رات کی زلف کہیں تا بہ کمر کھل جائے
رات کی زلف کہیں تا بہ کمر کھل جائے ہم پہ بھی چاند ستاروں کی ڈگر کھل جائے تھک گئی نیند مرے خواب کو ڈھوتے ڈھوتے کیا تعجب ہے مری آنکھ اگر کھل جائے میرا سرمایہ مرے پاؤں کے چھالوں کی تپک راستے میں ہی نہ سب زاد سفر کھل جائے آج دریا نہیں کوزے میں سمانے والا وقت ہے مجھ پہ مرا زعم ہنر ...