قومی زبان

نہ بڑھ سکیں گے قدم کہاں تک نہ اٹھ سکے گی نگاہ کب تک

نہ بڑھ سکیں گے قدم کہاں تک نہ اٹھ سکے گی نگاہ کب تک مرے جنوں کی ہنسی اڑایا کریں گے یہ مہر و ماہ کب تک غم محبت کی دسترس سے نکل چکا اب غم زمانہ تری نگاہیں بھی دے سکیں گی دل حزیں کو پناہ کب تک ہر ایک لحظہ ہر ایک ساعت نئے حوادث نئے مصائب یہ زندگی ہے تو زندگی سے کرے گا کوئی نباہ کب ...

مزید پڑھیے

کیا بتاؤں مجھے کیا یاد ہے کیا یاد نہیں

کیا بتاؤں مجھے کیا یاد ہے کیا یاد نہیں اتنے غم ہیں کہ غم ہوش ذرا یاد نہیں اس گنہ گار محبت پہ خدا رحم کرے جس کو کچھ تیری محبت کے سوا یاد نہیں میری دیوانہ مزاجی پہ ہے الزام مگر اپنی بیگانہ نگاہی کی ادا یاد نہیں تم نے کچھ مجھ سے کہا تھا دم رخصت اک دن اب خدا جانے تمہیں یاد ہے یا یاد ...

مزید پڑھیے

ہر شب غم کی سحر بھی ہوگی

ہر شب غم کی سحر بھی ہوگی زندگی ہے تو بسر بھی ہوگی وہ زمانہ بھی کبھی آئے گا دل کی جب دل کو خبر بھی ہوگی درد کم کم نہیں افزوں ہوگا چشم پر نم نہیں تر بھی ہوگی آتش عشق جسے کہتے ہیں وہ ادھر ہے تو ادھر بھی ہوگی ظلم ہی ظلم نہ ہوگا آخر پیار کی ایک نظر بھی ہوگی میں خطا کار نظر ہوں لیکن یہ ...

مزید پڑھیے

جو فلسفہ و دانش و حکمت نے تراشے (ردیف .. ن)

جو فلسفہ و دانش و حکمت نے تراشے وہ نت نئے اصنام بھی ہم توڑ کے خوش ہیں فرسودہ روایات کے پابند رہیں کیوں ہر رہ گزر عام کو ہم چھوڑ کے خوش ہیں زندان عناصر ہی پہ موقوف نہیں کچھ زنجیر شب و روز بھی ہم توڑ کے خوش ہیں افسانۂ دل ہے بھی نہیں بھی ہے مکمل اک ایسے حسیں موڑ پہ ہم چھوڑ کے خوش ...

مزید پڑھیے

ہر چند کہ ہم مورد پر قہر و غضب ہیں

ہر چند کہ ہم مورد پر قہر و غضب ہیں باطل کے پرستار نہ پہلے تھے نہ اب ہیں وہ لوگ کہاں اب جنہیں کہتے تھے مجاہد اس دور ترقی میں سب آرام طلب ہیں فرصت جو ملے غم سے تو مسمار ہی کر دوں جتنے بھی سر راہ یہ ایوان طرب ہیں کیا جانیے کس نشۂ غفلت میں ہیں سرشار مدہوش نہیں ہم مگر ہشیار بھی کب ...

مزید پڑھیے

جس طرح ہوا جس طور ہوا ہر ظلم گوارا ہو تو گیا

جس طرح ہوا جس طور ہوا ہر ظلم گوارا ہو تو گیا جی جی کے مرے مر مر کے جیے دنیا میں گزارا ہو تو گیا اس فکر میں ہوں اس سوچ میں ہوں انجام بہاراں کیا ہوگا ہر شاخ نشیمن جل تو گئی ہر پھول شرارا ہو تو گیا آوارہ سہی ناکارہ سہی دیوانہ سہی تم سا نہ سہی خود اپنا سہی میں یا نہ سہی کیا فکر تمہارا ...

مزید پڑھیے

لوگوں سے دور سیکڑوں لوگوں کے ساتھ ہوں

لوگوں سے دور سیکڑوں لوگوں کے ساتھ ہوں میں موج کی طرح کئی موجوں کے ساتھ ہوں تنہا بھی ہوں سڑک پہ کسی پول کی طرح اور منسلک بھی دوسرے پولوں کے ساتھ ہوں تم کو تو چھاؤں کوئی گھنی چھاؤں چاہئے میں آج بھی جلے ہوئے پیڑوں کے ساتھ ہوں بس اک قدم اٹھا تو وہیں ٹوٹ جاؤں گا مثل حباب پاؤں کے ...

مزید پڑھیے

زخم تھوڑی سی خوشی دے کے چلے جاتے ہیں

زخم تھوڑی سی خوشی دے کے چلے جاتے ہیں خشک آنکھوں کو نمی دے کے چلے جاتے ہیں روز آتے ہیں اجالے مرے اندھے گھر میں روز اک تیرہ شبی دے کے چلے جاتے ہیں ان کرائے کے گھروں سے تو میں بے گھر اچھا نت نئی در بدری دے چلے جاتے ہیں ذائقہ مدتوں رہتا ہے مرے ہونٹوں پر وہ ذرا سی جو ہنسی دے کے چلے ...

مزید پڑھیے

دونوں طرف ہی برسوں یہ سلسلے رہے تھے

دونوں طرف ہی برسوں یہ سلسلے رہے تھے کچھ وہ تھے بد گماں سے کچھ ہم کھنچے رہے تھے جن کو مرے جنوں سے کچھ واسطہ نہیں تھا مڑ مڑ کے میری جانب کیوں دیکھتے رہے تھے تجھ پر خدا کی رحمت اے دل ہے یہ حقیقت جب تک نہ تھا ترا غم ہم چین سے رہے تھے وہ گلشن محبت تاراج ہو گیا کیا کل تک جو خون دل سے ہم ...

مزید پڑھیے

ہم بھی اے دوست غم عشق کے مارے تھے کبھی

ہم بھی اے دوست غم عشق کے مارے تھے کبھی ہم نے بھی چند حسیں لمحے گزارے تھے کبھی کون مانے گا کسے آج یقیں آئے گا ہم بھی دنیا کو دل و جان سے پیارے تھے کبھی اب یہ عالم ہے خلاؤں میں بھٹکتی ہے نظر ذرے ذرے میں نہاں چاند ستارے تھے کبھی اب وہی ہاتھ ہیں اور چاک گریباں ظالم جن سے دن رات ترے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2448 سے 6203