دل شب فرقت سکوں کی جستجو کرتا رہا
دل شب فرقت سکوں کی جستجو کرتا رہا رات بھر دیوار و در سے گفتگو کرتا رہا جو بہاروں کی چمن میں آرزو کرتا رہا نذر رنگ و بو خود اپنا ہی لہو کرتا رہا اپنی نظروں کو خراب جستجو کرتا رہا جو مسلسل امتیاز رنگ و بو کرتا رہا شیشۂ دل جو نزاکت میں گہر سے کم نہیں عشق میں کیسے ستم سہنے کی خو کرتا ...