قومی زبان

رات کی زلف کہیں تا بہ کمر کھل جائے

رات کی زلف کہیں تا بہ کمر کھل جائے ہم پہ بھی چاند ستاروں کی ڈگر کھل جائے تھک گئی نیند مرے خواب کو ڈھوتے ڈھوتے کیا تعجب ہے مری آنکھ اگر کھل جائے میرا سرمایہ مرے پاؤں کے چھالوں کی تپک راستے میں ہی نہ سب زاد سفر کھل جائے آج دریا نہیں کوزے میں سمانے والا وقت ہے مجھ پہ مرا زعم ہنر ...

مزید پڑھیے

اک قرب جو قربت کو رسائی نہیں دیتا

اک قرب جو قربت کو رسائی نہیں دیتا اک فاصلہ احساس جدائی نہیں دیتا اک تیرگی دیتی ہے بصارت کے قرینے اک روشنی وہ جس میں سجھائی نہیں دیتا اک قید ہے آزادیٔ افکار بھی گویا اک دام جو اڑنے سے رہائی نہیں دیتا اک آہ خطا گریہ بہ لب صبح ازل سے اک در ہے جو توبہ کو رسائی نہیں دیتا اک شوق ...

مزید پڑھیے

معرکہ ہی معرکہ چاروں طرف

معرکہ ہی معرکہ چاروں طرف اک ہجوم کربلا چاروں طرف توڑ دے اس دائرے کو توڑ دے راستہ ہے راستہ چاروں طرف مجھ کو کیسی خامشی درکار تھی اور کیسا شور تھا چاروں طرف وقت وہ جب میرے اندر میں نہ تھا کون تھا میرے سوا چاروں طرف عمر بھر مکار آنکھوں نے مجھے وہ دکھایا جو نہ تھا چاروں طرف اچھے ...

مزید پڑھیے

اب اپنی ذات کا عرفان ہونے والا ہے

اب اپنی ذات کا عرفان ہونے والا ہے خدا سے رابطہ آسان ہونے والا ہے گنوا چکا ہوں میں چالیس سال جس کے لیے وہ ایک پل مری پہچان ہونے والا ہے اسی لیے تو جلاتا ہوں آندھیوں میں چراغ یقین ہے کہ نگہبان ہونے والا ہے اب اپنے زخم نظر آ رہے ہیں پھول مجھے شعور درد پشیمان ہونے والا ہے مرے لیے ...

مزید پڑھیے

سب کو یہ فکر ہاتھ سے اب ایک پل نہ جائے

سب کو یہ فکر ہاتھ سے اب ایک پل نہ جائے دنیا حدود وقت سے آگے نکل نہ جائے سب کو فریب دے مگر اتنا رہے خیال بہروپ بھرتے بھرتے یہ چہرہ بدل نہ جائے غم سے نباہ کیجیے اس تمکنت کے ساتھ دل کا شرارہ آنکھ کی حد تک مچل نہ جائے ذوق نظر دیا ہے تو ظرف نظر بھی دے ڈر ہے مجھے شعور کی وسعت نگل نہ ...

مزید پڑھیے

یوں خوش گمان رکھا گیا عمر بھر مجھے

یوں خوش گمان رکھا گیا عمر بھر مجھے ہر شام سے ملی ہے نوید سحر مجھے میں تھا جو حد جسم سے آگے نہ بڑھ سکا وہ لے گیا بدن سے مرے چھین کر مجھے میں ضائع ہو چکا ہوں بہت کھیل کھیل میں اے وقت اب نہ اور لگا داؤ پر مجھے میرے لیے قضا ہے ابھی دائمی حیات کچھ لوگ چاہتے ہیں ابھی ٹوٹ کر مجھے ہونا ...

مزید پڑھیے

ہر ایک بات کسی بات پر ہے گویا طنز

ہر ایک بات کسی بات پر ہے گویا طنز مری زبان مری ذات پر ہے گویا طنز نہ وہ خلوص کی گرمی نہ والہانہ پن کسی سے ملنا ملاقات پر ہے گویا طنز نگاہ آدم خاکی کی وسعتوں کا بیاں تمام ارض و سماوات پر ہے گویا طنز عجیب شخص ہے اس کی بس ایک خاموشی زمانے بھر کی خرافات پر ہے گویا طنز کسی کے ہاتھ پہ ...

مزید پڑھیے

مرحلہ اب کے دگر ہے آئنے کے سامنے

مرحلہ اب کے دگر ہے آئنے کے سامنے معتبر نا معتبر ہے آئنے کے سامنے آج شاید آئینے کا جھوٹ پکڑا جائے گا آج وہ صاحب نظر ہے آئنے کے سامنے دھند میں ڈوبے ہوئے سارے مناظر دیکھ کر آئنے کی آنکھ تر ہے آئنے کے سامنے جھریاں چہرے کی یہ بچپن کی وہ معصومیت ایک لمحے کا سفر ہے آئنے کے سامنے ہر ...

مزید پڑھیے

دل کی راہیں روشن کرتے رہتے ہیں

دل کی راہیں روشن کرتے رہتے ہیں کس کے گھنگھرو چھن چھن کرتے رہتے ہیں دنیا جس کی کھوج میں پاگل پھرتی ہے ہم تو اس کے درشن کرتے رہتے ہیں اندر کی بے رنگی شاید چھپ جائے باہر رنگ و روغن کرتے رہتے ہیں ان سے پوچھو آنے والی رت کا حال جو پت جھڑ کو ساون کرتے رہتے ہیں ان کے دل میں گھر کر لینا ...

مزید پڑھیے

اپنی روداد یوں بیاں ہو جائے

اپنی روداد یوں بیاں ہو جائے اک پتنگا جلے دھواں ہو جائے خاک مل جائے خاک میں میری یا ستاروں میں ضو فشاں ہو جائے اس کی صورت پہ تبصرہ کیسا آئنہ جس سے بد گماں ہو جائے یہ جہاں خواب ہے مگر ایسا آنکھ موندیں تو رائیگاں ہو جائے اپنی رسوائیاں مجھے منظور تو اگر میرا راز داں ہو جائے میری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2409 سے 6203