تمام رنگ جہاں التجا کے رکھے تھے
تمام رنگ جہاں التجا کے رکھے تھے لہو لہو وہیں منظر انا کے رکھے تھے کرم کے ساتھ ستم بھی بلا کے رکھے تھے ہر ایک پھول نے کانٹے چھپا کے رکھے تھے سکون چہرے پہ ہر خوش ادا کے رکھے تھے سمندروں نے بھی تیور چھپا کے رکھے تھے مری امید کا سورج کہ تیری آس کا چاند دیے تمام ہی رخ پر ہوا کے رکھے ...