قومی زبان

جو بظاہر اداس ہوتے ہیں

جو بظاہر اداس ہوتے ہیں لوگ وہ خود شناس ہوتے ہیں ان کے اندر کا میل مت پوچھو لوگ جو خوش لباس ہوتے ہیں اپنی قسمت سے بھی نہیں واقف جو ستارہ شناس ہوتے ہیں بول دوں آپ کیا ہیں میرے لیے آپ جینے کی آس ہوتے ہیں پیار والوں کی بات مت پوچھو دور رہ کر بھی پاس ہوتے ہیں کیا عجب لوگ ہیں یہ اہل ...

مزید پڑھیے

ڈبو کے اپنے لہو میں یہ انگلیاں لڑکی

ڈبو کے اپنے لہو میں یہ انگلیاں لڑکی لکھے گی تو بھی محبت کی داستاں لڑکی مجھے یہ ڈر ہے تجھے کرچیوں میں بانٹ نہ دے جو تیرے واسطے لایا ہے چوڑیاں لڑکی چرا کے لے ہی نہ جائیں یہ رنگ و روپ ترا گلاب دل پہ نہ آنے دے تتلیاں لڑکی یہ زخم ہجر تو بھر جائے گا مگر اس کا تمام عمر کو رہ جائے گا نشاں ...

مزید پڑھیے

مر مٹے جب سے ہم اس دشمن دیں پر صاحب

مر مٹے جب سے ہم اس دشمن دیں پر صاحب پاؤں ٹکتے ہی نہیں اپنے زمیں پر صاحب خوش گمانی کا یہ عالم ہے کہ ہر بات کے بیچ ہاں کا دھوکہ ہو ہمیں اس کی نہیں پر صاحب تخت یاروں کو ہے غم شاہ کی معزولی کا اور فدا بھی ہیں نئے تخت نشیں پر صاحب ہم تو اک سانولی صورت ہے جسے چاہتے ہیں آپ مر جائیں کسی ...

مزید پڑھیے

وہی میری نا مرادی وہی گردش زمانہ

وہی میری نا مرادی وہی گردش زمانہ مری زندگی تصور مری عشرتیں فسانہ نہ حضوریوں کی خواہش نہ وصال کی تمنا مجھے اب بھی ہے تعارف وہی ان سے غائبانہ جو تجھے خیال ہوتا یہ مرا نہ حال ہوتا نہ تری نگاہ بدلی نہ بدل سکا زمانہ یہ جہاں کی ایک کروٹ یہ خزاں کا ایک دھوکا یہ ہوائیں بھیگی بھیگی یہ ...

مزید پڑھیے

جاوداں غم عہد عشرت تیز پا

جاوداں غم عہد عشرت تیز پا جانے کیا ہے زندگی کا مدعا اٹھ رہے ہیں دم بہ دم طوفان غم ایک دل ہے میں ہوں اور میرا خدا ہے غم دل منزل آغاز میں دیکھیے ہوتا ہے اب انجام کیا حال دل پر آپ کیوں ہیں نوحہ گر میں نے پائی ہے محبت کی سزا ڈوبتی ہے میری کشتی ڈوب جائے کون ہو منت پذیر ناخدا آپ بھی ...

مزید پڑھیے

مآل کار نہ کچھ بھی ہوا تو کیا ہوگا

مآل کار نہ کچھ بھی ہوا تو کیا ہوگا نہ ہم رہے نہ زمانہ رہا تو کیا ہوگا میں ہنس رہا ہوں زمانہ کی شاد کامی پر چراغ عیش جو گل ہو گیا تو کیا ہوگا مجھے فریب نہ دے اے طلسم خواب و خیال رخ حیات اگر پھر گیا تو کیا ہوگا ضمیر دہر میں وہ زندگی کی لہر کہاں دلوں میں سوز محبت رہا تو کیا ...

مزید پڑھیے

کبھی وفور تمنا کبھی ملامت نے

کبھی وفور تمنا کبھی ملامت نے تھکا دیا ہے بدن روز کی خجالت نے میں زخم زخم تھا بستر کی سلوٹوں میں گھرا مرا جو حال کیا صبح کی ملاحت نے فضائے جبر تجھے چاک چاک کر دیں گے نگل لیے جو ستارے تری کثافت نے کسی جمال کی چھب ہو کسی کمال کی ضو اجاڑ ڈالا ہے پژمردگی کی عادت نے ہم ایسے کون سے غرق ...

مزید پڑھیے

راحت و رنج سے جدا ہو کر

راحت و رنج سے جدا ہو کر بیٹھ رہیے کہیں خدا ہو کر لوٹ آیا ہے آنکھ کے در پر خواب تعبیر سے رہا ہو کر لطف آیا نظر کو جلنے میں چاند کے سامنے دیا ہو کر اے مرے شعر اپنی تابانی دیکھ اس شوخ سے ادا ہو کر حبس ہوتا گیا خمار اپنا رنگ اڑتے گئے ہوا ہو کر خیمۂ گل لپیٹ لے ہمدم دیکھ صرصر چلی صبا ...

مزید پڑھیے

قدم کہیں پہ ارادہ کہیں کا رکھتے ہیں

قدم کہیں پہ ارادہ کہیں کا رکھتے ہیں خلا میں رہتے ہیں منظر زمیں کا رکھتے ہیں یہ کون ان کی نظر واہموں سے بھرتا ہے جو اپنے بستے میں نامہ یقیں کا رکھتے ہیں یہ کیا کہ روح کی کوئی زمیں نہ کوئی وطن جہاں کی مٹی ہو اس کو وہیں کا رکھتے ہیں اسی لیے تو پرندوں کے پر نکلتے ہیں کہ آستاں نہ ...

مزید پڑھیے

خیالوں خیالوں میں کس پار اترے

خیالوں خیالوں میں کس پار اترے نہ دشمن کوئی ناں جہاں یار اترے گرفتار ہے سحر آئینہ گر کا پس آئینہ کس طرح یار اترے زبان و بیاں داستاں سب بدل دے کہانی میں ایسا بھی کردار اترے تصور میں تو گنگناتی ندی تھی سمندر میں کیسے یہ سرکار اترے سو گردن جھکا کر نگاہ تان لی ہے کہ انکار و اقرار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3844 سے 6203