مرہم وقت نہ اعجاز مسیحائی ہے
مرہم وقت نہ اعجاز مسیحائی ہے زندگی روز نئے زخم کی گہرائی ہے پھر مرے گھر کی فضاؤں میں ہوا سناٹا پھر در و بام سے اندیشۂ گویائی ہے تجھ سے بچھڑوں تو کوئی پھول نہ مہکے مجھ میں دیکھ کیا کرب ہے کیا ذات کی سچائی ہے تیرا منشا ترے لہجے کی دھنک میں دیکھا تری آواز بھی شاید تری انگڑائی ...