قومی زبان

وجود

بتاؤ کون گم ہوا، وہ ہم نفس گیا کہاں نقوش پا سنا رہے ہیں آج کس کی داستاں یہ رات، دن کے سلسلے جو ہیں ہمارے درمیاں ہماری کوئی ابتدا نہ ہے ہماری انتہا بس اک مہیب فاصلہ بس اک عجیب سلسلہ یہ جو بھی کچھ نظر میں ہے سفر میں ہے، سفر میں ہے جو رازدان وقت تھے انہیں کہیں سے لاؤ اب سنوار دیں جو ...

مزید پڑھیے

کڑوا سچ

میں فقط جسم نہیں ذہن بھی ہوں سب قصیدے لب و رخسار کے برحق لیکن چشم میگوں کے ادھر قامت شمشاد کے ساتھ زلف پیچاں سے پرے میری اک سوچ بھی ہے فکر بھی ہے میں کہ تخلیق بشر کا ہوں وسیلہ لیکن کیوں دکھائی نہیں دیتا ہے تمہیں میرا شعور میری دانش کے کئی رنگ ہیں تاریخ کے پاس میرے افکار مری رائے ...

مزید پڑھیے

اسلام آباد کی ایک شام

زمیں پہ پتے بکھر رہے ہیں خنک ہوا کے اداس جھونکے گئی رتوں کی تلاش میں ہیں خزاں زدہ باغ بے بہاراں یہ کہہ رہا ہے کہ مجھ کو دیکھو عجیب دن ہیں عجیب راتیں شکستہ پا بے نشاں سویرے مرا مقدر ہیں بس اندھیرے نہ اب پرندے شجر پہ گاتے ہیں گیت کوئی بس ایک بے نام فاصلہ ہے جو کہنہ پیڑوں کے درمیاں ...

مزید پڑھیے

خود کشی

زمیں اب چلتے چلتے تھک چکی ہے سمندر خشک ہوتا جا رہا ہے فلک بھی کتنا بوڑھا ہو چکا ہے ستارے روشنی کھونے لگے ہیں یہ سیارے جو گردش کر رہے ہیں یہ سیارے زمیں پر آ گریں گے بکھر جائے گا یہ شیرازہ اک دن سبھی ذی روح سارے جانور انساں یہ اک اک سانس مانگیں گے زمیں پر بگڑ جائے گا جس دن بھی ...

مزید پڑھیے

ہاتھ پھیلائے تھے تم نے مجھ کو تنہا دیکھ کر

ہاتھ پھیلائے تھے تم نے مجھ کو تنہا دیکھ کر اب خفا ہوتے ہو کیوں زخم تمنا دیکھ کر چاندنی راتوں میں اکثر اس گلی کے موڑ پر چونک اٹھتا ہے کوئی اپنا ہی سایہ دیکھ کر یہ نظر کی تشنگی یہ سلسبیل حسن یار جی سلگتا ہے لبوں کے پاس دریا دیکھ کر یاد آ جاتا ہے نا سفتہ امیدوں کا مآل ڈھلتے سایوں ...

مزید پڑھیے

راس آئی اس کو میری وفا کم بہت ہی کم

راس آئی اس کو میری وفا کم بہت ہی کم اس واسطے ہے اس سے گلہ کم بہت ہی کم دل کی عبارتوں کو زیادہ نہیں پڑھا ہم سے یہ کار نیک ہوا کم بہت ہی کم وہ پیڑ جس کے سائے کی مجھ کو تلاش تھی سایہ ملا تو اس کا ملا کم بہت ہی کم تاریکیٔ حیات سے لڑنے چلا ہے وہ لے کر چراغ دل میں ضیا کم بہت ہی کم اس دور ...

مزید پڑھیے

رہ رہ کر کیوں دل تڑپا ہے میں بھی سوچوں تو بھی سوچ

رہ رہ کر کیوں دل تڑپا ہے میں بھی سوچوں تو بھی سوچ پیار میں آخر ایسا کیا ہے میں بھی سوچوں تو بھی سوچ دل کی باتیں کہنا چاہوں لیکن تجھ سے کہہ نہ سکوں اکثر ایسا کیوں ہوتا ہے میں بھی سوچوں تو بھی سوچ کیسے کیسے افسانے ہیں تیرے میرے بارے میں سارا زمانہ سوچ رہا ہے میں بھی سوچوں تو بھی ...

مزید پڑھیے

موت سے کھیلنا خطروں کی نظر میں رہنا

موت سے کھیلنا خطروں کی نظر میں رہنا میری مجبوری ہے دشمن کے اثر میں رہنا جب سے اس گل کا بہاروں سے ہوا ہے رشتہ چاہتا ہی نہیں اس دن سے شجر میں رہنا منزلیں چاند ستاروں کی اگر پانا ہے تم اسی طرح مرے ساتھ سفر میں رہنا عیش کے یہ در و دیوار مبارک ہوں تمہیں آ گیا راس ہمیں راہ گزر میں ...

مزید پڑھیے

خوش ہے وہ یا کہ غم زدہ بھی ہے

خوش ہے وہ یا کہ غم زدہ بھی ہے یہ اسی شخص کو پتا بھی ہے جس کو قسمت سے جو میسر ہو زندگی زہر بھی دوا بھی ہے دل کو دل ہی نہ جانیے صاحب دیکھیے تو یہ آئنہ بھی ہے تم نے پتھر کو فن دیا ہی نہیں ورنہ پتھر تو دیوتا بھی ہے دل ہے وہ خوش نصیب کا شانہ جس میں بندہ بھی ہے خدا بھی ہے ہر فسانے کی ہر ...

مزید پڑھیے

نظر سے پینے پلانے کی رات آئی ہے

نظر سے پینے پلانے کی رات آئی ہے دلوں کی پیاس بجھانے کی رات آئی ہے غموں کا دور ہوا ختم پونچھ لو آنسو ہنسو کہ ہنسنے ہنسانے کی رات آئی ہے تمام زندگی جو بن کے یادگار رہے اک ایسا جشن منانے کی رات آئی ہے فلک کے چاند ستارے ہیں سہمے سہمے سے نقاب رخ سے اٹھانے کی رات آئی ہے جواں جواں ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2325 سے 6203