قومی زبان

ہے یقیناً یہ کوئی راز مشیت ورنہ

ہے یقیناً یہ کوئی راز مشیت ورنہ لوگ کرتے ہی نہیں شہر سے ہجرت ورنہ اس کی نفرت کا دیا ہم نے محبت سے جواب کم نہ تھی خون میں کچھ اپنے بھی حدت ورنہ تجھ کو دیکھا تو یقیں ہو گیا اے مست خرام دیکھتا آنکھ سے کون اپنی قیامت ورنہ خون میں سب کے ہے قابیل کے خوں کا عنصر نسل آدم کے لیے وجہ ہلاکت ...

مزید پڑھیے

اپنے پندار کو کھویا نہیں جاتا مجھ سے

اپنے پندار کو کھویا نہیں جاتا مجھ سے میں جو چاہوں بھی تو رویا نہیں جاتا مجھ سے مبتلا ہو مرا ہمسایہ کسی غم میں اگر جاگتا رہتا ہوں سویا نہیں جاتا مجھ سے حادثوں میں بھی رہی ہے مرے ہونٹوں پہ ہنسی غم کو خوشیوں میں سمویا نہیں جاتا مجھ سے قصۂ ظلم میں کیسے لکھوں کب تک لکھوں اب قلم خوں ...

مزید پڑھیے

عشق کی بات وفاؤں کی کہانی رکھ دے

عشق کی بات وفاؤں کی کہانی رکھ دے ہو گئی آج ہر اک رسم پرانی رکھ دے منتظر ہے مری پیشانی کسی سورج کی اپنے ہونٹوں سے جو تو ایک نشانی رکھ دے گفتگو میری مرا دوست سمجھتا ہی نہیں اس کے دل میں مرے لفظوں کے معانی رکھ دے وہ بھی سیراب ہوں صدیوں سے جو پیاسے ہی رہے خشک صحراؤں میں دریاؤں کا ...

مزید پڑھیے

کس قدر دشوار تھا یہ مسئلہ حل کر دیا

کس قدر دشوار تھا یہ مسئلہ حل کر دیا ایک سرگوشی میں اس نے مجھ کو پاگل کر دیا جانے یہ تاثیر ہاتھوں میں کہاں سے آ گئی اتفاقا اس کو چھو کر میں نے صندل کر دیا جن کی جنبش پر کبھی تھا وقت کا دار و مدار وقت نے دھندلا انہیں آنکھوں کا کاجل کر دیا قاعدے قانون سارے رکھ دیے بالائے طاق ہم نے ...

مزید پڑھیے

کچھ شوخ حسیناؤں سی رنگین کتابیں

کچھ شوخ حسیناؤں سی رنگین کتابیں دن رات مجھے دیتی ہیں تسکین کتابیں انسان ہی تذلیل کیا کرتا ہے ان کی کرتی نہیں انسان کی توہین کتابیں سیکھا ہے فقط ان سے ہی جینے کا سلیقہ تہذیب و تمدن کی ہیں آئین کتابیں جب غم سے میں گھبرا کے تڑپ جاتا ہوں اکثر کرتی ہیں مجھے صبر کی تلقین کتابیں اس ...

مزید پڑھیے

کون ہوگا مری جرأت کا بدل میرے بعد

کون ہوگا مری جرأت کا بدل میرے بعد ختم ہو جائے گا ہر رد عمل میرے بعد کون پھر میری طرح تیرا اڑائے گا مذاق زندگی پھر کسے بخشے گی اجل میرے بعد میرؔ تو میرؔ تھا اور سچ ہی کہا تھا اس نے سر بہ گرداں ہی رہے گی یہ غزل میرے بعد کوئی قدموں سے نہیں روندے گا دولت ان کی کس سے الجھیں گے یہ ارباب ...

مزید پڑھیے

پرندہ آئنے سے کیا لڑے گا

پرندہ آئنے سے کیا لڑے گا فریب ذات میں آ کر مرے گا محبت بھی بڑی لمبی سڑک ہے برہنہ پا کوئی کتنا چلے گا ہمارے جاگنے تک دیکھنا تم ہمارے خواب کا چرچا رہے گا ہماری خاک سے دنیا بنی تھی ہماری راکھ سے اب کیا بنے گا یہ چنگاری بھڑک اٹھے گی اک دن میاں یہ عشق ہے ہو کر رہے گا تجھے دنیا کی ...

مزید پڑھیے

کچھ اہتمام نہ تھا شام غم منانے کو

کچھ اہتمام نہ تھا شام غم منانے کو ہوا کو بھیج دیا ہے چراغ لانے کو ہمارے خواب سلامت رہیں تمہارے ساتھ یہ بات کافی ہے دنیا کی نیند اڑانے کو ہمارا خون کسی کام کا نہیں بھائی یہ پانی ٹھیک ہے لیکن دیئے جلانے کو ہماری راکھ یونہی تو نہیں کریدتے لوگ ہمارے پاس کوئی بات ہے چھپانے کو ترے ...

مزید پڑھیے

حسن کی جنس خریدار لیے پھرتی ہے

حسن کی جنس خریدار لیے پھرتی ہے ساتھ بازار کا بازار لیے پھرتی ہے در بدر حسرت دل دار لیے پھرتی ہے سر ہر کوچہ و بازار لیے پھرتی ہے عدم آباد میں آنے کا سبب ہے ظاہر جستجوئے کمر یار لیے پھرتی ہے دل سوزاں سے نہیں کوئی نشان ظلمت مشعل آہ شب تار لیے پھرتی ہے آتے ہی فصل خزاں بلبل شیدا ...

مزید پڑھیے

میرے سر میں جو رات چکر تھا

میرے سر میں جو رات چکر تھا اس کے زانو پہ غیر کا سر تھا اپنے گھر ان کو کیا بلاتے ہم بوریا بھی نہیں میسر تھا ضبط دل پر بھی اس کی محفل میں اپنا رومال اشک سے تر تھا جان دینے میں سوچ کیا کرتے مفلسی پر بھی دل تونگر تھا خوب و زشت جہاں کا فرق نہ پوچھ موت جب آئی سب برابر تھا آپ جب تک نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3778 سے 6203