یوں بھی جب تک غم سے مر نہیں جاتا میں
یوں بھی جب تک غم سے مر نہیں جاتا میں رات گئے تک لوٹ کے گھر نہیں جاتا میں دیکھتا رہتا ہوں تجھ کو اس لمحے تک! جب تک سارا درد سے بھر نہیں جاتا میں اتنی دیر سمیٹوں سارے دکھ تیرے جتنی دیر اے دوست بکھر نہیں جاتا میں تیرے غم کا بوجھ اٹھاؤں گا جب تک کوہ غم سے پار اتر نہیں جاتا میں موت سے ...