قومی زبان

لہو فشاں ہیں ورق اور دل تپیدہ ہیں

لہو فشاں ہیں ورق اور دل تپیدہ ہیں ادیب شہر کے اب بھی قلم بریدہ ہیں نہ اذن آہ و فغاں ہے کہ نوحۂ ہستی کسے سنائیں جو الفاظ خوں چکیدہ ہیں کبھی زبانیں نکل آئیں خارزاروں کی شجر چمن کے خموشی سے سر خمیدہ ہیں نہیں معاف میرے گھر میں جرم حق گوئی سنبھل کے دیکھ شہر میں جو سر کشیدہ ہیں بس ...

مزید پڑھیے

کہاں کھوئی تھی تیری راہ گزر لکھی ہے

کہاں کھوئی تھی تیری راہ گزر لکھی ہے دل کے اوراق پہ روداد سفر لکھی ہے کسی گوشے میں دھری اب بھی ہے الماری میں تیرے بارے میں وہ اک چٹھی جو گھر لکھی ہے رات بھر کرتے کے گھیرے پہ گرا خون جگر داستاں پھر سے تری دیدۂ تر لکھی ہے چاندنی دھوکا تو چہرہ ہے فقط حسن نظر لغت درد میں تقدیر قمر ...

مزید پڑھیے

حقیقتوں کی طلب ہے ابھی مجاز میں ہوں

حقیقتوں کی طلب ہے ابھی مجاز میں ہوں زمانہ بیت گیا حالت نماز میں ہوں میری تلاش ادھوری کہیں نہ رہ جائے کبھی نشیب میں ہوں اور کبھی فراز میں ہوں گداز درد کا فطرت میں لے کے آیا ہوں کسی کے سوز میں ہوں اور کسی کے ساز میں ہوں نظر اٹھا کے ذرا دیکھ مجھ کو بھی ساقی سوالیوں کی طرح تیری بزم ...

مزید پڑھیے

نغمگی شعر غنا چاند کا کنگن آنکھیں

نغمگی شعر غنا چاند کا کنگن آنکھیں اک مچلتے ہوئے احساس کا آنگن آنکھیں لہلہاتے ہوئے شاداب کنول لپٹا کر کوئی احساس دلاتی ہیں مدھوبن آنکھیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا میں کہوں کیا ان کو شعلۂ طور ید بیضا کہ کندن آنکھیں میرے احساس کے کانٹے تو نکلتے ہی نہیں پھول اور موتی چنا کرتی ہیں ...

مزید پڑھیے

کس کس جتن سے ان کو بلائیں محبتیں

کس کس جتن سے ان کو بلائیں محبتیں داغوں سے دل کے گھر کو جلائیں محبتیں چبھنے پہ لمس گل سے بھی بنتا ہے زخم اور کھو جائیں گر تو خون رلائیں محبتیں آنکھوں میں رنگ بھر کے یہ بینائی چھین لیں کیا کیا حسین خواب دکھائیں محبتیں کیا ہو گیا عذاب یہ اب حافظہ مرا تو ہی بتا کہ کیسے بھلائیں ...

مزید پڑھیے

آؤ بیٹھو درد کی باتیں کریں

آؤ بیٹھو درد کی باتیں کریں راستوں کی گرد کی باتیں کریں دل کے اجڑے گلستاں کو بھول کر آج برگ زرد کی باتیں کریں اپنا دکھ سکھ کہہ کے پھر برسوں کے بعد گھر کے اک اک فرد کی باتیں کریں سرخ پھولوں کی کہانی چھیڑ کے پھر سے برگ زرد کی باتیں کریں روشنی پیچھے شہر کی رہ گئی دل کی شمع سرد کی ...

مزید پڑھیے

زخم بھر جائیں گے لیکن اک نشاں رہ جائے گا

زخم بھر جائیں گے لیکن اک نشاں رہ جائے گا کچھ بھی ہو پہلے کی طرح دل کہاں رہ جائے گا تم چلے جاؤ گے لیکن میرے سینے میں سدا راکھ میں لپٹا ہوا آتش فشاں رہ جائے گا آنکھ سے میگھا برس کر آپ ہی تھم جائے گی گھٹ کے سینے میں کچھ آہوں کا دھواں رہ جائے گا کھینچ کر روح وقت رخصت ساتھ تم لے جاؤ ...

مزید پڑھیے

بھلا تلاش ہے کیسی کہ ختم ہوتی نہیں (ردیف .. ے)

بھلا تلاش ہے کیسی کہ ختم ہوتی نہیں کہیں تو پاؤں ٹھہرتے کہیں قدم رکتے خیال آیا ترا اور میں خود کو بھول گیا سمٹ گئے ہیں اسی دائرے میں سب نکتے یہ بے حسی کہ کسی طرح ٹوٹتی ہی نہیں وہ پھر سے خار چبھوتا کہ زخم دل دکھتے ہوا سے ٹوٹتے پتوں کا رنج کس کو تھا نہ بار گل ہی تھا جن پہ تنے وہ کیا ...

مزید پڑھیے

تھک کے بیٹھا تھا کہ منزل نظر آئی مجھ کو

تھک کے بیٹھا تھا کہ منزل نظر آئی مجھ کو حوصلہ دینے لگی آبلہ پائی مجھ کو نذر کر دیتے ہیں وہ اپنی کمائی مجھ کو سر اٹھانے نہیں دیتے مرے بھائی مجھ کو میں جہاں جاتا ہوں اس پیکر نوری کے سوا اور کچھ بھی نہیں دیتا ہے دکھائی مجھ کو اس ستم پیشہ نے قربت کا نہ مرہم رکھا عمر بھر دیتا رہا زخم ...

مزید پڑھیے

روایتوں کا بہت احترام کرتے ہیں

روایتوں کا بہت احترام کرتے ہیں کہ ہم بزرگوں کو جھک کر سلام کرتے ہیں ہر اک شخص یہ کہتا ہے اور کچھ کہئے ہم اپنی بات کا جب اختتام کرتے ہیں کبھی جلاتے نہیں ہم تو برہمی کا چراغ وہ دشمنی کی روش روز عام کرتے ہیں حریف اپنا اگر سر جھکا کے ملتا ہے تو ہم بھی تیغ کو زیب نیام کرتے ہیں مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2446 سے 6203