قومی زبان

ابر کی اوٹ سے چھلکا ہے ادھر دھوپ کا رنگ

ابر کی اوٹ سے چھلکا ہے ادھر دھوپ کا رنگ ہے سکوں بخش بہت وقت سحر دھوپ کا رنگ وادیاں جھیلیں ہوں پربت ہوں کہ ہوں دشت و دمن کتنے لگتے ہیں حسیں چمکے اگر دھوپ کا رنگ انجمن شب کی اٹھی نور سحر آتے ہی اوڑھنے لگ گئے گلشن میں شجر دھوپ کا رنگ شب کی تاریکی میں سوئے تھے جو تھک کر طائر تازہ دم ...

مزید پڑھیے

سمجھ لیے بھی جو حالات کچھ نہیں ہوگا

سمجھ لیے بھی جو حالات کچھ نہیں ہوگا بہت اندھیری ہے یہ رات کچھ نہیں ہوگا کسے پڑی ہے کہ بہتے گھروں کی فکر کرے بہت گداز ہے برسات کچھ نہیں ہوگا یہ جسم ٹوٹ کے حصوں میں بٹنے والا ہے پھر اس پہ اپنی روایات کچھ نہیں ہوگا ہمارے سامنے ہم ہیں لڑائی کس سے کریں جو ہو گئی بھی تمہیں مات کچھ ...

مزید پڑھیے

سوچوں سے ان خوابوں کی زنجیریں کب اتریں گی

سوچوں سے ان خوابوں کی زنجیریں کب اتریں گی رستہ دیکھتی آنکھوں پر تعبیریں کب اتریں گی اپنے پیاروں کے جانے کا ماتم کب تک ہوگا دیواروں سے یہ پچھلی تصویریں کب اتریں گی ٹوٹی کڑیاں جوڑنے والے آخر کب آئیں گے گرہیں کھولنے والی وہ تحریریں کب اتریں گی تجھ بن خالی رہ کر کتنے سال بتانے ...

مزید پڑھیے

کوئی ہے جو غم نہیں جھیلتا کسے ہر نفس میں سکون ہے

کوئی ہے جو غم نہیں جھیلتا کسے ہر نفس میں سکون ہے ترے چارہ گر کو خبر نہیں ترے اپنے بس میں سکون ہے کسی مصلحت کے غبار میں کہاں راستہ نظر آئے گا اسے جا کے دیکھیے دوستو جسے پیش و پس میں سکون ہے مرے راستے بڑے نرم خو وہ شمال ہو کہ جنوب ہو مرے قلزم غم جاوداں ترے نیلے رس میں سکون ہے اسے بے ...

مزید پڑھیے

یقیں کے بعد یہ دیکھا کہ پھر گماں ٹوٹے

یقیں کے بعد یہ دیکھا کہ پھر گماں ٹوٹے وہ آندھیاں تھیں کہ سارے ہی سائباں ٹوٹے فصیل شہر کی ڈالیں جنہوں نے بنیادیں وہ ہاتھ دستکیں دیتے ہوئے یہاں ٹوٹے پھر ایک بار لڑائی تھی اپنی سورج سے ہم آئینوں کی طرح پھر یہاں وہاں ٹوٹے ہمارے موسم دل کو نظر یہ کس کی لگی یہ کن ہواؤں میں رشتوں کے ...

مزید پڑھیے

جھیل میں بہتے پھول کنول کے جھوٹے تھے

جھیل میں بہتے پھول کنول کے جھوٹے تھے خواب جو ہم نے مل کر دیکھے جھوٹے تھے میں ہی ٹوٹ کے بکھرا اور نہ رویا وہ اب کے ہجر کے موسم کتنے جھوٹے تھے جن کی خاطر تم نے مجھ کو چھوڑ دیا فرض کرو کہ وہ اندیشے جھوٹے تھے ویراں گھر کی تاریکی میں تنہا خواب اتنے سچے کب تھے جتنے جھوٹے تھے دل کو آج ...

مزید پڑھیے

کسی خموشی کا زہر جب اک مکالمے کی طرح سے چپ تھا

کسی خموشی کا زہر جب اک مکالمے کی طرح سے چپ تھا یہ واقعہ ہے کہ شہر قاتل بجھے دیئے کی طرح سے چپ تھا سحر کے آثار جب نمایاں ہوئے تو بینائی چھن چکی تھی قبولیت کا وہ ایک لمحہ مجسمے کی طرح سے چپ تھا کسی تعلق کے ٹوٹنے کا عذاب دونوں کے دل پر اترا میں عکس بن کے ٹھہر گیا تھا وہ آئینے کی طرح ...

مزید پڑھیے

ہنوز رات ہے جلنا پڑے گا اس کو بھی

ہنوز رات ہے جلنا پڑے گا اس کو بھی کہ میرے ساتھ پگھلنا پڑے گا اس کو بھی درست ہے کہ وہ مجھ سے گریز پا ہے مگر گروں گا میں تو سنبھلنا پڑے گا اس کو بھی اٹوٹ دوستی نسبت تعلقات وفا یہ کیسی آگ میں جلنا پڑے گا اس کو بھی کسی بھی طرح سے اس پیار کو نبھانا ہے اب اپنا آپ بدلنا پڑے گا اس کو ...

مزید پڑھیے

تیری سمت جانے کے راستوں میں زندہ ہوں

تیری سمت جانے کے راستوں میں زندہ ہوں پھول ہو چکا ہوں اور خوشبوؤں میں زندہ ہوں کون ہے جو ہر لمحہ صورتیں بدلتا ہے میں کسے سمجھنے کے مرحلوں میں زندہ ہوں بند سیپیوں میں ہوں منتظر ہوں بارش کا میں تمہاری آنکھوں کے پانیوں میں زندہ ہوں تو فراق کی ساعت ناتمام قربت میں میں وصال کا لمحہ ...

مزید پڑھیے

حرص و ہوس نے ڈھونڈے ہیں عنواں نئے نئے

حرص و ہوس نے ڈھونڈے ہیں عنواں نئے نئے دل بستگی کے ہوتے ہیں ساماں نئے نئے تہذیب بھی بدل گئی بدلی معاشرت فیشن کے روز ہوتے ہیں ساماں نئے نئے بزم سخن وراں میں بھی ہوتی ہیں جدتیں اہل سخن نئے ہیں سخنداں نئے نئے منزل بہت قریب ہے عمر رواں کی اب دل پھر بھی کرتا رہتا ہے ارماں نئے نئے ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2334 سے 6203