قومی زبان

اپنی جاں بازی کا جس دم امتحاں ہو جائے گا

اپنی جاں بازی کا جس دم امتحاں ہو جائے گا خنجر سفاک پر جوہر عیاں ہو جائے گا آہ سوزاں کا اگر اونچا دھواں ہو جائے گا آسماں اک اور زیر آسماں ہو جائے گا کچھ سمجھ کر اس مۂ خوبی سے کی تھی دوستی یہ نہ سمجھے تھے کہ دشمن آسماں ہو جائے گا لے خبر بیمار غم کی ورنہ اے رشک مسیح تیری فرقت میں ...

مزید پڑھیے

جب خدا کو جہاں بسانا تھا

جب خدا کو جہاں بسانا تھا تجھ کو ایسا نہیں بنانا تھا میرے گھر تیرا آنا جانا تھا وہ بھی اے یار کیا زمانہ تھا پھر گئے آپ میرے کوچے سے دو قدم پر غریب خانہ تھا جو نہ سمجھے کہ عاشقی کیا ہے اس سے بیکار دل لگانا تھا آئے تھے بخت آزمانے ہم آپ کو تیغ آزمانا تھا اے ستم گار قبر عاشق پر چند ...

مزید پڑھیے

جھوٹے وعدوں پر تمہاری جائیں کیا

جھوٹے وعدوں پر تمہاری جائیں کیا جانتے ہیں تم کو دھوکا کھائیں کیا پرسش اپنے قتل کی ہونے لگی داور محشر کو ہم بتلائیں کیا ان کی محفل حیرت عالم سہی غیر ہم پہلو جہاں ہو جائیں کیا خون دل کھانے سے کچھ انکار ہے جب نہیں اے لذت غم کھائیں کیا ناصح مشفق کو سمجھانا پڑا اس سمجھ پر تم کو وہ ...

مزید پڑھیے

زبان حال سے ہم شکوۂ بیداد کرتے ہیں

زبان حال سے ہم شکوۂ بیداد کرتے ہیں دہان زخم قاتل دم بدم فریاد کرتے ہیں سمجھ کر کیا اسیران قفس فریاد کرتے ہیں توجہ بھی کہیں فریاد پر صیاد کرتے ہیں عذاب قبر سے پاتے ہیں راحت عشق کے مجرم پس مرداں جفائیں یار کی جب یاد کرتے ہیں نہ کہہ بہر خدا تو بندگان عشق کو کافر بتوں کی یاد میں ...

مزید پڑھیے

اپنے در سے جو اٹھاتے ہیں ہمیں

اپنے در سے جو اٹھاتے ہیں ہمیں خاک میں آپ ملاتے ہیں ہمیں ہے جو منظور جفا در پردہ منہ وہ غیروں میں دکھاتے ہیں ہمیں غیر کو پاس بٹھا رکھتے ہیں جب کبھی آپ بلاتے ہیں ہمیں گرمیاں غیر کو دکھلا دکھلا بزم میں آپ جلاتے ہیں ہمیں شب فرقت میں فلک کے تارے داغ دل یاد دلاتے ہیں ہمیں ان کے ...

مزید پڑھیے

دل و دماغ کی ضد ہے کہ اپنے گھر میں رہو

دل و دماغ کی ضد ہے کہ اپنے گھر میں رہو مزاج کہتا ہے ہر وقت اک سفر میں رہو وجود کچھ نہ رہے صرف اس طرح ہو جاؤ رہو تو ایسے کہ ہر لمحہ ہر نظر میں رہو جھلس رہے ہیں کئی جسم سائبانوں میں کس اعتبار پہ پھر سایۂ شجر میں رہو کسی درخت سے مانگو نہ سائے کی خیرات نبرد آزما سورج سے دوپہر میں ...

مزید پڑھیے

ڈرتا ہوں میں اکثر کہیں ایسا نہ سمجھ لے

ڈرتا ہوں میں اکثر کہیں ایسا نہ سمجھ لے وہ میری توجہ کو تمنا نہ سمجھ لے یہ سوچ کے دانستہ رہا اس سے بہت دور مغرور ہے دریا مجھے پیاسا نہ سمجھ لے ہونٹوں پہ ہنسی ہاتھوں میں نشتر ہیں خبردار کوئی کسی قاتل کو مسیحا نہ سمجھ لے اب میں بھی چٹانوں کی طرح سینہ سپر ہوں طوفان حوادث مجھے تنکا ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی مرحلہ دشوار ہوگا

نہ کوئی مرحلہ دشوار ہوگا جنوں جب قافلہ سالار ہوگا شفق یہ رنگ لائے گی سحر تک کہ خوں آلود ہر اخبار ہوگا رہے گا جو بھی مفلس عہد نو میں یقیناً صاحب کردار ہوگا یہ گھر کو دیکھ کر میں سوچتا ہوں کسی دن مجھ پہ یہ گھر بار ہوگا تشدد کرنے والے یہ بھی سوچیں کہ اک دن سب سے استفسار ...

مزید پڑھیے

اک اہل علم سے اک نکتہ ور سے نکلا تھا

اک اہل علم سے اک نکتہ ور سے نکلا تھا وہ عیب تھا جو متاع ہنر سے نکلا تھا تمام عمر وہ پھر لوٹ کر نہیں آیا نہ جانے کون سی ساعت میں گھر سے نکلا تھا سمجھ رہے ہیں سبھی آسمان کو منزل یہ سلسلہ مرے ذوق سفر سے نکلا تھا وہی تو دے گیا دیوار و در کو ویرانی جو سبزہ کل انہیں دیوار و در سے نکلا ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ دھوپ دیکھی سائباں میں

ہمیشہ دھوپ دیکھی سائباں میں ہے تلخی اس لیے میرے بیاں میں رہے نقش قدم میرے نمایاں ہوا شامل میں جب سے کارواں میں الٰہی خیر ہو اب گلستاں کی بہاریں آ رہی ہیں گلستاں میں ہوئے ہیں منجمد جب سے عناصر ہیں تب سے مبتلا ہم امتحاں میں اندھیروں کے مکینوں سے یہ کہہ دو اجالے ہیں شررؔ کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3779 سے 6203