اپنی جاں بازی کا جس دم امتحاں ہو جائے گا
اپنی جاں بازی کا جس دم امتحاں ہو جائے گا خنجر سفاک پر جوہر عیاں ہو جائے گا آہ سوزاں کا اگر اونچا دھواں ہو جائے گا آسماں اک اور زیر آسماں ہو جائے گا کچھ سمجھ کر اس مۂ خوبی سے کی تھی دوستی یہ نہ سمجھے تھے کہ دشمن آسماں ہو جائے گا لے خبر بیمار غم کی ورنہ اے رشک مسیح تیری فرقت میں ...