قومی زبان

جلن کے خوف سے باہر نکل سکو تو چلو

جلن کے خوف سے باہر نکل سکو تو چلو بچھی ہے دھوپ ہی رستوں میں چل سکو تو چلو یہی تقاضا ہے اس بار بھی محبت کا بدن پہ گرد سفر کو جو مل سکو تو چلو جلا کے ذلت شب میں ہتھیلیوں پہ چراغ ہوا کے رخ کو اگرچہ بدل سکو تو چلو ملا ہے اذن مسافت کڑے اندھیروں میں کسی چراغ کی لو میں جو ڈھل سکو تو ...

مزید پڑھیے

ہوا کی ہلکی سی آہٹ پہ یوں مچل جانا

ہوا کی ہلکی سی آہٹ پہ یوں مچل جانا امید وصل پہ بسمل کا پھر سنبھل جانا نہ آ رہے تھے نہ آنا تھا اور نہ امکاں تھا یہ زعم دل تھا یا قسمت کا یوں بدل جانا یہ دل پہ بوجھ ہے دردوں کا یا تری یادیں یا آبلوں کا حرارت سے ہے پگھل جانا تری تلاش میں اٹھ اٹھ کے پاگلوں کی طرح شب فراق میں گھر سے ...

مزید پڑھیے

حسرت ہے میرا سوز دروں حد سے بڑھا دے

حسرت ہے میرا سوز دروں حد سے بڑھا دے یا شوق تماشا کی تمنا ہی مٹا دے دل جو یہ سلگتا ہے سدا سوز میں تیرے اک قطرۂ نیساں کبھی اس دل پہ گرا دے دل اب بھی شناسائے حقیقت نہیں شاید اک بار وہ زمزم کے سبو پھر سے پلا دے دل صورت آئینہ ہو ہر نفس سے خالی پھر طور کے جلوؤں سے اسے راکھ بنا دے

مزید پڑھیے

ہم تو چاہت میں امیدوں کے پجاری ٹھہرے

ہم تو چاہت میں امیدوں کے پجاری ٹھہرے وہ اسی دشت میں جذبات سے عاری ٹھہرے تیرے وعدوں نے سر شام ہی دم توڑ دیا جینے مرنے کے سبھی عہد جو بھاری ٹھہرے راہ الفت میں بچھے پھول تمہاری قسمت جو بھی درپیش ہو مشکل وہ ہماری ٹھہرے اک جھلک مجھ کو ہے مطلوب زمانے والو اس زیاں خانے کی ہر چیز ...

مزید پڑھیے

خوابوں کے محل ٹوٹ کے گر جاتے ہیں اکثر

خوابوں کے محل ٹوٹ کے گر جاتے ہیں اکثر پھر ان سے ہی دن اپنے سنور جاتے ہیں اکثر اے باد صبا ان کو یہ پیغام مرا دے کیوں چھپ کے مری رہ سے گزر جاتے ہیں اکثر دنیا میں ہر اک شے ہے فقط تیری کمی ہے نقشے تری یادوں کے ابھر جاتے ہیں اکثر وہ ناز اٹھانے کے تو قائل ہی نہیں ہیں پھر ہم بھی خفا ہو کے ...

مزید پڑھیے

ہمیں سفینۂ ہستی کا رہنما نہ ملا

ہمیں سفینۂ ہستی کا رہنما نہ ملا خدا کو ساتھ لیا کوئی ناخدا نہ ملا سکون قلب ملا بے نیازیاں پائیں اٹھائے ہاتھ جو تیری طرف تو کیا نہ ملا کسی کی شرکت اغیار کب گوارا تھی خدا کا شکر کوئی درد آشنا نہ ملا تڑپ تڑپ کے ترے بسملوں نے مقتل میں بڑھائے ہاتھ مگر دامن قضا نہ ملا ملی تھی آنکھ ...

مزید پڑھیے

ہماری طرز شکایت کسی کو کیا معلوم

ہماری طرز شکایت کسی کو کیا معلوم تمہارا رنگ طبیعت کسی کو کیا معلوم ہر ایک خون کے قطرہ میں ہے تری تصویر یہ انتہائے محبت کسی کو کیا معلوم ہمارے اشک ندامت پروئے جائیں گے بنے گا دامن رحمت کسی کو کیا معلوم جو دل بھی دیتے ہیں ہم نام تک نہیں لیتے ہماری شان مروت کسی کو کیا ...

مزید پڑھیے

دنیا کی خواہشات میں الجھا نہیں ہوں میں

دنیا کی خواہشات میں الجھا نہیں ہوں میں اڑ جائے جو ہوا میں وہ تنکا نہیں ہوں میں بیمار ان کو دیکھ کے خاموش ہو گیا اتنا کہا زبان سے اچھا نہیں ہوں میں آتا ہے مجھ کو مرکز توحید کا خیال منہ سے نکل نہ جائے کہ بندہ نہیں ہوں میں ہر دم یہی دعا ہے کہ بیتابیاں رہیں یہ حال ہو گیا ہے کہ اپنا ...

مزید پڑھیے

آرزوئے دل صد چاک ہے درماں ہونا

آرزوئے دل صد چاک ہے درماں ہونا یعنی کچھ اور تری تیغ کا احساں ہونا موت آنا ہے غم ہجر کا درماں ہونا یہ وہ مشکل ہے کہ آسان نہیں آساں ہونا مقصد زیست ہے قرباں بہ دل و جاں ہونا نام احساس فرائض کا ہے انساں ہونا بن گئے طائر تصویر قفس میں آ کر راس آیا نہ اسیروں کو خوش الحاں ہونا رہ گئی ...

مزید پڑھیے

پرتو رخ ہے آئنہ کیا ہے

پرتو رخ ہے آئنہ کیا ہے آپ اپنے کو دیکھتا کیا ہے بس یہی اک نگاہ لطف و کرم آپ سے اور التجا کیا ہے رہنے دو منہ مرا نہ کھلواؤ ایسی باتوں سے فائدہ کیا ہے مری ہستی ہے مورد آلام موت آ جائے تو برا کیا ہے کھچ کے چلتے ہیں خود ترے ناوک دل بیتاب کی خطا کیا ہے ابتدا جس کی موت ہے یا رب ایسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2397 سے 6203