وجود
بتاؤ کون گم ہوا، وہ ہم نفس گیا کہاں نقوش پا سنا رہے ہیں آج کس کی داستاں یہ رات، دن کے سلسلے جو ہیں ہمارے درمیاں ہماری کوئی ابتدا نہ ہے ہماری انتہا بس اک مہیب فاصلہ بس اک عجیب سلسلہ یہ جو بھی کچھ نظر میں ہے سفر میں ہے، سفر میں ہے جو رازدان وقت تھے انہیں کہیں سے لاؤ اب سنوار دیں جو ...