قومی زبان

خاک ہو کر بھی آسماں ڈھونڈا

خاک ہو کر بھی آسماں ڈھونڈا تجھ کو ہم نے کہاں کہاں ڈھونڈا ہم نے راتوں کو جاگ کر اکثر ٹوٹے خوابوں کا ہر نشاں ڈھونڈا ذات کا اپنی کچھ سرا نہ ملا خود کو ہم نے ہے کل جہاں ڈھونڈا عشق حاصل کبھی ہوا ہی نہیں عمر بھر تجھ کو جان جاں ڈھونڈا تم کو راحت ملے گی کیسے حناؔ تم نے گھر چھوڑ کر مکاں ...

مزید پڑھیے

یا ہر اک رنج مٹانے کا تو وعدہ کر دے

یا ہر اک رنج مٹانے کا تو وعدہ کر دے یا مرے دل کو سمندر سا کشادہ کر دے میں روایات کی قائل نہیں ہو پاؤں گی میری ہمت تو زمانے سے زیادہ کر دے پھر نئی روح مرے جسم کو دے دے یا رب پھر مری ذات کسی ورق سی سادہ کر دے

مزید پڑھیے

جھیل کہ تہہ میں پڑے مردہ شکاروں کی طرح

جھیل کہ تہہ میں پڑے مردہ شکاروں کی طرح ڈوب جائیں گے کبھی ہم بھی ہزاروں کی طرح اس کی آنکھوں میں نئی رت کا ہے پیغام مگر پھیرتا بھی ہے نظر جاتی بہاروں کی طرح چار دیواروں کا دل آئنہ خانہ ہی سہی اک سمندر کو سنبھالے ہے کناروں کی طرح ڈل کے سینے سے اکھاڑے گئے سب سرخ کنول دیکھتے رہ گئے ...

مزید پڑھیے

دھند کو راستہ کرے کوئی

دھند کو راستہ کرے کوئی حق کسی کا ادا کرے کوئی موت اس کی ہے زندگی اس کی آ کے دنیا میں کیا کرے کوئی چاہتی ہوں کہ جیت جاؤں میں پر نہ ہارے خدا کرے کوئی توڑ دے پتھروں سے پانی کو اب تو مجھ کو رہا کرے کوئی اب نہ آئے گا کوئی پیغمبر اب نہ ایسی دعا کرے کوئی

مزید پڑھیے

مچھروں سے پریشان ہو کر

آج کل تم سے جو رہتی ہے ملاقات کی رات یعنی مہمان رہا کرتے ہو تم رات کی رات آج اتنا بتا دو کہ ہے جذبات کی رات خود کو تم دن کے اجالے سے بچاتے کیوں ہو یہ تو بتلاؤ کہ تم رات میں آتے کیوں ہو تم سے میری تو کوئی رنجش بے جا بھی نہیں تم کو محسوس کیا ہے کبھی دیکھا بھی نہیں تم سے ملنے کی مجھے کوئی ...

مزید پڑھیے

کتوں کی کانفرنس

ایک دن اخبار میں کچھ یوں خبر تھی بیش و کم ایک گھر میں ایک ہی دن سات بچوں کا جنم اس عجوبہ پر ہزاروں تبصرے ہونے لگے جتنے غیرت دار کتے تھے وہ سب رونے لگے شدت غم سے ہر اک کتے کو تپ چڑھنے لگا بولے اب انساں ہماری ہم سری کرنے لگا ایک کتا تو یہاں تک کہہ گیا جذبات میں کیا حماقت کی ہے اس نے آج ...

مزید پڑھیے

ہم خود بھی ہوئے نادم جب حرف دعا نکلا

ہم خود بھی ہوئے نادم جب حرف دعا نکلا سمجھے تھے جسے پتھر وہ شخص خدا نکلا اس دشت سے ہو کر بھی اک سیل انا نکلا کچھ برگ شجر ٹوٹے کچھ زور ہوا نکلا الجھن کا سلجھ جانا اک خام خیالی تھی جب غور کیا ہم نے اک پیچ نیا نکلا اے فطرت صد معنی غالبؔ کی غزل ہے تو جب حسن ترا پرکھا پہلے سے سوا ...

مزید پڑھیے

سب کچھ کھو کر موج اڑانا عشق میں سیکھا

سب کچھ کھو کر موج اڑانا عشق میں سیکھا ہم نے کیا کیا تیر چلانا عشق میں سیکھا ریت کے آگے پریت نبھانا عشق میں سیکھا سادھو بن کر مسجد جانا عشق میں سیکھا عشق سے پہلے تیز ہوا کا خوف بہت تھا تیز ہوا میں ہنسنا گانا عشق میں سیکھا ہر اک سرحد پھاند چکا تھا سرکش دریا اس دریا کو موڑ کے لانا ...

مزید پڑھیے

کبھی تو صحن انا سے نکلے کہیں پہ دشت ملال آیا

کبھی تو صحن انا سے نکلے کہیں پہ دشت ملال آیا ہماری وحشت پہ کیسا کیسا عروج آیا زوال آیا عداوتیں تھیں محبتیں تھیں نہ جانے کتنی ہی حسرتیں تھیں مگر پھر ایسا ہوا کہ سب کچھ میں خود ہی دل سے نکال آیا کبھی عبادت کبھی عنایت کبھی دعائیں کبھی عطائیں کہیں پہ دست طلب بنے ہم کہیں پہ ہم تک ...

مزید پڑھیے

آنسو تو کوئی آنکھ میں لایا نہیں ہوں میں

آنسو تو کوئی آنکھ میں لایا نہیں ہوں میں جیسا مگر لگا تمہیں ویسا نہیں ہوں میں اب مبتلائے عشق زیادہ نہیں ہوں میں کہتے ہو تم یہی تو پھر اچھا نہیں ہوں میں خوبی نہ ہو کوئی مگر اتنا تو ہے ضرور جھوٹی لگے جو بات وہ کہتا نہیں ہوں میں پانی پہ بنتے عکس کی مانند ہوں مگر آنکھوں میں کوئی بھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3854 سے 6203