قومی زبان

محبت کی فطرت ہے یہ بے قراری

محبت کی فطرت ہے یہ بے قراری کوئی کیا کرے گا مری غم گساری وہی کامیابی کے اسرار سمجھا محبت کی بازی یہاں جس نے ہاری تمہارے اشاروں پہ چلتی ہے دنیا نہ مختار یاں ہیں نہ بے اختیاری مرے دل کو پتھر خدارا نہ سمجھو نگاہیں پھر اس پر نگاہیں تمہاری محبت کی قسمت میں لکھی ہوئی ہے یہی درد ...

مزید پڑھیے

بنائے سجدہ ہوں سجدے کی ابتدا ہوں میں

بنائے سجدہ ہوں سجدے کی ابتدا ہوں میں جو خود نما ہیں وہ دیکھیں خدا‌ نما ہوں میں مرا وجود ہے اعلان کلمۂ توحید جہاں میں غیب سے آئی ہوئی ندا ہوں میں مجھے سلائے گی اب کیا ہوائے خواب فنا ضیائے حسن سے بیدار ہو چکا ہوں میں اجل کا کام نہیں میری حل مشکل میں کہ منزل غم ہستی سے بڑھ گیا ...

مزید پڑھیے

ترے غم سے دل شادماں دیکھتا ہوں

ترے غم سے دل شادماں دیکھتا ہوں تجھے راحت جاوداں دیکھتا ہوں زمانے کی برگشتگی کا یہ عالم کہ ہر شے کو دامن کشاں دیکھتا ہوں کبھی بجلیاں رونق گلستاں تھیں شجر آج بے آشیاں دیکھتا ہوں کبھی اپنی مایوسیوں پر قناعت کبھی جانب آسماں دیکھتا ہوں کبھی خاک کی رفعتوں پر نظر ہے کبھی چرخ کی ...

مزید پڑھیے

خلق میں تیرا ہم جمال کہاں

خلق میں تیرا ہم جمال کہاں ڈھونڈیئے صورت مثال کہاں لائیے کس سے ہمت خود کام کیجئے جرأت سوال کہاں شوق دیدار یک نگاہ درست تاب نظارۂ جمال کہاں کون پہنچا تری حقیقت کو اس قدر وسعت خیال کہاں ہر ادا تیری ایک عالم ہے تو کہاں عالم مثال کہاں میرا ذوق جنوں اگر بے اصل جذب ہوتا ترا جلال ...

مزید پڑھیے

عشق اور انتظار توبہ ہے

عشق اور انتظار توبہ ہے درد وہ ہے کہ یار توبہ ہے دل کے صحرا کی خشک دھرتی پر اس قدر ہے غبار توبہ ہے کیسی کیسی ہیں خواہشیں تیری اے دل بے قرار توبہ ہے بے گناہی کا جرم لے آیا پھر ہمیں سوئے دار توبہ ہے اب تو کچا گھڑا بھی پاس نہیں اور جانا ہے پار توبہ ہے زرد کلیاں کھلی ہیں شاخوں پر ہے ...

مزید پڑھیے

کیا بتاؤں کے مرے واسطے کیا کیا تم ہو

کیا بتاؤں کے مرے واسطے کیا کیا تم ہو میری غزلیں مری نظمیں مرا لہجہ تم ہو دنیا والوں سے تعلق نہیں رکھا میں نے مجھ کو دنیا سے غرض کیا مری دنیا تم ہو تم کو اس درجہ عقیدت سے پڑھا ہے جیسے آسمانوں سے جو اترا وہ صحیفہ تم ہو تم نہ ہوتے تو مری زیست کٹھن ہو جاتی میرے جیون کے اندھیرے میں ...

مزید پڑھیے

کیوں دل ہے بے قرار مجھے کچھ پتہ نہیں

کیوں دل ہے بے قرار مجھے کچھ پتہ نہیں کس کا ہے انتظار مجھے کچھ پتہ نہیں بس ہو گیا ہے جان سے پیارا کوئی مجھے کہتے ہیں کس کو پیار مجھے کچھ پتہ نہیں دنیا میں کیا ہوں کون ہوں کیا نام ہے مرا مت پوچھ بار بار مجھے کچھ پتہ نہیں پیش نگاہ آگ کا دریا ہے دور تک ہے کون سا دیار مجھے کچھ پتہ ...

مزید پڑھیے

زندہ رہنے کی آس ہے اک شخص

زندہ رہنے کی آس ہے اک شخص مجھ کو جیون میں راس ہے اک شخص ایک مدت سے دور ہے لیکن پھر بھی اس دل کے پاس ہے اک شخص ورنہ میں کب کی مر گئی ہوتی زندگی کی اساس ہے اک شخص اس کے بن میں تو میں نہیں رہتی کیا مرے تن کا ماس ہے اک شخص میرے دل کی امنگ جانتا ہے کس قدر خود شناس ہے اک شخص اس میں اتنا ...

مزید پڑھیے

کیسی نظروں سے تکتے ہو تم بھی نا

کیسی نظروں سے تکتے ہو تم بھی نا پھر انجان سے بن جاتے ہو تم بھی نا وصل کی خواہش سے لبریز تمہارا دل پھر بھی جانے کا کہتے ہو تم بھی نا جذبوں کا طوفان چھپا ہے سینے میں لیکن پھر بھی چپ رہتے ہو تم بھی نا دل کی بات لبوں پر لے آتے ہو تم لیکن بات بدل دیتے ہو تم بھی نا شاعرہ ہونے پر تم میرے ...

مزید پڑھیے

جن سے غم انتہا کے ملتے ہیں

جن سے غم انتہا کے ملتے ہیں ان سے ہم مسکرا کے ملتے ہیں وہ جو خود چل کے آ نہیں پاتے ان سے ہم لوگ جا کے ملتے ہیں اپنا پن اٹھ گیا ہے دنیا سے لوگ دامن بچا کے ملتے ہیں راہ روشن کے جو مسافر ہیں سب سے وہ سر اٹھا کے ملتے ہیں اہل دانش کی آستین میں بھی دیکھیے بت انا کے ملتے ہیں ان سے لذت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3843 سے 6203