راز فطرت سے عیاں ہو کوئی منظر کوئی دھن
راز فطرت سے عیاں ہو کوئی منظر کوئی دھن ساز ہستی سے بھی نکلے کوئی پیکر کوئی دھن میں وہ آواز جو اب تک ہے سماعت سے پرے میں وہ نغمہ ابھی اتری نہیں جس پر کوئی دھن اک غزل چھیڑ کے روتا رہا مجھ میں کوئی اک سماں باندھ کے ہنستی رہی مجھ پر کوئی دھن اونگھنے لگتی ہے جب پاؤں کے چھالوں کی ...