قومی زبان

فلک بنایا گیا ہے زمیں بنائی گئی

فلک بنایا گیا ہے زمیں بنائی گئی اماں کی کوئی جگہ ہی نہیں بنائی گئی نکلتی کس طرح کوئی یقین کی صورت یقین کی کوئی صورت نہیں بنائی گئی چلیں گے ہم بھی محبت نگر سمجھ کے اسے گر ایسی کوئی بھی بستی کہیں بنائی گئی بجھے بجھے ہوئے منظر وہ جس مقام کے تھے ہمارے رہنے کی صورت وہیں بنائی ...

مزید پڑھیے

ہرے ہیں زخم کچھ اس طرح بھی مرے سر کے

ہرے ہیں زخم کچھ اس طرح بھی مرے سر کے تمام عمر اٹھائے ہیں ناز پتھر کے لہولہان ہوا ہے مرا بدن یوں بھی پکڑ نہ پایا کبھی ہاتھ میں ستم گر کے بس ایک حرف مقرر کے جرم میں ہم نے زباں پہ وار ہزاروں سہے ہیں خنجر کے وہ لوگ لایا گیا ہے جنہیں برابر میں کسی طرح بھی نہیں تھے مرے برابر کے کچھ ...

مزید پڑھیے

محو کر ڈالے گی اک دن حسن کی شہرت مجھے

محو کر ڈالے گی اک دن حسن کی شہرت مجھے غیر تجھ کو دیکھتے ہیں ہوتی ہے حیرت مجھے عشق کی راہیں ہیں طے کرنی کسی صورت مجھے منزلیں دشوار ہیں اللہ دے ہمت مجھے حشر کے دن بھی گناہوں سے نہ ہوں گا شرمسار منہ چھپانے کو ملے گا دامن رحمت مجھے میں پس دیوار بیٹھا ہوں سکون قلب سے جیتے جی دنیا میں ...

مزید پڑھیے

تم چلے آؤ تو ذوق غم ہجراں بھی نہیں

تم چلے آؤ تو ذوق غم ہجراں بھی نہیں جان دینے کا کچھ ایسا مجھے ارماں بھی نہیں دیکھتا ہے کہ کوئی بات کا پرساں بھی نہیں ترے بیمار کو اب خواہش درماں بھی نہیں مری وحشت کے اثر سے تھا زمانہ ویراں میں بیاباں میں نہیں ہوں تو بیاباں بھی نہیں باعث قتل ہوا حال زبون بسمل یہ اگر سچ ہے تو پھر ...

مزید پڑھیے

تری تلاش میں ہے سائبان بھی ہم بھی

تری تلاش میں ہے سائبان بھی ہم بھی ہمارے ساتھ ہماری تھکان بھی ہم بھی فلک کو چھونے کی خواہش ہزار دل میں لیے کہ سرگراں ہے ہماری اڑان بھی ہم بھی ہے انتظار میں برسوں سے رہنماؤں کے ہماری منزل جاں کا نشان بھی ہم بھی وہی ہے نوک سنان ستم گران جہاں وہی ہے کرب و بلا امتحان بھی ہم بھی اسی ...

مزید پڑھیے

تیری خواہش نہ جب زیادہ تھی

تیری خواہش نہ جب زیادہ تھی زندگی جیسے بے لبادہ تھی اس لیے مجھ کو مل گئی منزل میری خواہش مرا ارادہ تھی ایک تتلی جلے پروں والی بس وہی میرا خانوادہ تھی میں نے دیکھا ہے وہ نگر بھی جہاں روشنی کم نظر زیادہ تھی چل کے اک عمر مجھ پہ راز کھلا میری منزل ہی میرا جادہ تھی جس میں رہتے تھے ...

مزید پڑھیے

ہمارے سر پہ یہ اکثر غضب ہوتا ہی رہتا ہے

ہمارے سر پہ یہ اکثر غضب ہوتا ہی رہتا ہے لہو امید کا ہم سے طلب ہوتا ہی رہتا ہے نکلتی ہی نہیں دل سے کبھی یادیں محبت کی ستم اس دل پہ اپنے روز و شب ہوتا ہی رہتا ہے پرانے لوگ رہتے ہیں نگاہوں میں سدا میری کوئی پیش نظر نام و نسب ہوتا ہی رہتا ہے کوئی صورت تباہی کی نکلتی رہتی ہے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کے اضطراب سے ایسے جھڑے ہیں خواب

آنکھوں کے اضطراب سے ایسے جھڑے ہیں خواب شب کے شجر پہ نیند کی صورت پڑے ہیں خواب آتی نہیں ہے نیند مجھے اس لیے بھی دوست آنکھوں کی پتلیوں میں ہزاروں جھڑے ہیں خواب نکلا نہ پھر بھی کوئی نتیجہ بہار کا تعبیر سے اگرچہ بہت ہی لڑے ہیں خواب جب بھی چلا ہوں نیند کے رستے پہ یوں لگا ہاتھوں کو ...

مزید پڑھیے

ہے جو بگڑی ہوئی صورت مری بیماری کی

ہے جو بگڑی ہوئی صورت مری بیماری کی پیار میں مجھ سے کسی شخص نے غداری کی ہر طرف خون خرابہ کیا لوگوں نے بپا شعر تخلیق کیے میں نے غزل جاری کی ہر نفس سینے میں پتھر کی طرح لگتا ہے زندگی مجھ پہ ستم کیش نے یوں بھاری کی یہ الگ بات کہ ہر لحظہ پریشاں میں ہوں میں نے سچائی کی اس پر بھی طرف ...

مزید پڑھیے

چاروں جانب پاگل خانے لگتے ہیں

چاروں جانب پاگل خانے لگتے ہیں موسم ایسے ہوش اڑانے لگتے ہیں ملبہ گرنے لگتا ہے سب کمرے کا جب تیری تصویر جلانے لگتے ہیں گھبرا کے اس دور کے وحشی انساں سے دیواروں کو راز بتانے لگتے ہیں آنکھ اٹھا کر جب بھی دیکھوں پیڑوں کو مجھ کو میرے دوست پرانے لگتے ہیں ذہن میں ماضی جب بھی گھومنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2396 سے 6203