قومی زبان

مرہم وقت نہ اعجاز مسیحائی ہے

مرہم وقت نہ اعجاز مسیحائی ہے زندگی روز نئے زخم کی گہرائی ہے پھر مرے گھر کی فضاؤں میں ہوا سناٹا پھر در و بام سے اندیشۂ گویائی ہے تجھ سے بچھڑوں تو کوئی پھول نہ مہکے مجھ میں دیکھ کیا کرب ہے کیا ذات کی سچائی ہے تیرا منشا ترے لہجے کی دھنک میں دیکھا تری آواز بھی شاید تری انگڑائی ...

مزید پڑھیے

میں بھی اے کاش کبھی موج صبا ہو جاؤں

میں بھی اے کاش کبھی موج صبا ہو جاؤں اس توقع پہ کہ خود سے بھی جدا ہو جاؤں ابر اٹھے تو سمٹ جاؤں تری آنکھوں میں دھوپ نکلے تو ترے سر کی ردا ہو جاؤں آج کی رات اجالے مرے ہمسایہ ہیں آج کی رات جو سو لوں تو نیا ہو جاؤں اب یہی سوچ لیا دل میں کہ منزل کے بغیر گھر پلٹ آؤں تو میں آبلہ پا ہو ...

مزید پڑھیے

ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتا

ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتا دل اس سے ملا جس سے مقدر نہیں ملتا یہ راہ تمنا ہے یہاں دیکھ کے چلنا اس راہ میں سر ملتے ہیں پتھر نہیں ملتا ہم رنگیٔ موسم کے طلب گار نہ ہوتے سایہ بھی تو قامت کے برابر نہیں ملتا کہنے کو غم ہجر بڑا دشمن جاں ہے پر دوست بھی اس دوست سے بہتر نہیں ...

مزید پڑھیے

سکوت شام سے گھبرا نہ جائے آخر تو

سکوت شام سے گھبرا نہ جائے آخر تو مرے دیار سے گزری جو اے کرن پھر تو لباس جاں میں نہیں شعلگی کا رنگ مگر جھلس رہا ہے مرے ساتھ کیوں بظاہر تو وفائے وعدہ و پیماں کا اعتبار بھی کیا کہ میں تو صاحب ایماں ہوں اور منکر تو مرے وجود میں اک بے زباں سمندر ہے اتر کے دیکھ سفینے سے میری خاطر ...

مزید پڑھیے

ہماری راہ سے پلکوں کو آشنا رکھنا

ہماری راہ سے پلکوں کو آشنا رکھنا کبھی ہم آئیں تو خوابوں کا در کھلا رکھنا ہمیشہ ملنے ملانے سے واسطہ رکھنا کیا ہے پیار تو جاری یہ سلسلہ رکھنا قریب آ کے زمانہ فریب دیتا ہے جو ہو سکے تو زمانے سے فاصلہ رکھنا نہیں ہے کوئی حقیقت پسند دنیا میں کبھی کسی کے مقابل نہ آئنہ رکھنا وہ خط جو ...

مزید پڑھیے

کیوں نہ مجھ کو ترا پتا مل جائے

کیوں نہ مجھ کو ترا پتا مل جائے ڈھونڈنے والوں کو خدا مل جائے وقت کی رہ گزار میں شاید کوئی مجھ سا شکستہ پا مل جائے ہم کو تنہائیاں نصیب رہیں اور تمہیں ہم سا دوسرا مل جائے عکس ہوں اور بھٹک رہی ہوں میں چاہتی ہوں کہ آئینہ مل جائے یا تو اس دشت میں شجر ہو کوئی یا مجھے گھر کا راستہ مل ...

مزید پڑھیے

سچ کی صدا جب آتی ہے

سچ کی صدا جب آتی ہے خاموشی چھا جاتی ہے ڈوبنے لگتی ہے ناؤ ندیا شور مچاتی ہے اس کی یاد کی پروائی کتنے پھول کھلاتی ہے عشق کی یہ آزاد روی زنجیریں پہناتی ہے آج بھی تیری دیوانی تیری ہی کہلاتی ہے ہولے سے چلتی ہے نسیم یاد کسی کی آتی ہے شام کے گیسو کھلتے ہی تنہائی بڑھ جاتی ہے ملنا ...

مزید پڑھیے

ایک طرف سے اندھے ہوتے ہیں

ایک طرف سے اندھے ہوتے ہیں کیسے یہ آئینے ہوتے ہیں کسی کو جو کوئی رنج نہیں دیتے لوگ وہ کتنے اچھے ہوتے ہیں تنہائی کا خوف تھکاتا ہے یا پھر بوجھل رستے ہوتے ہیں آنکھیں ان کو دیکھ نہیں پاتیں دیواروں میں چہرے ہوتے ہیں جلتی ہیں جب قربت کی شمعیں کتنے روشن لمحے ہوتے ہیں شام بہار کے دل ...

مزید پڑھیے

اب ہمیں تیری تمنا نہیں ہے

اب ہمیں تیری تمنا نہیں ہے آنکھ کو ذوق تماشا نہیں ہے جانے کیوں ڈھونڈ رہے ہیں ہم تم وہ جو تقدیر میں لکھا نہیں ہے یوں سر راہ گزر بیٹھے ہیں جیسے ہم کو کہیں جانا نہیں ہے پھر یہ کیوں خاک سی اڑتی ہے یہاں دل کے اندر کوئی صحرا نہیں ہے شہر والو کبھی اس کو بھی پڑھو وہ جو دیوار پہ لکھا نہیں ...

مزید پڑھیے

ہم راز

اب یہ صورت بھی تو دیکھو آ کر کس طرح عکس میں ملتا ہے سراپا میرا کیسے دل درد کی آواز بنا جاتا ہے کس طرح آئنہ ہم راز بنا جاتا ہے ریگ زاروں میں خیالوں کے میں تنہا اکثر تیرے ملبوس کی نکہت لے کر اپنی درماندہ محبت لے کر اسی آئینے کی ہمدرد رفاقت لے کر میں نے بھی جینے کی اک راہ نکالی آخر جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2324 سے 6203