قومی زبان

کہاں کوئی خزانہ چاہتا ہوں

کہاں کوئی خزانہ چاہتا ہوں ذرا سا مسکرانا چاہتا ہوں مجھے موجیں اچھالے جا رہی ہیں میں کب سے ڈوب جانا چاہتا ہوں جو پرکھوں کا سنہرا کل یہی ہے تو واپس لوٹ جانا چاہتا ہوں کوئی دل ہو کرائے کا مکاں ہے میں اب ذاتی ٹھکانہ چاہتا ہوں خدا میری انا محفوظ رکھے میں دو روٹی کمانا چاہتا ...

مزید پڑھیے

وہم ہے ہست بھی نیست بھی وہم ہے

وہم ہے ہست بھی نیست بھی وہم ہے دین و دنیا کی ہر اک گلی وہم ہے کیسی آواز ہے کان پھٹ جائیں گے ہے بھی یا یہ مرا دائمی وہم ہے یہ تماشائے علم و ہنر دوستو کچھ نہیں ہے فقط کاغذی وہم ہے کھینچ لی ہے کماں میں نے اظہار کی اب ذرا پھر کہو زندگی وہم ہے اتنا حساس ہوں جتنا کوئی نہیں مان لو نہ ...

مزید پڑھیے

بات یہ ہے کہ بات کوئی نہیں

بات یہ ہے کہ بات کوئی نہیں میں اکیلا ہوں ساتھ کوئی نہیں اب سہولت پہ ہی قناعت ہے ہوس ممکنات کوئی نہیں برگزیدہ ہے میرا سایہ بھی میرے سائے میں ہاتھ کوئی نہیں خوف آئے تو کھانس لیتا ہوں یعنی فطرت میں گھات کوئی نہیں ایک حد میں رکھا گیا ہے مجھے اور حد سے نجات کوئی نہیں

مزید پڑھیے

ہے تلخ تر حیات اس شراب سے

ہے تلخ تر حیات اس شراب سے تو عشق ہار دے گا اجتناب سے کہانیاں دہک رہی ہیں رات کی بدن الجھ رہے ہیں ماہتاب سے خدائے خواب خیمہ زن تھا آنکھ میں سو دل چٹخ رہا تھا اضطراب سے میں روشنی کے بیج بو کے سو گیا چراغ اگ رہے ہیں کشت خواب سے رفو گرو ہم ایسے خستہ تن یہاں ادھڑ ادھڑ کے آئیں گے سراب ...

مزید پڑھیے

اس نے بھی خود کو بے کنار کیا

اس نے بھی خود کو بے کنار کیا جس کا ساحل نے انتظار کیا آئنے میں سلگ رہا تھا لہو پھر بھی حیرت کا دل شمار کیا کورا ہونے سے پیشتر میں نے ایک اک رنگ اختیار کیا میری دیوانگی بھروسہ رکھ میں نے پانی کو بھی غبار کیا میں کہیں بھی پہنچ نہیں پایا کیونکہ سائے کو رہ گزار کیا تم بھی مصروف ہو ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسا ہو گیا ہے یار اپنا

کچھ ایسا ہو گیا ہے یار اپنا گلہ بنتا ہے اب بے کار اپنا پس پردہ بہت بے پردگی ہے بہت بیزار ہے کردار اپنا خرابے میں کسے اپنی خبر ہے اگرچہ کر لیا انکار اپنا در و دیوار سے جھڑتی ہے حیرت کہاں لے جاؤں میں آزار اپنا وفور نشۂ لغزش کے باعث ہوا ہے راستہ ہموار اپنا پتنگے گھیر لاتا ہوں ...

مزید پڑھیے

لا موجود

شکستہ گھر ہے دہکتے آنگن میں سن رسیدہ شجر کے پتے بکھر چکے ہیں پرندگاں جو یہاں چہکنے میں محو رہتے تھے خامشی کی سلوں کے نیچے دبے پڑے ہیں سلیں جو گھر کی ادھڑتی چھت سے کلام کرتیں تو روشنی کو قرار ملتا قرار جس نے بجھے چراغوں کی حیرتوں کو ثبات بخشا افق سے آگے ہمارے حیلوں فریب دیتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

شام ہوئی گھر لوٹی یادیں سورج روپ تراشوں کیسے

شام ہوئی گھر لوٹی یادیں سورج روپ تراشوں کیسے ایک اجالا لاکھ اندھیرے اس کو سب میں بانٹوں کیسے ٹھٹھری چاہت لاوا جذبے ہجر مشقت بس سے باہر دل چرخے پر سوت تمہاری یادوں کا میں کاتوں کیسے بنجر راتیں بانجھ سویرے بوجھل رستے الجھی منزل دن جیون کے اب تیرے بن کاٹوں تو پھر کاٹوں ...

مزید پڑھیے

تجھ سے ہرگز بھی عداوت میں نہیں کر سکتا

تجھ سے ہرگز بھی عداوت میں نہیں کر سکتا اب کسی اور کی چاہت میں نہیں کر سکتا پڑھ چکا حد سے زیادہ میں نمازیں دکھ کی اس سے بڑھ کر تو عبادت میں نہیں کر سکتا دل کو بت خانہ بنا کر میں تجھے سجدے کروں اپنے رب سے یہ بغاوت میں نہیں کر سکتا چپے چپے پہ ہوں تحریر قیام اور سجود یا خدا اتنی ...

مزید پڑھیے

کئی دنوں تک نظر میں رہنے پہ ہاں کرے گی

کئی دنوں تک نظر میں رہنے پہ ہاں کرے گی وہ پہلی کوشش پہ دل کشادہ کہاں کرے گی خدا کی مرضی بتا رہا تھا بچھڑنے والا وہ جانتا تھا کہ گیلی لکڑی دھواں کرے گی مجھے پتا ہے میں اس کی نظروں سے گر گیا ہوں مری توجہ بھی اب اسے بد گماں کرے گی بچھڑ گئے دوست تو غلط فہمیاں بڑھیں گی زمیں پہ بکھرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2411 سے 6203