قومی زبان

امتحاں لینے چلا ہے مری بینائی کا

امتحاں لینے چلا ہے مری بینائی کا اس کو اندازہ نہیں بات کی گہرائی کا اس لئے روک لیا اٹھا ہوا ہاتھ ہم نے اس کے ہر وار میں انداز تھا پسپائی کا خواب لکھتی رہیں آنکھیں در و بام شب پر صبح اک پہلو دکھاتی رہی سچائی کا اجنبی ہو گئے اک چھت تلے رہنے والے کچھ تو کفارہ ادا کرنا تھا یکجائی ...

مزید پڑھیے

نمی تھی آنکھ میں لیکن اک اعتماد بھی تھا

نمی تھی آنکھ میں لیکن اک اعتماد بھی تھا مجھے تو حوصلہ جینے کا اس کے بعد بھی تھا بجھے ہوئے در و دیوار جانتے ہوں گے کبھی یہاں ترے جلووں کا انعقاد بھی تھا وہ ایک اسم طوالت جو شب کی کاٹ سکے وہ اسم عالم وحشت میں مجھ کو یاد بھی تھا خزاں نصیب سہی آج شاخسار حیات ہوا کا آنا کبھی صحن دل ...

مزید پڑھیے

ترے خیال، ترے خواب، تیرے نام کے ساتھ

ترے خیال، ترے خواب، تیرے نام کے ساتھ بنی ہے خاک مری کتنے اہتمام کے ساتھ بہت سے پھول تھے اور سارے اچھے رنگوں کے صبا نے بھیجے تھے جو کل ترے پیام کے ساتھ نظر ٹھہرتی نہ تھی اس پہ اور خود پر بھی میں آئینے میں تھی کل ایک لالہ فام کے ساتھ ترے خیال سے روشن ہے سر زمین سخن کہ جیسے زینت شب ...

مزید پڑھیے

اک چراغاں رات بھر پانی پہ ہے

اک چراغاں رات بھر پانی پہ ہے روشنی کا اک نگر پانی پہ ہے عکس ڈھلتی شب کے رنگ و نور کا جاذب قلب و نظر پانی پہ ہے چھیڑتی ہے راگنی پتوار کیا ایک نغمہ سربسر پانی پہ ہے چاند کی اٹکھیلیاں لہروں کے ساتھ کھیل جاری رات بھر پانی پہ ہے کشتیاں ان کی سونامی لے گئی جن غریبوں کا بسر پانی پہ ...

مزید پڑھیے

کاش ہندو نہ مسلماں ہوتا

کاش ہندو نہ مسلماں ہوتا صرف اک پیارا سا انساں ہوتا امن کے پھول مہکتے ہر سو ہر نگر ایک گلستاں ہوتا دھرم کے نام پہ ہوتے نہ فساد فتنہ و شر کا نہ طوفاں ہوتا زندگی بنتی نہ ویران کھنڈر خون انساں کا نہ ارزاں ہوتا شہر کی روح نہ ہوتی گھائل اتنا خونخوار نہ انساں ہوتا اس طرح بنتا نہ ...

مزید پڑھیے

دل بدلتے نہیں لعینوں کے

دل بدلتے نہیں لعینوں کے قصے سب ایک ہیں زمینوں کے موج دریا پکارتی بھی کسے گم ہیں نام و نشاں سفینوں کے ہم ہی تھے یادگار شرفا کے بن گئے ہم ہدف کمینوں کے سرسراتے ہیں ذہن میں اب کے کیا ہوئے خوف آستینوں کے اب کھنڈر بولنے لگے ہیں نسیمؔ کوئی وارث نہیں مکینوں کے

مزید پڑھیے

یہ رنگ و بو ہیں کچھ دن کے نظاروں کا بھروسہ کیا

یہ رنگ و بو ہیں کچھ دن کے نظاروں کا بھروسہ کیا بہاریں کل کہاں ہوں گی بہاروں کا بھروسا کیا نہ اترانا کہ ہے تم کو میسر دامن ساحل کنارے ٹوٹ جاتے ہیں کناروں کا بھروسا کیا ہم اپنی ذات ہی کو انجمن تسلیم کرتے ہیں ادارے ٹوٹ جاتے ہیں اداروں کا بھروسا کیا زمانے میں نہیں انجام اچھا سر ...

مزید پڑھیے

قطرہ قطرہ مٹاتا ہوں

قطرہ قطرہ مٹاتا ہوں تب اک قطرہ لکھتا ہوں مجھ جیسا کیوں دیکھوں میں جب خود جیسا دکھتا ہوں میٹھے بول سنا لے جا مول نہیں میں بکتا ہوں تن تو میرا بھی ہے پر میں اس میں کب ٹکتا ہوں میں فاقوں کے چولھے میں اک روٹی سا سکتا ہوں

مزید پڑھیے

شمع کی بزم میں ایسے ہی پروانہ نہیں آتا

شمع کی بزم میں ایسے ہی پروانہ نہیں آتا نہیں ہوتی اگر جرأت تو دیوانہ نہیں آتا نصیحت دے رہے ہیں پیڑ سے جھڑتے ہوئے پتے جسے کھونا نہیں آتا اسے پانا نہیں آتا نہیں تو مجھ کو بھی ہوتے ترے رخسار و لب آساں مجھے زلفوں کے پیچوں سا یوں بل کھانا نہیں آتا تیرے چہرے پہ اک مسکان اک مسکان لگتی ...

مزید پڑھیے

یہ چار غزلیں یہ لفظ ڈھائی

یہ چار غزلیں یہ لفظ ڈھائی ہے عمر بھر کی یہی کمائی کسی نے ہم پر جگر الیچا کسی نے ہم سے نظر چرائی دیا خدا نے بھی خوب ہم کو لٹائی ہم نے بھی پائی پائی نہ جیت پائے نہ ہار مانی یہی کہانی غزل رباعی نہ پوچھ کیسے کٹے ہیں یہ دن نہ مانگ راتوں کی یوں صفائی

مزید پڑھیے
صفحہ 2332 سے 6203