قومی زبان

خط

شاید میں نہ لکھوں تمہیں خط تم خود ہی خود کو میں بن کے لکھ دینا وہ کیا ہے نا پھر تمہیں پہلے سے پتا ہوگا کی کون سا خط تمہیں نہیں کھولنا ہے

مزید پڑھیے

آگے اس در کے راستہ کیا ہے

آگے اس در کے راستہ کیا ہے تو نہیں ہے تو پھر بچا کیا ہے اک سزا سی ملی وفا تیری اور اس سے بڑی سزا کیا ہے میں نے مانگی ہے اک دعا یا رب اور مل جائے تو برا کیا ہے یوں تو کچھ بھی نہیں خلاؤں میں ایک چہرہ یہ چاند سا کیا ہے میری تنہائیوں میں گونجی ہے یہ تیرے نام سی صدا کیا ہے تو ہی کہہ دے ...

مزید پڑھیے

دھوپ میں ساتھ ہے گھٹا کی طرح

دھوپ میں ساتھ ہے گھٹا کی طرح تو میرے لب پہ ہے دعا کی طرح مسکرانا ترا دعا کی طرح روٹھ جانا کسی سزا کی طرح تیرے چہرے سے میری نظروں کا واسطہ ہاتھ اور حنا کی طرح اس کو لوٹا دیا نگاہوں نے اشک تھا آنکھ میں خطا کی طرح اور اک بات میرے لب پہ ہے اور نہ سمجھے گا تو سدا کی طرح

مزید پڑھیے

بادلوں سے ٹوٹ برسے آج پانی دیر تک

بادلوں سے ٹوٹ برسے آج پانی دیر تک اے خدا اس شب رہے یہ رت سہانی دیر تک جگنوؤں کی روشنی سے جھلملائیں راستے چاندنی سے ہم کریں یہ بے ایمانی دیر تک رات کی رنگین سڑکیں بھیگے بھیگے یہ شجر کار کے شیشوں سے جھانکے زندگانی دیر تک ٹوٹتے بجلی کے ٹکڑے چاند تارے روٹھتے آسماں سے دور رنگ ...

مزید پڑھیے

غم کا رشتہ عجیب ہوتا ہے

غم کا رشتہ عجیب ہوتا ہے کون کس کا حبیب ہوتا ہے چاندنی سے جھلس گیا دامن اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے آپ یوں ہی خفا ہیں قسمت سے چاند کس کے قریب ہوتا ہے بال اس میں پڑا نہیں ملتا دل کا شیشہ عجیب ہوتا ہے کیوں سمجھ میں کبھی نہیں آتا وہ جو سب سے قریب ہوتا ہے

مزید پڑھیے

میں نے ہر بار یہ خطا کی ہے

میں نے ہر بار یہ خطا کی ہے تیرے حق میں سدا دعا کی ہے اپنی سچائیوں کی مجرم ہوں جھوٹ سے آج ابتدا کی ہے ہے عیاں مجھ پہ یہ وفا لیکن بات میری نہیں خدا کی ہے ہاتھ اٹھ کر گریں دعاؤں سے میں نے ایسی بھی کیا خطا کی ہے شعلہ شعلہ ہر اک گلستاں ہو اب کے مرضی یہی ہوا کی ہے

مزید پڑھیے

درد کے سیپ میں پیدا ہوئی بیداری سی

درد کے سیپ میں پیدا ہوئی بیداری سی رات کی راکھ میں سلگی کوئی چنگاری سی دیکھیے شہر میں کب باد یقیں چلتی ہے کو بہ کو پھیلی ہے اوہام کی بیماری سی موت کا وار تو میں سہہ گیا ہنستے ہنستے زندگی تو ہی کوئی چوٹ لگا کاری سی کیا سے کیا ہو گئی ماحول کی لو میں جل کر وہ جو لڑکی نظر آتی تھی بہت ...

مزید پڑھیے

آنسو کو اپنے دیدۂ تر سے نکالنا

آنسو کو اپنے دیدۂ تر سے نکالنا لگتا ہے میہمان کو گھر سے نکالنا سوکھے ہوئے شجر میں لہو تو نہیں ہے خشک کونپل کوئی نمو کی شجر سے نکالنا اس یخ زدہ فضا میں گر اڑنے کا قصد ہے بے حس رتوں کی برف کو پر سے نکالنا جس صبح کے جلو میں شبوں کا ہجوم ہو کرنوں کو ایسے دام سحر سے نکالنا جس سے شب ...

مزید پڑھیے

عمر بھر بہتے ہیں غم کے تند رو دھاروں کے ساتھ

عمر بھر بہتے ہیں غم کے تند رو دھاروں کے ساتھ جانے کیوں ہوتے ہیں اتنے ظلم فنکاروں کے ساتھ ابر کی صورت برستے ہیں بلند و پست پر ہم نہیں آنسو بہاتے لگ کے دیواروں کے ساتھ ذہن کے پردے پہ رقصندہ ہیں پیاسی صورتیں ہم نشے میں کیسے بہہ سکتے ہیں مے خواروں کے ساتھ روز خون آرزو ہوتا ہے پھر ...

مزید پڑھیے

حزیں تم اپنی کبھی وضع بھی سنوارو گے

حزیں تم اپنی کبھی وضع بھی سنوارو گے قمیص خود ہی گرے گی تو پھر اتاروگے خلا نوردو بہت ذرے انتظار میں ہیں جہاز کون سا پاتال میں اتاروگے اتر کے نیچے کبھی میرے ساتھ بھی تو چلو بلند کھڑکیوں سے کب تلک پکارو گے وہ وقت آئے گا اے میرے اپنے سنگ زنو مہکتے پھولوں کے گجرے بھی مجھ پہ وارو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3856 سے 6203