قومی زبان

خدا سے بھی کب کوئی فرقت کٹی ہے

خدا سے بھی کب کوئی فرقت کٹی ہے شب ہجر شب سے بھی پہلے بنی ہے میں اک خواب ہوں تیرا دیکھا ہوا ہوں تو اک نیند ہے مجھ میں سوئی پڑی ہے ہوس تو نہیں ہے مگر یہ تھی سچ ہے مجھے تجھ بدن کی تمنا رہی ہے مجھے اس سے آزاد کر دوسری لا یہ زنجیر پیروں میں کم بولتی ہے میں اپنے گناہوں پہ نادم نہیں ...

مزید پڑھیے

اپنی ساتھی خرید لائی ہوں

اپنی ساتھی خرید لائی ہوں میں اداسی خرید لائی ہوں کل لٹکنا ہے مجھ کو پنکھے سے آج رسی خرید لائی ہوں آنسوؤں میں بھگو کے کھاؤں گی سوکھی روٹی خرید لائی ہوں وہ مجھے یاد تو کرے گا نا دیکھ ہچکی خرید لائی ہوں تیرا تحفہ سمجھ کے پہنوں گی سرخ چوڑی خرید لائی ہوں ہاں ترا ہجر کاٹنا ہے ...

مزید پڑھیے

ظلم چکھا یا بے حسی چکھی

ظلم چکھا یا بے حسی چکھی کیا کبھی تم نے بے بسی چکھی موت ملتی رہی پیالہ بھر ایک ہی گھونٹ زندگی چکھی چاند جب شاخ پہ اتر آیا تب درختوں نے چاندنی چکھی رکھ کے انگلی زبان پر اس کی آج تھوڑی سی روشنی چکھی شہد کا ذائقہ تو چکھا ہے کیا کبھی آنکھ شربتی چکھی اس کا لہجہ سماعتوں میں ...

مزید پڑھیے

کسی کی آنکھ خالی ہو گئی تھی

کسی کی آنکھ خالی ہو گئی تھی محبت اتنی مہنگی ہو گئی تھی تجھے جاتے سمے اتنا پکارا مری آواز زخمی ہو گئی تھی ذرا سا مسکرا کے اس نے دیکھا فضا ساری گلابی ہو گئی تھی وہ جس دن راستہ بدلا تھا تو نے مری ہر راہ کھوٹی ہو گئی تھی اسے راجا نہیں مل پایا تو پھر وہ خود ہی اپنی رانی ہو گئی ...

مزید پڑھیے

بارش اور بادل

کل شام مجھے بارش ملی باغ میں روتی ہوئی اس کی سسکیاں درختوں کی شاخوں پر اٹکی تھیں وہ بادل کا گھر چھوڑ آئی تھی میں نے اسے تأسف سے دیکھا رات کو میرے کمرے کی کھڑکی پر بکھرے بالوں والے پریشان بادل نے دستک دی وہ چاندنی کا ایک ٹکڑا ہاتھ میں لے کر بارش کو ڈھونڈ رہا تھا میں نے کھڑکی پہ ...

مزید پڑھیے

اسفل السافلین

ہمارے سامنے ہمارا رب موجود ہے مگر ہم اپنے اپنے مسلک کی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ والی مسجدوں میں خواہشوں کے بت اپنی اپنی بغلوں میں دبائے کھڑے ہیں اور ہر بار ان بتوں کو سجدہ کرتے ہوئے ہمارا یقین مسجد کے میناروں کو چھو لیتا ہے کہ جنت میں بہتی شہد اور دودھ کی نہروں کے کناروں پر حوریں ہمیں خوش ...

مزید پڑھیے

آواز

وہ جب مجھ سے بولتا ہے تو دنیا کی ساری آوازیں میٹھی تانیں مدھر زبانیں اس کے اک اک میٹھے بول پہ سر دھنتی ہیں اس کی باتیں سات سروں میں ایک انوکھا سر بنتی ہیں اتنا میٹھا لہجہ اس کا وہ بولے تو دنیا کی ساری آوازیں چپ رہ کر اس کو سنتی ہیں

مزید پڑھیے

نظم

میں ہر رات تمہارا تصور سرہانے رکھ کے سوتی ہوں اور صبح جاگنے پر مجھے تکیے کے نیچے اک نظم ملتی ہے ہو بہ ہو تمہارے جیسی

مزید پڑھیے

سب کچھ ہو سکتا ہے

سفید چنبیلی کی ہری شاخوں پر سیاہ گلاب کھل سکتا ہے ستارے رات کی اونگھتی سیڑھیوں سے چھلانگ لگا کر زمین پر آ سکتے ہیں چاند اور سورج کسی آسمانی پل میں ملاقات پر متفق ہو سکتے ہیں مکڑی اپنے جالے میں انسان کو پھانس سکتی ہے سمندر دریا کے قدموں میں گر سکتا ہے درختوں پر ہیرے اگ سکتے ...

مزید پڑھیے

ہجر کدہ

میں نے کمرے کی کھونٹی پر تیرا انتظار ٹانگ دیا ہے اور میری بے قرار آنکھیں کمرے کی چوکھٹ پر دھری ہیں تیرے فراق کے سیاہ لمحوں کی باتیں کرتی میری ساری نظمیں کمرے کی دیواروں پر چسپاں ہیں میری آتی جاتی سانسیں گھڑی کی سوئیوں سے بندھی ہیں اور تمہارے امرت رس ٹپکاتے جملے میرے دھیان کا پلو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2390 سے 6203