امتحاں لینے چلا ہے مری بینائی کا
امتحاں لینے چلا ہے مری بینائی کا اس کو اندازہ نہیں بات کی گہرائی کا اس لئے روک لیا اٹھا ہوا ہاتھ ہم نے اس کے ہر وار میں انداز تھا پسپائی کا خواب لکھتی رہیں آنکھیں در و بام شب پر صبح اک پہلو دکھاتی رہی سچائی کا اجنبی ہو گئے اک چھت تلے رہنے والے کچھ تو کفارہ ادا کرنا تھا یکجائی ...