قومی زبان

پچھتاوا

میں اپنی آنکھوں کو کھو چکا جب تو راستوں کا سوال آیا سفر کا مجھ کو خیال آیا مگر کروں کیا کہ اب تو آنکھیں ہی کھو چکا ہوں ٹٹول کر میں کہاں تلک راستہ چلوں گا قدم قدم پر نگاہ افسوس ہی ملوں گا

مزید پڑھیے

ایک شب کا مسافر

مجھے کیا خبر تھی کہ تم میری انگلی پکڑ کر چلو گی شب کی تاریک سرحد سے باہر نکلتے ہی دن کے اجالے میں پہلا قدم رکھتے ہی مسکرا کر کہو گی دیکھیے شکریہ اب یہاں سے میں سورج کی کرنوں کے ہم راہ خود ہی چلی جاؤں گی اور میں مڑ کے دیکھوں گا ان راستوں کو جو یوں شب زدہ ہو چکے ہوں کہ اپنا پتہ کھو چکے ...

مزید پڑھیے

رد عمل

میں آندھیوں کی سیاہ یلغار سے بچا بھی تو اپنی منزل نہ پا سکوں گا کہ راستے میں نے اپنے بدل دئے ہیں تمام بے لوث حوصلے بھی کچل دئے ہیں سفر مرا اب شروع ہوا ہے شروع رہے گا ہجوم ملنے تو دو کہیں پر قدم نہ ہوں گے مرے زمیں پر بڑھو بڑھو کی صدائے ماضی بدن کے ساتوں طبق میں ہوگی تو کیا کروں گا کہ ...

مزید پڑھیے

ہر ایک دن تھا اسی کا ہر ایک رات اس کی

ہر ایک دن تھا اسی کا ہر ایک رات اس کی مرے بدن میں رہی مدتوں حیات اس کی مری کتاب میں اس کا بیان سچ ہی تو ہے کہ میرے ذہن پہ چھائی ہوئی ہے ذات اس کی عجیب خواب دکھایا ہے رات آنکھوں نے کہ میرے نام سے منسوب ہے برات اس کی سسک سسک کے کوئی رو رہا تھا دل میں مرے کسی نے جیسے چرا لی ہو کائنات ...

مزید پڑھیے

احتیاط

اس سے ملتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ آنکھیں سنگ ارزاں جسم سونے کا مگر قیمت سے عاری جان پھولوں کی مگر خوشبو سے ناواقف صدا آہنگ سے خالی کہ جیسے کوئی بچہ بھیڑ میں کھو جائے اور رونے لگے اسی باعث میں اس سے جب بھی ملتا ہوں تو اپنی آنکھیں اپنا جسم اپنی جان گھر پر چھوڑ آتا ہوں کہ شام آئے ...

مزید پڑھیے

ایک ساعت

مہرباں ساعت نے اپنی گود میں پھولوں کا گلدستہ سجایا ہواؤں کو بلایا اور کہا دیکھو زمیں سے آسماں تک حد تخیل و بیاں تک مکاں سے لا مکاں تک تم جہاں تک جاؤ میری خوشبوئیں ہم راہ لے جاؤ کہ امشب عرش سے ایسا ستارہ میں نے پایا کہ گھر میرا منور ہو گیا آج ہی کے دن ہمارے در پہ سورج نے صدا دی ...

مزید پڑھیے

عجیب لڑکی

عجیب لڑکی ہے وہ کہ اس کو خدا بنایا تو وہ خفا ہے چہار جانب عبادتوں کا حصار کھینچا مسافتوں کے شجر اگائے ہراس کی وسعتوں کو میں نے طلسم صوت و صدا سے باندھا ہواؤں کو سمت آگہی دی شبوں کے زخمی کبوتروں کو لہو پلایا فلک پہ نیلاہٹیں بکھیریں خلا میں قوس قزح کے رنگین پر اڑائے نگاہ و دل کی ...

مزید پڑھیے

خواہش

میں جب بھی اکیلا ہوتا ہوں دل میرا مجھ سے کہتا ہے اے کاش تو چپکے سے آ کر اپنے نازک ہاتھوں سے میری ان آنکھوں کو بند کرے میں جان کے بھی انجان بنوں کچھ نام یوں ہی بے معنی سے بیگانے سے گنوا ڈالوں تو آنکھ مری کھولے نہ کبھی جب تک میں تیرا نام نہ لوں میں نام نہ لوں

مزید پڑھیے

زمیں کی کیا کہوں کہ سر پہ آسمان بھی نہیں

زمیں کی کیا کہوں کہ سر پہ آسمان بھی نہیں ہماری قسمت وفا میں امتحان بھی نہیں اڑے تو کس طرح اڑے یہ آج طائر نگاہ ہوا بھی گرد گرد ہے پروں میں جان بھی نہیں سنوں میں اس کی جھوٹ بات اور ہنس کے چپ رہوں کہ میرے منہ میں اپنے واسطے زبان بھی نہیں قلم اٹھاؤ آج میں لہو کا ذائقہ لکھوں کہ اب مرے ...

مزید پڑھیے

چند فقرے زیر لب تڑپا کیے

چند فقرے زیر لب تڑپا کیے وہ ہمیں اور ہم انہیں دیکھا کیے غم تھا اپنی بد نصیبی کا انہیں دیر تک کچھ لفظ کل رویا کیے میرے قدموں میں رہی منزل مری راستے صورت مری دیکھا کیے غم بھی اک نعمت ہے لیکن دوستو ہم اسے پایا کیے کھویا کیے مجھ سے مل کر کل مرے احباب بھی دیر تک کیا جانے کیا سوچا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 305 سے 6203