قومی زبان

انفرادیت

تمہیں یہ عذر ہے تم کو جو دی گئی ہے زمیں وہ مختصر ہے بہت جو بازوؤں میں سمیٹو تو وہ سمٹ جائے اسی لیے ہو تم احساس کم تری کا شکار اور ان کو کتنی ارادت سے دیکھتے ہو جنہیں زمیں ملی ہے حدود نگاہ سے بھی بہت دور دور پھیلی ہوئی سنو زمیں کی وسعت تو کوئی چیز نہیں جو نسل آئے گی کل وہ حدیں نہ ...

مزید پڑھیے

عکس در عکس

نہ چاند ماتھا نہ تارا ٹھوڑی نہ جھیل آنکھیں، نہ پھول لب ہیں نہ آنچ عزم و یقیں کی دل میں نقوش رخ اتنے مٹ گئے ہیں، نقوش کب ہیں اے آئینے وقت کے! تجھے ایک بار بھی اک حسیں چہرہ نہ دے سکے ہم مگر ہیں ہم اب بھی عکس تیرا وہ عکس ہی تو ہمارا سچ ہے ہماری آنکھیں بجھی ہوئی ہیں مگر یہی تو ہیں تیری ...

مزید پڑھیے

برقی محبت

گئے وقتوں میں محبت دل پہ لکھی انمٹ تحریر ہوتی تھی سنا ہے پتھر پر لکیر ہوتی تھی مگر اب ہاتھ میں تھامے کسی برقی آلے کے بٹنوں میں الجھی ہے انگلی اور انگوٹھے پر بوقت ضرورت تھرکتی رہتی ہے برقی پیغامات کے خانے میں پڑے چند بے لباس فقرے محبت کی علامت بن گئے ہیں کسی پرانے دور میں محبت دل ...

مزید پڑھیے

نظم

رات کیسی مہربان ہے روتی آنکھوں کے راز اور بھیگے تکیوں کے سارے بھرم رکھ لیتی ہے رات سیاہ ہے مگر سفید آنکھوں کا ہاتھ پکڑ کر رنگین خوابوں کا راستہ دکھاتی ہے کھردرے جسم کی ساری شکنیں اپنے نازک بدن کی تہوں میں چھپا لیتی ہے کبھی اپنی گود میں لے کر تھپک تھپک کر سلاتی ہے کبھی کاندھے سے ...

مزید پڑھیے

ہر چہرہ ایک کہانی ہے

ہر چہرہ ایک کہانی ہے جب چہرے پڑھنا سیکھو گے تب کوئی کہانی لکھو گے ہر چہرہ پہ اک نقشہ ہے اس میں رستے ہی رستے ہیں یہ رستے بھول بھلیاں ہیں جب بھول بھلیاں بھٹکو گے تب کوئی کہانی لکھو گے ہر چہرہ ایک سمندر ہے ہر نقش کی اٹھتی لہروں میں جب پانی پانی اترو گے تب کوئی کہانی لکھو گے ہر چہرہ ...

مزید پڑھیے

شریک حیات

آدھی روٹی بستر کے آخری کونے ایک چھٹانک محبت دو گز چادر اور تین چٹکی عزت کے عوض عورت نے ایک ادھورے مرد کو اپنی پوری حیات میں شریک کر لیا

مزید پڑھیے

رستے سارے بھول چکی ہوں

رستے سارے بھول چکی ہوں اپنی ذات کی بند گلی ہوں جو ہے دل میں وہ ہے زباں پر آئینے کی طرح کھری ہوں دل جو چاہے عقل نہ مانے میں بھی کس چکر میں پڑی ہوں پتھر برساتے موسم میں شیشے سے سر ڈھک کے چلی ہوں اس پاگل ناہیدؔ کے ہاتھوں کہاں کہاں نہ خوار ہوئی ہوں

مزید پڑھیے

تمہارے چہرے پہ دھیان ایسے ٹکا ہوا ہے

تمہارے چہرے پہ دھیان ایسے ٹکا ہوا ہے تمام سمتوں کو ایک جانب رکھا ہوا ہے ہرے درختوں سے بیلیں کیسے لپٹ رہی ہیں زمین پر آسمان کیسے جھکا ہوا ہے وہ ایک لڑکی جو مر رہی ہے حیا کے مارے وہ ایک لڑکا جو دیکھنے پر تلا ہوا ہے شب وصال اس کا سرخ آنچل مصلیٰ کر کے بدن وظیفے کا ورد جاری رکھا ہوا ...

مزید پڑھیے

سرخ مٹی کو ہواؤں میں اڑاتے ہوئے ہم

سرخ مٹی کو ہواؤں میں اڑاتے ہوئے ہم اپنی آمد کے لئے دشت سجاتے ہوئے ہم تجھ تبسم کی محبت میں ہوئے ہیں برباد مسکرائیں گے ترا سوگ مناتے ہوئے ہم لا مکانی میں ہمیں چھوڑ کے جاتا ہوا تو دشت امکاں سے تجھے ڈھونڈ کے لاتے ہوئے ہم اے خدا تو ہی بتا کیسے کریں گے انکار عالم ہو میں تجھے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

خود کو مرشد مان لے پیارے کیوں اور کیا کا بھید سمجھ

خود کو مرشد مان لے پیارے کیوں اور کیا کا بھید سمجھ اپنی صورت تکتا رہ اور پھر کیسا کا بھید سمجھ تجھ سے بڑھ کر دشت نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر گور نہیں اس جنگل میں آ اس گور میں رہ مولا کا بھید سمجھ جاننے والے ماننے والوں سے افضل ہے دھیان رہے مجنوں مت بن ہوش میں رہ اور پھر لیلہ کا بھید ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2389 سے 6203