قومی زبان

لہو نے بھگوئے مہاجر پرندے

لہو نے بھگوئے مہاجر پرندے قطاروں میں روئے مہاجر پرندے زمیں ہو گئی تنگ تیری خدایا ہواؤں میں سوئے مہاجر پرندے شکاری پرندوں کو کاٹے ہے ایسے کہ ہوں جیسے بوئے مہاجر پرندے خدایا خبر خیر کی آئے جلدی ابھی تک ہیں کھوئے مہاجر پرندے بہت یاد کرتے ہیں اہل چمن کو وطن سے پروئے مہاجر ...

مزید پڑھیے

بغض و حسد کی آگ سے باہر نکال دے

بغض و حسد کی آگ سے باہر نکال دے مجھ کو شعور و فکر کے رستے پہ ڈال دے جن کے جواب میں مجھے تیرا سرا ملے فکر رسا کو ایسے مسلسل سوال دے تیرے علاوہ ہاتھ یہ پھیلے نہیں کہیں اپنی جناب سے مجھے رزق حلال دے آرام کرنا جرم ہو منزل کی کھوج میں مجھ کو مرے مزاج میں اوج کمال دے کرنا ہے روشنی سے ...

مزید پڑھیے

مرا کنبہ بلایا جا چکا تھا

مرا کنبہ بلایا جا چکا تھا مرا ماتم منایا جا چکا تھا کہا منصور کو تھا پیر میں نے مجھے سولی چڑھایا جا چکا تھا حوالے قبر کے کرنے سے پہلے مرا پتلا جلایا جا چکا تھا لگا کر ٹیگ ہم پر مسلکوں کا ہمیں ہم سے لڑایا جا چکا تھا ہماری بستیوں کو ڈوبنا تھا سمندر کو ہلایا جا چکا تھا نہیں میں ...

مزید پڑھیے

دسترس

ہماری دسترس میں کیا ہے کیا نہیں زمیں نہیں خلا نہیں کہ آسماں نہیں ہمیں تو صرف سوچنا یہ چاہیے کہ مٹھیاں کھلی رہیں ہتھیلیوں سے انگلیاں جڑی رہیں زمیں سے پاؤں پاؤں سے قدم قدم سے راستوں کا سلسلہ بنا رہے ہمیں تو صرف دیکھنا یہ چاہیے کہ جس کو لوگ رد کریں اور اپنی دید کی غلیظ چادروں سے ...

مزید پڑھیے

چھٹی کا ایک دن

ایک دن چھٹی کا یوں گزرا کہ مجھ کو دکھ گئے ساتوں طبق چاند کی بڑھیا خلاؤں کی حدیں سورج کا گھر اور کیا دیکھا کہاں دیکھا بیاں کرتا چلوں شہر سے باہر سمندر کے قریب ریت پر پھیلا ہوا رنگیں جواں جسموں کا گوشت جا بجا پھیلے ہوئے بستان رانیں پنڈلیاں شرم گاہیں اپنی کتوں سے چھپائے لڑکیاں اور ...

مزید پڑھیے

خوش نمائی سے ماورا تو ہے

خوش نمائی سے ماورا تو ہے ہے اگر کوئی حق نما تو ہے تو ہی محور ہے میری گردش کا اور مرکز بھی با خدا تو ہے میرا مقصد نہیں ہے دید فقط میرا ہر ایک مدعا تو ہے جان لیوا ہے زہر وحشت کا جس کا تریاک موت یا تو ہے فہم و ادراک سے جو بالا ہے وہ کہانی وہ ماجرا تو ہے درمیاں بھی ہے انعکاس ...

مزید پڑھیے

محبت ہو گئی ہے تو کیا میری خطا ہے

محبت ہو گئی ہے تو کیا میری خطا ہے مجھے ہی سوچتی ہے تو کیا میری خطا ہے مرے بن کچھ بھی اچھا نہیں لگتا تجھے اب یہ دنیا بوجھ سی ہے تو کیا میری خطا ہے وہ جس کو چھوڑ کر میں ترے پہلو میں آیا وہ مجھ کو ڈھونڈھتی ہے تو کیا میری خطا ہے مرے ہی دم سے تیرے چمن میں رونقیں ہیں ہوائیں جھومتی ہیں ...

مزید پڑھیے

آئے تھے پردیس میں دو چار برسوں کے لئے

آئے تھے پردیس میں دو چار برسوں کے لئے رو رہے ہیں بیٹھ کر آئندہ نسلوں کے لئے غیر ملکی ہیں یہاں پر ہم وطن میں اجنبی بیچ دی پہچان اپنی ہم نے پیسوں کے لئے کر دیا مزدوریوں نے بوڑھا ہم کو اس طرح بن پروں کے جیسے پنچھی ہوں اڑانوں کے لئے کچھ پہ کچرا گھر بنے ہیں کچھ پہ قبضہ ہو گیا چھوڑ آئے ...

مزید پڑھیے

نظم

میں کل رات اس شہر کی اس سڑک پر گیا جہاں لوگ اپنی صداؤں سے ڈر کر سماعت کو نیلام کر رہے تھے ہر اک شخص بس بولنا چاہتا تھا ہر اک شخص مٹھی میں جملے چھپائے کھڑا تھا وہاں لڑکیاں لال پیلی ہری تتلیوں کی طرح تیرتی پھر رہی تھیں مگر اپنے جسموں کے سارے خطرناک حصوں سے خود ڈر رہی تھیں وہاں کانچ ...

مزید پڑھیے

مکالمہ

اٹھو جاؤ فوراً نہاؤ کہ تم خواب میں لڑکیوں سے ملے ہو تو پھر کیا ہوا لڑکیوں سے تو میں روز ہی گھر میں بازار میں اور آفس میں ملتا ہوں باتیں بھی کرتا ہوں بوسے بھی لیتا ہوں مگر مگر کچھ نہیں جاؤ جا کر نہاؤ اچھا اگر یہ ہی ضد ہے تمہاری تو میں جا رہا ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 304 سے 6203