قومی زبان

بعد ترے حالات نے کتنے موڑ لیے

بعد ترے حالات نے کتنے موڑ لیے ہم نے ویرانوں سے رشتے جوڑ لیے خواب سجا کر پتھر کی الماری میں ہم نے سارے کانچ کے برتن توڑ لیے گلشن بھی ویرانے جیسا لگتا ہے پھول اس نے کھلتے ہی سارے توڑ لیے ڈھ گئیں ضبط کی ساری کچی دیواریں آنکھ کے گوہر ہاتھ سے مل کر پھوڑ لیے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ...

مزید پڑھیے

دوستوں کی بے نیازی کو ادا کا نام دو

دوستوں کی بے نیازی کو ادا کا نام دو بے رخی حد سے جو بڑھ جائے انا کا نام دو دل کے گل داں میں سجاؤ تازہ زخموں کے گلاب اور پھر سینے کو اک باغ وفا کا نام دو اشک شوئی میں ہتھیلی پہ جو لگ جائے لہو اس کو از راہ ادب رنگ حنا کا نام دو دل کے داغوں کا چمن ہر دم مہکنا چاہئے اپنی آہوں کے دھوئیں ...

مزید پڑھیے

منجدھار میں لا کر نیا بھی مانجھی کو ڈبوتے دیکھا ہے

منجدھار میں لا کر نیا بھی مانجھی کو ڈبوتے دیکھا ہے لمحوں کے دریدہ دامن میں برسوں کو سموتے دیکھا ہے کچھ لوگ جہاں میں ایسے ہیں شیشے کا جگر جو رکھتے ہیں پتھر کے گھروں میں رہتے ہیں انہیں کس نے روتے دیکھا ہے کچھ آنکھیں ایسی ہوتی ہیں جو ہر دم ہنستی رہتی ہیں بھرپور تبسم کے پیچھے دل ...

مزید پڑھیے

ہوا کا جال بھلا ٹوٹ کر بکھرتا کیا

ہوا کا جال بھلا ٹوٹ کر بکھرتا کیا مری صدا کا پرندہ اڑان بھرتا کیا نہ دست و پا ہی سلامت رہے نہ سر باقی اب اس سے بڑھ کے کوئی سانحہ گزرتا کیا کہ اس نے تار تخاطب کو ناگہاں چھیڑا الجھ کے رہ گئی آواز سر ابھرتا کیا بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کا سخت جاں منظر بچھڑتے وقت میں آنکھوں میں قید کرتا ...

مزید پڑھیے

دھنک لالہ شفق جگنو ستارہ دیکھتا ہے وہ

دھنک لالہ شفق جگنو ستارہ دیکھتا ہے وہ سدا خوش رنگ روشن استعارہ دیکھتا ہے وہ کبھی خود آپ اپنا حوصلہ پایاب ہونے کا کبھی حسرت سے دریا کا کنارہ دیکھتا ہے وہ عجب متضاد حاصل کاروبار شوق ہے اس کا افادہ سوچتا ہے تو خسارہ دیکھتا ہے وہ زمانہ محو حیرت ہے کہ بجھتی راکھ کے اندر ہوا دے دے ...

مزید پڑھیے

طبیعت میں کسی حد تک متانت چاہئے کچھ اور

طبیعت میں کسی حد تک متانت چاہئے کچھ اور حریفوں سے بھی نہ حرف و حکایت چاہئے کچھ اور اب ایسی بھی کیا مجبوری کہ خود میں گم رہا جائے بدن میں اپنے ہونے کی علامت چاہئے کچھ اور خزاں دیدہ شجر ہوں پھولنا پھلنا مگر چاہوں مرے حق میں بہاروں کی حمایت چاہئے کچھ اور کوئی مکتوب یاراں کہ کوئی ...

مزید پڑھیے

دھند سی کہانی لکھ

دھند سی کہانی لکھ لفظ لفظ فانی لکھ ریت ریت ہونٹوں پر بوند بوند پانی لکھ آگ سی عبارت کے پھول سے معانی لکھ خنجروں کی دھاروں پر مرگ ناگہانی لکھ رات اور ستارے کو راہ اور نشانی لکھ جسم لکھ سمندر کو موج کو جوانی لکھ آخری تھکن کے نام پہلی کامرانی لکھ

مزید پڑھیے

سورج کی طرح سایۂ دیوار میں آیا

سورج کی طرح سایۂ دیوار میں آیا وو شخص مرے حلقۂ معیار میں آیا بے ساختہ کھلتے گئے پلکوں پہ ستارے وہ موسم زرخیز شب تار میں آیا کل رات بھی گل رنگ ہوا تھا کوئی بستر یہ ذکر نئی طرح سے اخبار میں آیا اک یاد سے ڈوبی ہوئی ہر نبض پھر ابھری ٹھہراؤ سا پھر سانس کی رفتار میں آیا کچھ دیر جھکی ...

مزید پڑھیے

مقابل دیر تک روشن ستارہ چاہئے کچھ اور

مقابل دیر تک روشن ستارہ چاہئے کچھ اور اندھیرے کا احاطہ پارہ پارہ چاہئے کچھ اور کہیں بھی دیر تک ٹکنا گوارہ ہے نہیں اس کو نگاہ یار کو ہر پل نظارہ چاہئے کچھ اور سفر میں جھیل کے جب ناؤ اپنی نارسا ٹھہری کھلا مجھ پر کہ اس بابت شکارا چاہئے کچھ اور عجب کیا کہ بدن کی جل بجھی سی راکھ کے ...

مزید پڑھیے

جثۂ تحیر کو لفظ میں جکڑتے ہیں

جثۂ تحیر کو لفظ میں جکڑتے ہیں شعر ہم نہیں کہتے تتلیاں پکڑتے ہیں کیوں ہمارے قبضے میں کوئی جن نہیں آتا اس چراغ ہستی کو ہم بھی تو رگڑتے ہیں برقرارئ ظاہر کتنا خوں رلاتی ہے اپنے جسم کے اندر ہم کسی سے لڑتے ہیں قابل عبور اتنی ہے بدن کی صف بندی تیر جتنے چلتے ہیں روح ہی میں گڑتے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 2445 سے 6203