٹھ کے نیچے کا تل بنانا بھول جاتے ہیں پھر مجھے اپنے انگلیوں کی پوروں سے وہ تل بنانا پڑتا ہے وہ تل بناتے بناتے اکثر میں موقع دیکھ کر تمہاری زلف تمہارے دائیں کان کے پیچھے کر دیتا ہوں پھر کسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3855 سے 6203