قومی زبان

دل شب فرقت سکوں کی جستجو کرتا رہا

دل شب فرقت سکوں کی جستجو کرتا رہا رات بھر دیوار و در سے گفتگو کرتا رہا جو بہاروں کی چمن میں آرزو کرتا رہا نذر رنگ و بو خود اپنا ہی لہو کرتا رہا اپنی نظروں کو خراب جستجو کرتا رہا جو مسلسل امتیاز رنگ و بو کرتا رہا شیشۂ دل جو نزاکت میں گہر سے کم نہیں عشق میں کیسے ستم سہنے کی خو کرتا ...

مزید پڑھیے

دوبارہ معجزہ ہو جائے گا کیا

دوبارہ معجزہ ہو جائے گا کیا وہ پاگل پھر مرا ہو جائے گا کیا لہو تازہ زمیں پر تھوکنے سے جنوں کا حق ادا ہو جائے گا کیا یہ دل بیت الشرف ہے حادثوں کا یہ دل مسکن ترا ہو جائے گا کیا اندھیری رات کا دامن جلا کر چراغوں کا بھلا ہو جائے گا کیا تری آنکھوں میں پل بھر جھانکنے سے محبت کا نشہ ہو ...

مزید پڑھیے

جیسے ہوں لاشیں دفن پرانے کھنڈر کی بنیاد تلے

جیسے ہوں لاشیں دفن پرانے کھنڈر کی بنیاد تلے احساس دبے ہیں کتنے ہی مری نا گفتہ روداد تلے وہ ذات تو ایک ہی ذات ہے نہ ہر لمحہ جس کو ڈھونڈھتا ہے مومن نور ایمان تلے کافر سنگ الحاد تلے امروز و فردا کرتے رہے تم اور یہاں اہل حسرت کتنے ہی کچلے جاتے رہے بار یوم میعاد تلے کل تک نعرہ آزادی ...

مزید پڑھیے

اک زمیں دوز آسماں ہوں میں

اک زمیں دوز آسماں ہوں میں ہاں مری جان بے نشاں ہوں میں مجھ کو توحید ہو چکی ازبر لا مکاں کا نیا مکاں ہوں میں دست قدرت کی شاہکاری کا خود میں آباد اک جہاں ہوں میں کب سے آمادہ سجدہ ریزی پر آب و گل ہی کے درمیاں ہوں میں موت سے کہیے آئے فرصت میں ابھی مصروف امتحاں ہوں میں کس طرح سے بنے ...

مزید پڑھیے

ریاضتوں کی تپش میں رہ کر پگھل رہا ہوں

ریاضتوں کی تپش میں رہ کر پگھل رہا ہوں یہ بات سچ ہے میں دھیرے دھیرے بدل رہا ہوں علامت خاک زادگی ہو مزید روشن بس اس لئے خاک اپنے چہرے پہ مل رہا ہوں اتار کر قرض زندگانی کا رفتہ رفتہ نفس کے وحشت کدے سے باہر نکل رہا ہوں انا پرستوں کے بیچ اپنی انا کے سر کو ہوں منکسر اس لئے مسلسل کچل ...

مزید پڑھیے

ایک ہم ہی نہیں تقدیر کے مارے صاحب

ایک ہم ہی نہیں تقدیر کے مارے صاحب لوگ ہیں بخت زدہ سارے کے سارے صاحب میرا نیزے پہ سجا سر ہے پیام غیرت کوئی نیزے سے مرا سر نہ اتارے صاحب میں بھی بچپن میں خلاؤں کا سفر کرتا تھا کھیلا کرتے تھے مرے ساتھ ستارے صاحب دفعتاً ہم نے صلہ پایا مناجاتوں کا دفعتاً سامنے آئے وہ ہمارے ...

مزید پڑھیے

میرے کشکول میں بس سکۂ رد ہے حد ہے

میرے کشکول میں بس سکۂ رد ہے حد ہے پھر بھی یہ دل مرا راضی بہ مدد ہے حد ہے غم تو ہیں بخت کے بازار میں موجود بہت کاسۂ جسم میں دل ایک عدد ہے حد ہے آج کے دور کا انسان عجب ہے یا رب لب پہ تعریف ہے سینے میں حسد ہے حد ہے تھا مری پشت پہ سورج تو یہ احساس ہوا مجھ سے اونچا تو مرے سائے کا قد ہے ...

مزید پڑھیے

مستقل محو غم عہد گزشتہ ہونا

مستقل محو غم عہد گزشتہ ہونا ایسے ہونے سے تو بہتر ہے نہ دل کا ہونا میں ہوں انساں مجھے انسان ہی رہنے دیجے مت سکھائیں مجھے ہر گام فرشتہ ہونا دیکھنی پڑتی ہیں ہر موڑ پہ ادھڑی لاشیں کتنا دشوار ہے اس شہر میں بینا ہونا اے مصور ذرا تصویر میں منظر یہ اتار دو کناروں کو ہے دیکھا گیا یکجا ...

مزید پڑھیے

سراب دل سے مسلسل فریب کھا رہا ہوں

سراب دل سے مسلسل فریب کھا رہا ہوں میں ایک عمر سے اپنے خلاف جا رہا ہوں یقین و شک کی عجب کیفیت سے ہوں دو چار بچھا رہا ہوں مصلیٰ کبھی اٹھا رہا ہوں مرا غرور ہے یہ خاک زادگی میری میں پھر فرشتو تمہیں بات یہ بتا رہا ہوں طلسم لفظ و معانی کے پھیر میں پھنس کر بہ شکل نظم و غزل خون دل بہا رہا ...

مزید پڑھیے

جب بڑھا درد کی موجوں کا دباؤ صاحب

جب بڑھا درد کی موجوں کا دباؤ صاحب میری سانسوں کی لرزنے لگی ناؤ صاحب اس سے بڑھ کر نہیں افسردہ مزاجی کا علاج دل اگر روئے تو اوروں کو ہنساؤ صاحب گھپ اندھیرے میں اگاتا ہوں سخن کا سورج بے سبب تھوڑی ہے راتوں سے لگاؤ صاحب جب نہیں ملتی نئے زخم کی سوغات مجھے چھیل دیتا ہوں پرانا کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2404 سے 6203