قومی زبان

خواہش وصل کو قلیل نہ کر

خواہش وصل کو قلیل نہ کر شب ہجراں کو اب طویل نہ کر میں نے تجھ کو رکھا سر آنکھوں پر زندگی تو مجھے ذلیل نہ کر جس کا جی چاہے پی لے جی بھر کے اتنی سستی کبھی سبیل نہ کر اپنے نام و نشاں مٹاتا چل نقش پا کو تو سنگ میل نہ کر نیند کی وادیوں میں رات گزار عرصۂ خواب کو قلیل نہ کر تیرا محتاج ...

مزید پڑھیے

قوالی

سبق بس کھیلنے کھانے کا جس کو یاد ہوتا ہے بڑا ہو کر وہ لڑکا ایک دن استاد ہوتا ہے نہ آئے ماسٹر جس دن پڑھانے میرے درجے میں ذرا سی دیر کو اس دن میرا دل شاد ہوتا ہے جو مولیٰ بخش سے وہ پیٹتے ہیں مجھ کو مکتب میں کوئی سمجھائے ان کو وقت بھی برباد ہوتا ہے بنایا جاتا ہوں مرغا میں جس دن اپنے ...

مزید پڑھیے

حساس دل تھا تاب نظارہ بکھر گئی

حساس دل تھا تاب نظارہ بکھر گئی پھیلی ہوئی تھی پیاس جہاں تک نظر گئی دروازہ کھولتے ہی عجب سانحہ ہوا منظر کی آگ سب مرے سینے میں بھر گئی زندہ ہوں اب بھی گر ہے تنفس کا نام زیست سینے میں کوئی چیز جو زندہ تھی مر گئی اب کس کی جستجو میں زمانہ ہے غوطہ زن پاتال میں خلوص کی کشتی اتر گئی

مزید پڑھیے

وہ راہیں جن سے ابھی تک نہیں گزر میرا

وہ راہیں جن سے ابھی تک نہیں گزر میرا لگا ہوا ہے انہیں راستوں کو ڈر میرا نہ جانے کون تھا جس نے مجھے بچایا ہے مجھے خبر بھی نہ تھی جل رہا تھا گھر میرا نہیں ہے بوجھ مرے نام پر مناصب کا میں آدمی ہوں تعارف ہے مختصر میرا گنوا کے ذات کو لایا ہوں زندگی کی خبر مری سنو کہ حوالہ ہے معتبر ...

مزید پڑھیے

ہوئی جو شام راستے گھروں کی سمت چل پڑے

ہوئی جو شام راستے گھروں کی سمت چل پڑے ہمیں مگر یہ کیا ہوا یہ ہم کدھر نکل پڑے کسی کی آرزؤں کی وہ سرد لاش ہی سہی کسی طرح تو جسم کی حرارتوں کو کل پڑے اسی کی غفلتوں پہ میری عظمتیں ہیں منحصر خدانخواستہ کہ اس کی نیند میں خلل پڑے سفر طویل تھا مگر گھٹا اٹھی امید کی کڑی تھی دھوپ دیکھیں ...

مزید پڑھیے

اب جو سویا تو یہ کروں گا میں

اب جو سویا تو یہ کروں گا میں خواب کے ہونٹ چوم لوں گا میں بزم میں سچ بھی میں نے بولا ہے زہر کا جام بھی پیوں گا میں اے مجھے موت دینے والے سن تو ہی مر جائے گا جیوں گا میں یہ مرے دوست کی نشانی ہے چاک دامن بھلا سیوں گا میں مجھ پہ بس میری حکمرانی ہے یوں جیا ہوں یونہی جیوں گا میں

مزید پڑھیے

مجھ کو کہاں گمان گزرتا کہ میں بھی ہوں

مجھ کو کہاں گمان گزرتا کہ میں بھی ہوں دیکھا تمہیں تو میں نے یہ جانا کہ میں بھی ہوں میرے بھی بخت میں ہے اندھیرا کہ میں بھی ہوں سمجھے نہ رات خود کو اکیلا کہ میں بھی ہوں گھر تو بہا کے لے گیا خاشاک کی طرح دریا نہ چھوڑ مجھ کو اکیلا کہ میں بھی ہوں اے کاش چیختا اسے آتا تو میں نظر اس صاحب ...

مزید پڑھیے

خدا رکھے مری دیوانگی کو

خدا رکھے مری دیوانگی کو نہ بھولا ہوں نہ بھولوں گا کسی کو نہ کر رسوا مذاق مے کشی کو بجھا لے بے پیے ہی تشنگی کو مرے نزدیک تمہید الم ہے خوشی میں کہہ نہیں سکتا خوشی کو لٹا کر کائنات زندگانی بہ مشکل آج پایا ہے کسی کو سہارا لے رہا ہوں بے بسی کا مکمل کر رہا ہوں زندگی کو نہ سمجھا ہے نہ ...

مزید پڑھیے

اس مقتل ہستی سے گزر جائیں گے ہم بھی

اس مقتل ہستی سے گزر جائیں گے ہم بھی دنیا یہی دنیا ہے تو مر جائیں گے ہم بھی ہم سے بھی الجھتے ہیں بہ ہر گام یہ سائے شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ڈر جائیں گے ہم بھی جیسے بھی ہیں انسان ہیں اے باد مخالف تنکے تو نہیں ہیں کہ بکھر جائیں گے ہم بھی یہ تندی و تیزی ہے تو لہروں کے سہارے کشتی نہ سہی ...

مزید پڑھیے

نہ آسماں سے شکایت نہ باغباں سے مجھے

نہ آسماں سے شکایت نہ باغباں سے مجھے مرے جنوں نے نکالا ہے گلستاں سے مجھے غم حبیب یہ احساں ترا نہ بھولوں گا کہ بے نیاز کیا تو نے دو جہاں سے مجھے فریب وہم و گماں ہے طلسم علم و یقیں یہ درس خاص ملا سعیٔ رائیگاں سے مجھے بڑے مزے سے گزرتی جو دل پہ بس ہوتا نجات ملتی نہیں اس بلائے جاں سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2447 سے 6203