قومی زبان

راز فطرت سے عیاں ہو کوئی منظر کوئی دھن

راز فطرت سے عیاں ہو کوئی منظر کوئی دھن ساز ہستی سے بھی نکلے کوئی پیکر کوئی دھن میں وہ آواز جو اب تک ہے سماعت سے پرے میں وہ نغمہ ابھی اتری نہیں جس پر کوئی دھن اک غزل چھیڑ کے روتا رہا مجھ میں کوئی اک سماں باندھ کے ہنستی رہی مجھ پر کوئی دھن اونگھنے لگتی ہے جب پاؤں کے چھالوں کی ...

مزید پڑھیے

بصیرتوں کا نظر احترام کرتی ہے

بصیرتوں کا نظر احترام کرتی ہے سماعتوں سے خموشی کلام کرتی ہے خزاں کا راز جو آنکھوں پہ منکشف ہو جائے تو زرد رت بھی بہاروں کا کام کرتی ہے کہاں کا ظرف کہاں کا وقار یہ دنیا نگاہ جیب پہ رکھ کر سلام کرتی ہے ضرورتیں در شاہی پہ لے کے جاتی ہیں مری انا مجھے اپنا غلام کرتی ہے حصار سود و ...

مزید پڑھیے

زاد رہ مکمل ہے

زاد رہ مکمل ہے حوصلہ مکمل ہے خواب مر چکے ہیں سب سانحہ مکمل ہے عشق جو کیا تم سے با خدا مکمل ہے تم کہو جو کہنا ہے تخلیہ مکمل ہے اب کہیں نہ بھٹکوں گا یہ خدا مکمل ہے ماں نے ہاتھ اٹھائے ہیں یہ دعا مکمل ہے تم نے جو سنائی ہے بات کیا مکمل ہے اب کسی کو کیا دیکھوں دل دیا مکمل ہے اس کی ...

مزید پڑھیے

دل کٹورے پر جمی یہ کائی رہ جائے تو پھر

دل کٹورے پر جمی یہ کائی رہ جائے تو پھر گھر کا حصہ مل بھی جائے بھائی رہ جائے تو پھر خواب ڈھونڈیں راستہ کیسے در آئیں آنکھ میں نیند بستر کے سرہانے آئی رہ جائے تو پھر کیوں مشینوں کی طرح بے حس ہوئے جاتے ہیں ہم یوں ہی پہنا سوٹ بوٹ اور ٹائی رہ جائے تو پھر تم کہو تو زندگی کے ایسے رخ ...

مزید پڑھیے

بس جبلت سے ہی لگتا ہوں درندہ جیسے

بس جبلت سے ہی لگتا ہوں درندہ جیسے رزق کرتا ہوں اکٹھا میں پرندہ جیسے یوں تو میں ایک زمانے سے تھا مردہ یارم تم کو دیکھا ہے تو لگتا ہوں میں زندہ جیسے تیرے کوچے میں لیے آس کھڑا ہوں میں یوں کوئی دفتر میں ہو درخواست دہندہ جیسے ایسے افسوس لیے دیکھ رہے ہیں سارے میں کوئی شہر ہوں برباد ...

مزید پڑھیے

یادوں کی دھول سے مرا ماضی اٹا ہوا

یادوں کی دھول سے مرا ماضی اٹا ہوا بھولوں تو کس طرح ترا چہرہ رٹا ہوا تجھ سے فقط دعا ہے کہ پھر سے بحال کر آنکھوں سے ہے جو خواب کا رشتہ کٹا ہوا بت پوجتا ہوں کعبۂ دل میں ہیں بت کدے رہتا ہوں اپنی ذات کے اندر بٹا ہوا آؤ بڑھا کے ہاتھ سمیٹیں کسی طرح بنجر زمیں کے واسطے بادل چھٹا ...

مزید پڑھیے

اس دل سے تیری یاد کے ہالے نہیں گئے

اس دل سے تیری یاد کے ہالے نہیں گئے تو جا چکا ہے تیرے اجالے نہیں گئے برسوں سے ایڑیاں ہی رگڑتے رہے ہیں خواب تب ہی تو میری آنکھ سے چھالے نہیں گئے سو بار چھانٹنے کا جتن کر چکا ہوں میں کچھ لوگ زندگی سے نکالے نہیں گئے سورج کی روشنی سے بہت بار دھو چکا مولا جو من کے داغ ہیں کالے نہیں ...

مزید پڑھیے

اندھیرا جھیل لیتا ہوں ستارے چھوڑ دیتا ہوں

اندھیرا جھیل لیتا ہوں ستارے چھوڑ دیتا ہوں میں طوفاں بھانپ کر پھر بھی کنارے چھوڑ دیتا ہوں مجھے تنہا ہی رہنا ہے کسی سے کچھ نہیں کہنا جو دل بیزار ہو جائے تو سارے چھوڑ دیتا ہوں زیادہ دیر دل اک کام میں ٹک کر نہیں لگتا میں پنجرہ کھول دیتا ہوں غبارے چھوڑ دیتا ہوں بہت باتیں بناتا ہوں ...

مزید پڑھیے

فکر معاش اور مری شاعری تمام

فکر معاش اور مری شاعری تمام دونوں ہی آستیں میں پلے زندگی تمام ہم لغزش خفیف پہ نکلے تھے خلد سے غارت ترے غرور نے کی بندگی تمام لاحق ہوا ہے عشق تو میرے وجود سے رستی ہے روز و شب ہی مری دل لگی تمام جونکیں تمہاری یاد کی چپکی ہیں دل کے ساتھ پیتی رہیں گی خون مرا زندگی تمام تجھ کو ترا ...

مزید پڑھیے

ذرا ٹھہرو مری حالت سنبھل جائے تو پھر جانا

ذرا ٹھہرو مری حالت سنبھل جائے تو پھر جانا دل بیتاب تھوڑا سا بہل جائے تو پھر جانا ابھی تو فرقتوں کے سحر سے نکلا نہیں ہوں میں تمہارے وصل کا جادو یہ چل جائے تو پھر جانا جمی ہیں دھڑکنیں تو منجمد ہیں میری سانسیں بھی بدن میں زندگی تھوڑی مچل جائے تو پھر جانا ابھی جاؤ نہ تم جکڑا ہوا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2410 سے 6203