قومی زبان

نہ پہنچ سکا زمانہ مرے حال تک نہ پہنچے

نہ پہنچ سکا زمانہ مرے حال تک نہ پہنچے میں وہاں ہوں جادہ پیما کہ خیال تک نہ پہنچے جنہیں تجھ کو دیکھنا ہو وہ مری نظر سے دیکھیں خد و خال میں جو الجھے وہ جمال تک نہ پہنچے مرا انتظار وعدہ ترا اعتبار فردا شب و روز رفتہ رفتہ مہ و سال تک نہ پہنچے جنہیں تیری آرزو تھی جنہیں تیری جستجو ...

مزید پڑھیے

ہر سانس میں شامل رہتے ہیں ہر خواب سنوارا کرتے ہیں

ہر سانس میں شامل رہتے ہیں ہر خواب سنوارا کرتے ہیں کیا کیا نہ ہماری خاطر وہ تکلیف گوارا کرتے ہیں سجدوں سے تلافی ہو کیوں کر حیران و پریشاں ہیں خود سر وہ بوجھ جو ہوتا ہے دل پر کس طرح اتارا کرتے ہیں ہر حال میں ہیں راضی بہ رضا ہم اہل یقیں ہم اہل وفا ہے کون ہمارا تیرے سوا تجھ ہی کو ...

مزید پڑھیے

سوچو تو بہت کچھ ہے مگر بات ذرا سی

سوچو تو بہت کچھ ہے مگر بات ذرا سی یاد آتی ہے اب تک وہ ملاقات ذرا سی اے کاش کہ پاکیزگیٔ حسن کو ملتی وارفتگیٔ شورش جذبات ذرا سی اک عمر تری یاد میں کس طرح گزاریں وہ جن سے گزرتی نہیں اک رات ذرا سی اب بھی وہی عالم ہے وہی ہم ہیں وہی غم بدلی ہی نہیں صورت حالات ذرا سی اتنا بھی نہ دے طول ...

مزید پڑھیے

نہ اخلاص کامل نہ بیداد پوری

نہ اخلاص کامل نہ بیداد پوری وفا بھی ادھوری جفا بھی ادھوری وہی ہم وہی تم وہی رنج دوری محبت میں کیا فاصلہ ہے ضروری بہ ایں ربط باہم بہ ایں ضبط پیہم وہی نا شکیبی وہی ناصبوری محبت کی دنیا محبت سراپا یہاں کوئی خاکی نہ ناری نہ نوری یہ سب منطق و فلسفہ بے حقیقت ابھی تک وہی عقل کی بے‌ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2449 سے 6203