قومی زبان

مسافر کے ٹھکانے نہیں ہوتے

اے مرے ماضی کی بچھڑی ہوئی راہو خیال یار سے بڑھ کر حسین شاہ راہو صدا نہ دو مجھ کو کہ سر زمین وطن پر کسی بھی آنگن کے کسی دراز بدن در کے خوب رو سے ماتھے پر میرے خیال میں دل کش حسین نام کی تحریر کاتب وقت نے نہیں لکھی کہ میں ہوائے دہر ہوں بھٹکنا نگر نگر اجنبی دیاروں میں میرا مقدر ...

مزید پڑھیے

کدورت بڑھ کے آخر کو نکلتی ہے فغاں ہو کر

کدورت بڑھ کے آخر کو نکلتی ہے فغاں ہو کر زمیں یہ سر پر آ جاتی ہے اک دن آسماں ہو کر مرے نقش قدم نے راہ میں کانٹے بچھائے ہیں بتائیں تو وہ گھر غیروں کے جائیں گے کہاں ہو کر خدا سے سرکشی کی پیر زاہد اس قدر تو نے کہ تیرا تیر سا قد ہو گیا ہے اب کماں ہو کر کوئی پوچھے کہ میت کا بھی تم کچھ ...

مزید پڑھیے

اب نہ حسرت نہ پاس ہے دل میں (ردیف .. ا)

اب نہ حسرت نہ پاس ہے دل میں کوئی بھی اس مکان میں نہ رہا کیا شکایت جو کٹ گئے گاہک مال ہی جب دکان میں نہ رہا مر کے رہنا پڑا اب اس میں آہ جیتے جی جس مکان میں نہ رہا نادرؔ افسوس قدر دان سخن ایک ہندوستان میں نہ رہا

مزید پڑھیے

شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہے

شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہے ابھی تو گفتگوئے مصلحت آمیز کرنا ہے یہ دنیا جائے آسائش نہیں ہے آزمائش ہے یہاں جو سختیاں تجھ پر پڑیں انگیز کرنا ہے غزل خوانی کو تو اس بزم میں آیا نہیں نادرؔ تجھے یاں وعظ کہنا پند سود آمیز کرنا ہے

مزید پڑھیے

پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ جس سے کہیں

پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ جس سے کہیں ہائے جو جی پر گزرتی ہے وہ ہم کس سے کہیں مانع عرض تمنا کیوں نہ ہو رشک رقیب ان سے ہم کہنے نہ پائیں ان کے مونس سے کہیں نادرؔ اس محفل میں ہیں وہ نام کے صدر انجمن آپ کو کہنا ہو جو کچھ اہل مجلس سے کہیں

مزید پڑھیے

دھرتی ماتا

یاد ہے مجھ کو جب میں چڑھ کر ایک پہاڑی کی چوٹی پر شاخ پہ ایک درخت کے بیٹھا کرتا تھا میں تیرا نظارا کوسوں تک وہ تیرا شیوہ دھانی ماشی کا ہی بھورا کوسوں تک وہ تیرے میداں ستھرے صاف چٹیلے میداں چھٹکی چھٹکی جھاڑیاں اس پر قدرت کی گل کاریاں اس پر تال تلیاں دریا ریتی باغ چمن آبادی ...

مزید پڑھیے

ایک ستارہ ٹوٹ گیا ہے (ردیف .. د)

ایک ستارہ ٹوٹ گیا ہے کیوں لگتا ہے خالی چاند چھپن چھپائی کھیل رہے ہیں ایک پیڑ کی ڈالی چاند تیرے روپ کا درشن مانگے کب سے کھڑا سوالی چاند لال گرم انگارہ سورج ایک سنہری تھالی چاند تجھ کو اس سے ڈر نہیں لگتا رات ہے کیسی کالی چاند میرے آنگن تو نہیں اترا سب نے عید منا لی چاند میرا ...

مزید پڑھیے

نیند ذرا سی جب بھی آنے لگتی ہے

نیند ذرا سی جب بھی آنے لگتی ہے یاد تمہاری شور مچانے لگتی ہے ساتھ ملاتے ہیں آواز پرندے بھی ہوا مجھے جب گیت سنانے لگتی ہے دیکھ کے کھڑکی سے بارش کو پاگل لڑکی آج بھی دو کپ چائے بنانے لگتی ہے سانپ مجھے اب اکثر اوپر کھینچتا ہے سیڑھی جب بھی مجھے گرانے لگتی ہے کمرے میں زنجیر سے جکڑی ...

مزید پڑھیے

زندگی تیری تمنا میں بسر ہو جائے

زندگی تیری تمنا میں بسر ہو جائے اور کیا چاہئے جو بار دگر ہو جائے درد کی دھوپ ڈھلے آس کا موسم نکھرے تیرے امکان کا پودا جو شجر ہو جائے اپنی سچائی کا پھر مجھ کو یقیں آئے گا زینت دار و رسن میرا جو سر ہو جائے زندگی کرنے کا آ جائے سلیقہ جو ہمیں صورت خلد بریں اپنا یہ گھر ہو جائے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

صورت گل کبھی زلفوں میں سجا کر لے جائے

صورت گل کبھی زلفوں میں سجا کر لے جائے جب بھی چاہے وہ مجھے اپنا بنا کر لے جائے دل کو رکھا ہے سر راہ محبت کب سے کوئی تو آئے ادھر اور اٹھا کر لے جائے رات بھر جاگتا رہتا ہوں میں اس خوف کے ساتھ تجھ کو مجھ سے نہ کوئی شخص چرا کر لے جائے جب بھی آتی ہے کسی اور سے آندھی اکثر میرے آنگن سے ترے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2391 سے 6203