میں ہی دستک دینے والا میں ہی دستک سننے والا
میں ہی دستک دینے والا میں ہی دستک سننے والا اپنے گھر کی بربادی پر میں ہی سر کو دھننے والا جیون کا سنگیت اچانک انتم سر کو چھو لیتا ہے ہنستا ہی رہتا ہے پھر بھی میرے اندر مرنے والا رشتے بوسیدہ دیواروں کے جیسے ڈھہ جائیں پل میں لیکن میں بھی دیواروں کے ملبے سے سر چننے والا لفظوں کے ...