قومی زبان

کون کہتا ہے غم مصیبت ہے

کون کہتا ہے غم مصیبت ہے یہ بھی مولا کی خاص رحمت ہے لوگ کیوں زندگی پہ مرتے ہیں میرے حق میں تو یہ قیامت ہے حیلہ جوئی ہے اس کی رحمت کی کب عبادت کوئی عبادت ہے شکر نعمت کا جب نہیں کرتا کیوں مصیبت کی پھر شکایت ہے مجھ سے بد تر بہت ہیں عالم میں قابل رشک میری حالت ہے قلب مومن نہ غم سے ...

مزید پڑھیے

ہم دل فدا کریں کہ تصدق جگر کریں

ہم دل فدا کریں کہ تصدق جگر کریں جو بھی کہیں حضور وہی عمر بھر کریں کچھ اب تو آپ چارۂ درد جگر کریں مجھ پر نہیں تو اپنے کرم پر نظر کریں کچھ بات ہے لبوں پہ جو مہر سکوت ہے کرنے کو نالے شام سے ہم تا سحر کریں طول شب فراق سے گھبرا گیا ہے جی اے کاش آپ قصہ مرا مختصر کریں لے چپکے چپکے کام ...

مزید پڑھیے

کئے قرار مگر بے قرار ہی رکھا

کئے قرار مگر بے قرار ہی رکھا ہمیں تو آپ نے امیدوار ہی رکھا پس فنا بھی فلک نے غبار ہی رکھا نہ رکھی خاک نہ سنگ مزار ہی رکھا کسی کے درد جدائی نے ہم کو جیتے جی مثال ابر سیہ اشک بار ہی رکھا میں تیغ یار کا کیوں کر نہ دم بھروں جس نے مزے خلش کے دئیے دل فگار ہی رکھا ملا نہ چین کبھی ہم کو ...

مزید پڑھیے

لٹ گیا دل کہاں نہیں معلوم

لٹ گیا دل کہاں نہیں معلوم کیا ہوا ہے زیاں نہیں معلوم اب قفس میں ہی رہنے دے صیاد تھا کہاں آشیاں نہیں معلوم تو ہی آ کر سکھا دے او بلبل مجھ کو طرز فغاں نہیں معلوم آپ ہی سے فقط ہے دلچسپی اور دلچسپیاں نہیں معلوم وائے تقدیر کیا قیامت ہے جائے درد نہاں نہیں معلوم یاد ہونے لگی کہاں ...

مزید پڑھیے

کوئی اس ظالم کو سمجھاتا نہیں

کوئی اس ظالم کو سمجھاتا نہیں وہ ستم کرنے سے باز آتا نہیں دشت غم میں کب مرا نقش قدم ہر قدم پہ آنکھ دکھلاتا نہیں درد فرقت سے زباں دانتوں میں ہے کیا کہوں کچھ بھی کہا جاتا نہیں چشم دل سے دیکھ اسے تو دیکھ لے چشم ظاہر سے نظر آتا نہیں صبر شوق وصل جاناں کیا کروں پر لگا کر بھی اڑا جاتا ...

مزید پڑھیے

زندگی اپنی کامیاب نہیں

زندگی اپنی کامیاب نہیں غم دوراں کا کچھ حساب نہیں درد جس میں نہ ہو وہ دل کیسا ناز جس میں نہ ہو شباب نہیں موج دریا کو چاہئے تیزی جو اٹھائے نہ سر حباب نہیں دوست تیری حریم اقدس میں ایک بندہ ہی باریاب نہیں خواب مرگ آئے گا ضرور اک دن یہ حقیقت ہے کوئی خواب نہیں تیرے باب قبول پر یا ...

مزید پڑھیے

مرے مٹنے پہ گر تو بھی مٹا ہوتا تو کیا ہوتا

مرے مٹنے پہ گر تو بھی مٹا ہوتا تو کیا ہوتا تجھے بھی صبر اے دل آ گیا ہوتا تو کیا ہوتا چلے آتے ہیں لاکھوں سرفروشی کی تمنا میں ترا کوچہ اگر دار الشفا ہوتا تو کیا ہوتا عدم سے میں نہ آتا اس جہاں میں غم اٹھانے کو اگر ہستی مجھے تیرا پتا ہوتا تو کیا ہوتا تجھی پہ منصفی ہے لے تو ہی انصاف ...

مزید پڑھیے

جو درد جگر میں کمی ہو تو جانوں

جو درد جگر میں کمی ہو تو جانوں قیامت اگر ملتوی ہو تو جانوں مقدر نہ میرا بگڑ کر بنے گا کسی کی بھی بگڑی بنی ہو تو جانوں مجھے تیری فرقت میں جو بے کلی ہے تجھے بھی وہی بے کلی ہو تو جانوں شب غم میں کل میں نے تارے گنے ہیں ذرا آنکھ میری لگی ہو تو جانوں رقیبوں کی ہر بات کرتے ہو پوری مرے ...

مزید پڑھیے

مانگنا کام مجھ سوالی کا

مانگنا کام مجھ سوالی کا بخشنا تیری ذات عالی کا کیوں گرایا ہے اپنی نظروں سے حکم کر دے مری بحالی کا تو ہی وہ پھول ہے جو ہے محبوب پتے پتے کا ڈالی ڈالی کا بات جو بھی کہو وہ صاف کہو کام کیا فضل احتمالی کا جل بجھوں گا بھڑک کے دم بھر میں میں ہوں گویا دیا دوالی کا نادرؔ ایسا کلام ہے ...

مزید پڑھیے

خواب گاہ

غرض کی میلی دراز چادر لپیٹ کر وہ منافقت کے سیاہ بستر پہ سو رہی تھی مری برہنہ نگاہ میں رت جگوں کی سرخی جمی ہوئی ہے پہاڑ سی رات ریزہ ریزہ بکھر رہی تھی

مزید پڑھیے
صفحہ 2398 سے 6203