نہ پہنچ سکا زمانہ مرے حال تک نہ پہنچے
نہ پہنچ سکا زمانہ مرے حال تک نہ پہنچے میں وہاں ہوں جادہ پیما کہ خیال تک نہ پہنچے جنہیں تجھ کو دیکھنا ہو وہ مری نظر سے دیکھیں خد و خال میں جو الجھے وہ جمال تک نہ پہنچے مرا انتظار وعدہ ترا اعتبار فردا شب و روز رفتہ رفتہ مہ و سال تک نہ پہنچے جنہیں تیری آرزو تھی جنہیں تیری جستجو ...