قومی زبان

میں ہی دستک دینے والا میں ہی دستک سننے والا

میں ہی دستک دینے والا میں ہی دستک سننے والا اپنے گھر کی بربادی پر میں ہی سر کو دھننے والا جیون کا سنگیت اچانک انتم سر کو چھو لیتا ہے ہنستا ہی رہتا ہے پھر بھی میرے اندر مرنے والا رشتے بوسیدہ دیواروں کے جیسے ڈھہ جائیں پل میں لیکن میں بھی دیواروں کے ملبے سے سر چننے والا لفظوں کے ...

مزید پڑھیے

سوچا کہ وا ہو سبز دریچہ جو بند تھا

سوچا کہ وا ہو سبز دریچہ جو بند تھا پیلاہٹوں کا چہرہ بہت فکر مند تھا ہر سانس تھوکتی تھی لہو زرد رنگ کا ہر شخص اس گلی کا اذیت پسند تھا میٹھے تبسموں کو لیے سب سے بات کی خود سے کیا کلام تو لب زہر قند تھا بونا تھا وہ ضرور مگر اس کے باوجود کردار کے لحاظ سے قد کا بلند تھا میں نے فصیل شب ...

مزید پڑھیے

زخموں کی مناجات میں پنہاں وہ اثر تھا

زخموں کی مناجات میں پنہاں وہ اثر تھا آنکھوں سے ٹپکتا ہوا آنسو بھی گہر تھا اشکوں کی معیت میں تھے مغموم اندھیرے صدمات کی ہر سیج میں اک خوف کا گھر تھا پتے ہوں کہ پھل سب کا تھا اک اور ہی عالم حیرت ہے مگر اس پہ کہ بونا وہ شجر تھا دروازے مکانوں کے ہوئے بند سر شام کہتے ہیں مگر یہ کہ ...

مزید پڑھیے

انہیں قید کرنے کی کوشش ہے کیسی

انہیں قید کرنے کی کوشش ہے کیسی خلا میں صداؤں کی بندش ہے کیسی نہاں مجھ میں ہے اور میرے بدن کا لہو چاٹتی ہے جو خواہش ہے کیسی مجھے مسکرانے کی کس نے سزا دی مری ذات پر یہ نوازش ہے کیسی ملی خوشبوؤں کے جزیرے کی دعوت مجھے پھر رلانے کی سازش ہے کیسی مقدر میں ہے جب ہمارے اندھیرے نظر میں ...

مزید پڑھیے

لغزشیں تنہائیوں کی سب بتا دی جائیں گی

لغزشیں تنہائیوں کی سب بتا دی جائیں گی رنگتیں چہروں کی اس صورت اڑا دی جائیں گی خشک پیڑوں پر نئے موسم اگانے کے لیے زرد پتوں کی یہ تحریریں مٹا دی جائیں گی قحط نیندوں کا پڑے گا چاہتوں کے کھیت میں خواب کی فصلیں اگر ساری جلا دی جائے گی ان سرابوں میں مقید مجھ سے قیدی کے لیے کیا فصیلیں ...

مزید پڑھیے

سر پر دکھ کا تاج سہانا لگتا ہے

سر پر دکھ کا تاج سہانا لگتا ہے میرا چہرہ کیا شاہانا لگتا ہے جب میں کچا پھل تھا تو محفوظ تھا میں اب جو پکا تو مجھ پہ نشانہ لگتا ہے شہر دل کے خواب کی کیا تعبیر کروں کبھی نیا یہ کبھی پرانا لگتا ہے ہاتھوں میں کشکول لیے تو دے نہ صدا بہروں کا تو یہ کاشانہ لگتا ہے آئینے میں دیکھ کے یہ ...

مزید پڑھیے

آپ اپنا نشاں نہیں معلوم

آپ اپنا نشاں نہیں معلوم لٹ گئے ہم کہاں نہیں معلوم لے چلا ہے جنون شوق کدھر ہوگی منزل کہاں نہیں معلوم دوڑتا ہوں غبار کے پیچھے ہے کہاں کارواں نہیں معلوم جھک گیا سر بصد خلوص و نیاز کس کا ہے آستاں نہیں معلوم ایک ہلچل ہے خانۂ دل میں کون ہے میہماں نہیں معلوم برق چمکی تھی ایک بار ...

مزید پڑھیے

ہم روایت کے سانچے میں ڈھلتے بھی ہیں

ہم روایت کے سانچے میں ڈھلتے بھی ہیں اور طرز کہن کو بدلتے بھی ہیں جادۂ عام پر بھی ہے اپنی نظر جادۂ عام سے بچ کے چلتے بھی ہیں راہبانہ قناعت کے خوگر سہی والہانہ کبھی ہم مچلتے بھی ہیں دامن نشہ دیتے نہیں ہات سے رند گرتے بھی ہیں اور سنبھلتے بھی ہیں یوں تو اخفائے غم کا نمونہ ہیں ...

مزید پڑھیے

ہر پیکر رعنائی نے مجھے تیری ہی یاد دلائی ہے

ہر پیکر رعنائی نے مجھے تیری ہی یاد دلائی ہے کچھ عشق مرا ہرجائی ہے کچھ حسن ترا ہرجائی ہے ہاں سوچ سمجھ کر جان وفا میں وہ پتھر ہوں کنارے کا جو موج بھنور سے نکلی ہے اٹھ کر مجھ سے ٹکرائی ہے ٹھہراؤ ہے وضع ساحل میں طوفاں تو نہیں برپا دل میں کجلا تو چلا ہے انگارہ ایسے میں ہوا پروائی ...

مزید پڑھیے

سارا بدن ہے خون سے کیوں تر اسے دکھا

سارا بدن ہے خون سے کیوں تر اسے دکھا شہ رگ کٹی ہے جس سے وہ نشتر اسے دکھا آئے گی کیسے نیند دکھا وہ ہنر اسے پھر اس کے بعد خواب کو چھو کر اسے دکھا آنکھوں سے اپنے اشک کے تاروں کو توڑ کر سوکھی ندی کے درد کا منظر اسے دکھا دکھ سکھ جو دھوپ چھاؤں کا اک کھیل ہے تو پھر سورج کے ساتھ بادلوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 320 سے 6203