قومی زبان

خاک اطراف میں اڑتی ہے بہت پانی دے

خاک اطراف میں اڑتی ہے بہت پانی دے اس مسافت کو بھی ایک خطۂ بارانی دے کچھ دنوں دشت بھی آباد ہوا چاہتا ہے کچھ دنوں کے لیے اب شہر کو ویرانی دے یا مجھے مملکت عشق کی شاہی سے نواز یا مجھے پھر سے وہی بے سر و سامانی دے میری دانائی نے رکھا نہ کہیں کا مجھ کو میرے مولا تو مجھے پھر وہی ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کون سی ساعت میں ہو گیا غائب

نہ جانے کون سی ساعت میں ہو گیا غائب جو اندرون ٹٹولا تو لاپتہ غائب کدھر کو جاؤں ہواؤں کی قید سے چھٹ کر زمین تنگ ہوئی اور راستا غائب وہ ایک ابر کی مانند میرے اوپر سے ہوا کے ساتھ اڑا اور ہو گیا غائب کسی بھی طور برابر نہ ہو سکی تقسیم جو ایک سامنے آیا تو دوسرا غائب

مزید پڑھیے

میں اپنے ساتھ کوئی ایسی چال چل جاؤں

میں اپنے ساتھ کوئی ایسی چال چل جاؤں ہر اک حصار سے بچتا ہوا نکل جاؤں تمام سمت ہواؤ بکھیر دو مجھ کو سمٹتی ریت ہوں دیوار میں نہ ڈھل جاؤں کچھ ایسا لوچ مرے درمیان پیدا کر ہر ایک چوٹ پہ اک گیند سا اچھل جاؤں کسی کے جسم میں پیوست ہو نہ جاؤں کہیں میں کیوں نہ کانچ کی سب کرچیاں نگل ...

مزید پڑھیے

دھواں سا کوئی ہواؤں میں سرسرائے گا کچھ

دھواں سا کوئی ہواؤں میں سرسرائے گا کچھ پھر اس کے بعد تجھے بھی نظر نہ آئے گا کچھ میں جانتا ہوں کہاں تک ہے دسترس اس کی جو بیت جائے وہی سب پہ آزمائے گا کچھ فصیل سنگ کی محدودیت ہلاکت ہے اڑا دے خود کو ہوا میں تو سنسنائے گا کچھ تو پانیوں میں ذرا ایسے ہاتھ پاؤں نہ مار نکلنا دور رہا اور ...

مزید پڑھیے

طلوع صبح سفر کی گھڑی تھی یاد آیا

طلوع صبح سفر کی گھڑی تھی یاد آیا جدائی راستہ روکے کھڑی تھی یاد آیا کسی کی خندہ لبی سے بھی کھل نہیں پائی گرہ تو اب کے دلوں میں پڑی تھی یاد آیا یہ دل کے زخم اسی جنگ میں عطا ہوئے ہیں جو تیرے نام پہ خود سے لڑی تھی یاد آیا جو میرا وقت مرے ہاتھ آ نہیں رہا تھا مری کلائی پہ تیری گھڑی تھی ...

مزید پڑھیے

ایک تو عشق کی تقصیر کئے جاتا ہوں

ایک تو عشق کی تقصیر کئے جاتا ہوں اس پہ میں پیروی‌‌ میرؔ کئے جاتا ہوں معذرت گھر کے چراغوں سے کروں گا کیسے میں جو تاخیر پہ تاخیر کئے جاتا ہوں یعنی تصویر زماں پر ہے تصرف اتنا دیکھتا جاتا ہوں تحریر کئے جاتا ہوں باغباں تجھ سے تو میں داد طلب ہوں بھی نہیں پیڑ سنتے ہیں میں تقریر کئے ...

مزید پڑھیے

گزرے وقت کی شاید تجھے خبر کم ہے

گزرے وقت کی شاید تجھے خبر کم ہے مرے سفر میں کوئی تجھ سا ہم سفر کم ہے گلا معاف مگر میں جہاں پڑا ہوا ہوں مرے چراغ تری روشنی ادھر کم ہے شریک حال ہوئی تھی جہاں کہیں دنیا فقط وہیں سے ترا ہجر معتبر کم ہے گئی رتوں میں بہت گفتگو رہی جس سے بھرے چمن میں وہ بس ایک ہی شجر کم ہے تری نظر میں ...

مزید پڑھیے

تمہارے جانے کا ہم کو ملال تھوڑی ہے

تمہارے جانے کا ہم کو ملال تھوڑی ہے اداسیوں میں تمہارا خیال تھوڑی ہے مناؤں کس طرح ہولی میں دوستوں کے ساتھ ہیں سب کے ہاتھ میں خنجر گلال تھوڑی ہے مجھے یہ غم ہے وہ اب ساتھ ہے رقیبوں کے یہ آنکھ اس کے بچھڑنے سے لال تھوڑی ہے سوال یہ ہے ہوا آئی کس اشارے پر چراغ کس کے بجھے یہ سوال تھوڑی ...

مزید پڑھیے

ہم جو دیوار پہ تصویر بنانے لگ جائیں

ہم جو دیوار پہ تصویر بنانے لگ جائیں تتلیاں آ کے ترے رنگ چرانے لگ جائیں پھر نہ ہو مخملی تکیے کی ضرورت مجھ کو تیرے بازو جو کبھی میرے سرہانے لگ جائیں چاند تاروں میں بھی تب نور اضافی ہو جائے چھت پہ جب ذکر ترا یار سنانے لگ جائیں چند سکوں پہ تم اترائے ہوئے پھرتے ہو ہاتھ مفلس کے کہیں ...

مزید پڑھیے

بستی بستی خط گم گشتہ سا آوارہ ہوں

بستی بستی خط گم گشتہ سا آوارہ ہوں کل کہاں کوئی مجھے روک لے میں کیا جانوں بال بڑھ جائیں کہ انکار کی طاقت تو ملے چاہے پھر اپنی ہی آنکھوں کی طرح بجھ جاؤں وہ خلا ہے تو خلا بھی ہے حدوں کا قیدی میں ہوں آزاد تو آزادی کا زندانی ہوں زندگی مجھ کو یہ زنجیر ہوا دے کے اداس میں پریشان کہ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2406 سے 6203