قومی زبان

اس دشت سے آگے بھی کوئی دشت گماں ہے

اس دشت سے آگے بھی کوئی دشت گماں ہے لیکن یہ یقیں کون دلائے گا کہاں ہے یہ روح کسی اور علاقے کی مکیں ہے یہ جسم کسی اور جزیرے کا مکاں ہے کرتا ہے وہی کام جو کرنا نہیں ہوتا جو بات میں کہتا ہوں یہ دل سنتا کہاں ہے کشتی کے مسافر پہ یونہی طاری نہیں خوف ٹھہرا ہوا پانی کسی خطرے کا نشاں ...

مزید پڑھیے

تجھ سے اک ہاتھ کیا ملا لیا ہے

تجھ سے اک ہاتھ کیا ملا لیا ہے شہر نے واقعہ بنا لیا ہے ہم تو ہم تھے کہ اس پری رو نے آئنے کا بھی دل چرا لیا ہے ورنہ یہ سیل آب لے جاتا شہر کو آگ نے بچا لیا ہے ایسی ناؤ میں کیا سفر کرنا جس نے دریا کو دکھ سنا لیا ہے کوزہ گر نے ہماری مٹی سے کیا بنانا تھا کیا بنا لیا ہے دیکھیے پہلے کون ...

مزید پڑھیے

بات دل کو مرے لگی نہیں ہے

بات دل کو مرے لگی نہیں ہے میرے بھائی یہ شاعری نہیں ہے جانتی ہے مرے چراغ کی لو کون سے گھر میں روشنی نہیں ہے وہ تعلق بھی مستقل نہیں تھا یہ محبت بھی دائمی نہیں ہے میں جو قصہ سنا چکا تو کھلا کوئی دیوار بولتی نہیں ہے دیکھنے والی آنکھ بھی تو ہو کون دریا میں جل پری نہیں ہے بزدلا چھپ ...

مزید پڑھیے

ہمسائے میں شیطان بھی رہتا ہے خدا بھی

ہمسائے میں شیطان بھی رہتا ہے خدا بھی جنت بھی میسر ہے جہنم کی ہوا بھی یہ شہر تو لگتا ہے کباڑی کی دکاں ہے کھوٹا بھی اسی مول میں بکتا ہے کھرا بھی اس جسم کو بھی چاٹ گئی سانس کی دیمک میں نے اسے دیکھا تھا کسی وقت ہرا بھی جیسے کبھی پہلے بھی میں گزرا ہوں یہاں سے مانوس ہے اس رہ سے مری ...

مزید پڑھیے

میں سچ کہوں پس دیوار جھوٹ بولتے ہیں

میں سچ کہوں پس دیوار جھوٹ بولتے ہیں مرے خلاف مرے یار جھوٹ بولتے ہیں ملی ہے جب سے انہیں بولنے کی آزادی تمام شہر کے اخبار جھوٹ بولتے ہیں میں مر چکا ہوں مجھے کیوں یقیں نہیں آتا تو کیا یہ میرے عزا دار جھوٹ بولتے ہیں یہ شہر عشق بہت جلد اجڑنے والا ہے دکان دار و خریدار جھوٹ بولتے ...

مزید پڑھیے

جتنے پانی میں کوئی ڈوب کے مر سکتا ہے

جتنے پانی میں کوئی ڈوب کے مر سکتا ہے اتنا پانی تو مری اوک میں بھر سکتا ہے یہ تو میں روز کنارے پہ کھڑا سوچتا ہوں پیاس بڑھ سکتی ہے دریا بھی اتر سکتا ہے اک دیا اور تو کچھ کر نہیں سکتا لیکن شب کی دیوار میں دروازہ تو کر سکتا ہے حسن ترتیب سے رکھی ہوئی یادوں کی طرف دیکھنے والا کسی روز ...

مزید پڑھیے

مری رگوں میں جو اک اضطراب ہے کیا ہے

مری رگوں میں جو اک اضطراب ہے کیا ہے لہو ہے روشنی ہے انقلاب ہے کیا ہے یہی صلہ ہے تری محنتوں کا محنت کش تری جبیں پہ جو یہ آفتاب ہے کیا ہے خرد الجھتی رہی اور کھلا نہ راز حیات عذاب ہے کہ یہ نعمت ہے خواب ہے کیا ہے خلوص لفظوں میں کیوں ہے دلوں میں کیوں ہے فریب کسی کے پاس کچھ اس کا جواب ...

مزید پڑھیے

جو اب سے پہلے تھا لہجہ نہیں وہ آج مرا

جو اب سے پہلے تھا لہجہ نہیں وہ آج مرا نہ جانے روٹھ گیا مجھ سے کیوں مزاج مرا بنا دیا ہے تجھے محنتوں سے رشک ارم زمین یہ ہے ترے واسطے خراج مرا جہاں معاف کیا قاتلوں کو منصف نے وہیں پہ درج کیا میں نے احتجاج مرا ہر اک وجود میں میں ہوں حرارتیں بن کر ہے زندگی کے عناصر میں امتزاج ...

مزید پڑھیے

وہ حسن وہ خوشبو مرے کردار میں آ جائے

وہ حسن وہ خوشبو مرے کردار میں آ جائے ہر شخص مجھے دیکھنے بازار میں آ جائے چاہوں بھی تو گھر کو میں کبھی چھوڑ نہ پاؤں اے کاش وہ رنگت در و دیوار میں آ جائے کتنے ہی مظالم ہوں قلم چلتا رہے بس جتنا بھی ہو پانی اسی تلوار میں آ جائے ہر شام شفق دیکھ کے دل کہتا ہے میرا شاید یہی سرخی ہر ...

مزید پڑھیے

خرد سے ہوش سے بیگانہ کر دیا ہے مجھے

خرد سے ہوش سے بیگانہ کر دیا ہے مجھے ترے جمال نے دیوانہ کر دیا ہے مجھے مرا نصیب مری جستجو کرم اس کا طلب سے پہلے عطا دانہ کر دیا ہے مجھے میں فطرتاً بہت آزاد تھا مگر اس نے اسیر بام و در خانہ کر دیا ہے مجھے ہمیشہ خود رہا قائم حقیقتیں بن کر میں بند ٹھہرا سو افسانہ کر دیا ہے مجھے شررؔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3777 سے 6203