قومی زبان

یہ ہوا یہ دھوپ یہ برسات پہلے سی نہیں

یہ ہوا یہ دھوپ یہ برسات پہلے سی نہیں دن نہیں پہلے سے اب یہ رات پہلے سی نہیں آج کیوں ہر آدمی بدنام آتا ہے نظر آج کیوں ہر آدمی کی ذات پہلے سی نہیں کس لئے رٹ ہائے ہائے کی لگی ہے ہر طرف کیوں ہمارے دل جگر میں بات پہلے سی نہیں اب کہاں وہ زہر کے پیالے کہاں میرا کہو پریم کی بازی میں کیوں ...

مزید پڑھیے

پنجرے میں بھی در رکھنا

پنجرے میں بھی در رکھنا اونچا اپنا سر رکھنا لاکھ رہو باہر لیکن بھیتر اپنا گھر رکھنا پیار کرو گے تو سیکھو سینے پر پتھر رکھنا یہ جو اپنے بنتے ہیں ان پر خاص نظر رکھنا لوٹانی بھی ہے اک دن اجلی یہ چادر رکھنا

مزید پڑھیے

بدن کو جاں سے جدا ہو کے زندہ رہنا ہے

بدن کو جاں سے جدا ہو کے زندہ رہنا ہے یہ فیصلہ ہے فنا ہو کے زندہ رہنا ہے یہی نہیں کہ مرے گرد کھینچنی ہیں حدیں مرے خدا نے خدا ہو کے زندہ رہنا ہے ہزاروں لوگ تھے طوق انا سجائے ہوئے فقط مجھے ہی رہا ہو کے زندہ رہنا ہے مجھے تو خیر شب ہجر مار ڈالے گی تمہیں تو مجھ سے جدا ہو کے زندہ رہنا ...

مزید پڑھیے

اچھا سا اختتام بھی تم سے نہ ہو سکا

اچھا سا اختتام بھی تم سے نہ ہو سکا اس مرتبہ سلام بھی تم سے نہ ہو سکا سلجھیں نہ گتھیاں کبھی باہر کے خوف کی اندر کا احترام بھی تم سے نہ ہو سکا بچوں نے آگ اوڑھ لی چیخوں کے شور میں ایسے میں کچھ کلام بھی تم سے نہ ہو سکا خرچہ نہ گھر کا چل سکا حرفوں کو بیچ کر لہجہ بدل کے نام بھی تم سے نہ ...

مزید پڑھیے

وہی محترم رہے شہر میں جو تفاوتوں میں لگے رہے

وہی محترم رہے شہر میں جو تفاوتوں میں لگے رہے جنہیں پاس عزت حرف تھا وہ ریاضتوں میں لگے رہے انہیں تم درازیٔ عمر کی نہیں، حوصلے کی دعائیں دو وہ جو ایک نسبت بے اماں کی حفاظتوں میں لگے رہے مرے ہاتھ میں ترے نام کی وہ لکیر مٹتی چلی گئی مرے چارہ گر مرے درد کی ہی وضاحتوں میں لگے ...

مزید پڑھیے

ہار کے خود ہی بکھر جاؤں کیا

ہار کے خود ہی بکھر جاؤں کیا وقت دشمن ہے تو ڈر جاؤں کیا کیا کروں فیصلہ منجدھار میں ہوں ڈوب جاؤں کہ ابھر جاؤں کیا خوف جانے نہیں دیتا اس پار ہائے اس پار ہی مر جاؤں کیا نقش پا کوئی نہیں جس جانب بیچ لہروں کے اتر جاؤں کیا بھول کر ماتم تقدیر میں اب کر کے دنیا سے مفر جاؤں کیا نازلیؔ ...

مزید پڑھیے

دہکتے کیوں نہیں اے دل بجھے انگار ہو کیا

دہکتے کیوں نہیں اے دل بجھے انگار ہو کیا رکی ہے جو زباں تک آ کے وہ گفتار ہو کیا تصرف قلب و جاں پر اب تخیل کا نہیں کیوں خود اپنی فکر کی کشتی کی تم منجدھار ہو کیا نجات روح پانے کے لئے کچھ تو لکھو اب ابلتے کیوں نہیں برفاب کی تم دھار ہو کیا غزل کہتے نہیں بنتی جمود ذہن کیوں ہو مہکتے ...

مزید پڑھیے

تمہیں لگتی ہے دنیا اجنبی کیا

تمہیں لگتی ہے دنیا اجنبی کیا طبیعت ہو گئی ہے فلسفی کیا ہوس تو ہے ازل سے ہاتھ خالی بجھی بھی ہے کسی کی تشنگی کیا ذرا سی بے وفائی پر ہم اوس کی بھلا توڑیں مراسم باہمی کیا کہیں تکرار حد سے بڑھ نہ جائے کریں اس بحث کو اب ملتوی کیا وہ عاقل ہے سمجھ لے گا اشارہ کریں نادم اسے ہے لازمی ...

مزید پڑھیے

وہ امتحان میں جب ہم کو ڈال دیتا ہے

وہ امتحان میں جب ہم کو ڈال دیتا ہے جو لا جواب ہوں ایسے سوال دیتا ہے وہ میری فکر تغزل میں ڈھال دیتا ہے مرا خدا مجھے نازک خیال دیتا ہے اتارتا ہے مرے ذہن پر نئے اشعار دھنک کے رنگ غزل میں وہ ڈال دیتا ہے یہ پنچھیوں کے جو نغمے سنائی دیتے ہیں کوئی تو دیتا ہے سر ان کو تال دیتا ہے پناہ ...

مزید پڑھیے

یہ عناصر سے بنا تن کا مکاں کچھ بھی نہیں

یہ عناصر سے بنا تن کا مکاں کچھ بھی نہیں ماسوائے زحمت و بار گراں کچھ بھی نہیں اس کی رحمت کے بنا ہے زندگی بے فائدہ چار دن کا کھیل ہے عمر رواں کچھ بھی نہیں جسم کی لذت کے پیچھے کیوں بھٹکتا ہے مدام روح میں رب کو بسا لے جسم و جاں کچھ بھی نہیں ہیں غرض کے رشتے ناطے ہو ضرورت تو لگاؤ ورنہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2333 سے 6203