قومی زبان

اپنی تصویر مجھے آپ بنانی ہوگی

میرے فن کار !!مجھے خوب تراشا تو نے آنکھ نیلم کی بدن چاندی کا یاقوت کے لب یہ ترے ذوق طلب کے بھی ہیں معیار عجب پاؤں میں میرے یہ پازیب سجا دی تو نے نقرئی تار میں آواز منڈھا دی تو نے یہ جواہر سے جڑی قیمتی مورت میری اپنے سامان تعیش میں لگا دی تو نے میں نے مانا کہ حسیں ہے ترا ...

مزید پڑھیے

ترک تعلق

سوچتے تھے کہ ہو نا واقف آداب وفا تم میں تو ترک تعلق کا سلیقہ بھی نہیں دیکھ کے ہم کو پریشان سے ہو جاتے ہو دو قدم بڑھتے ہو گھبرائے سے رک جاتے ہو لب پہ بے ساختہ سی بات ٹھہر جاتی ہے جانے کیا سوچ کے ماتھے پہ نمی آتی ہے اب کسے کہتے ہو جاناں کبھی پوچھا ہم نے ہم پہ تو خیر جو گزری تمہیں ٹوکا ...

مزید پڑھیے

حادثہ

صلیب سے جو ٹپکتا ہے بے گناہ لہو وہ بوند بوند کا اپنی حساب لیتا ہے زمین جبر کی افواج فیل واقف ہیں فضا میں ایسے پرندوں کا ایک غول بھی ہے جو کنکری سے چٹانوں کو توڑ دیتا ہے جب اپنی حد سے گزرتے ہیں ابرہی سیلاب یہ سنگریزوں سے رخ ان کے موڑ دیتا ہے سو جب یہ سازشی صیاد طائروں کے لیے فضا میں ...

مزید پڑھیے

مجھ سے بازی لے گیا پھر با خدا میرا نصیب

مجھ سے بازی لے گیا پھر با خدا میرا نصیب میں سسکتا رہ گیا ہنستا رہا میرا نصیب زندگی کے نام پر جب زندگی مجھ کو ملی امتحاں در امتحاں لکھا گیا میرا نصیب میں تو رشتوں کی تمازت سے جھلس کر رہ گیا اور اس پر تیر کی صورت لگا میرا نصیب کیا سمجھتا میں بھلا محدود ہوں اپنے تئیں کہ سزا ہے یا ...

مزید پڑھیے

زندگی کے نام پر دھوکا ہوا اچھا ہوا

زندگی کے نام پر دھوکا ہوا اچھا ہوا جو ہوا جو بھی ہوا جیسا ہوا اچھا ہوا کھا رہا تھا دھیرے دھیرے یہ سکوت جاں مجھے محشر جاں جا بجا برپا ہوا اچھا ہوا ہو کے باغی آنکھ سے آنسو گرا رخسار پر صحبت ہجراں وہی دریا ہوا اچھا ہوا لے رہی تھی سسکیاں قرطاس پر تحریر جاں ذائقہ تحریر کا کڑوا ہوا ...

مزید پڑھیے

میں کھو چکا ہوں عجب راستے بناتے ہوئے

میں کھو چکا ہوں عجب راستے بناتے ہوئے تلاش کرتا ہوں اب زائچے بناتے ہوئے خود اپنی راہ کی دیوار کر دیا خود کو محبتوں میں نئے زاویہ بناتے ہوئے بچھا کے جھیل تخیل کے ایک صحرا میں تجھے بھلاؤں گا میں دائرے بناتے ہوئے نکل چکا ہوں میں اپنی حدود سے آگے نئی ردیف نئے قافیے بناتے ہوئے یہ ...

مزید پڑھیے

بنا کے تاج محل خود اسے گراؤں گا

بنا کے تاج محل خود اسے گراؤں گا محبتوں میں بغاوت ہے کیا دکھاؤں گا قلم لگا کے عداوت کے پیڑ پودوں میں جو شاخ صبر کا پھل دے وہی اگاؤں گا اتر چکی ہے مری روح میں شب ہجراں میں اس کو ہجر کی منکوحہ اب بناؤں گا غموں کی آنچ پر آنسو ابال کر اپنے میں اپنے ضبط کی قوت کو آزماؤں گا چلا ہوں باد ...

مزید پڑھیے

اس شہر بے نیاز کے لوگوں کی خو نہ پوچھ

اس شہر بے نیاز کے لوگوں کی خو نہ پوچھ کس کس ادا سے کرتے ہیں دل کا لہو نہ پوچھ اہل وفا کی کرتے ہیں کیا کیا یہ خاطریں خود مل کے ان کو دیکھ کبھی مجھ سے تو نہ پوچھ لگتی ہیں ہر گلی میں محبت کی بولیاں بکتی یہاں ہے جنس وفا کو بہ کو نہ پوچھ اک آن میں ہی دل کا جزیرہ جھلس گیا شہر بدن میں ایسی ...

مزید پڑھیے

دعا سلام نہیں نامہ و پیام نہیں

دعا سلام نہیں نامہ و پیام نہیں کچھ اپنے چاہنے والوں سے ان کو کام نہیں وہ کیا تھی شام جدائی نہ پوچھ لگتا تھا کہ آخری تو کہیں زندگی کی شام نہیں جو غیر جیسا ہو وہ کس لیے ہمارا ہو جو اتنا اپنا لگے کیوں ہمارے نام نہیں کسی غزال کے پیچھے بھٹکتا ہوگا کہیں سبکتگین کا میرے کہیں قیام ...

مزید پڑھیے

بات بے بات یہ طعنہ یہ ملامت کیا ہے

بات بے بات یہ طعنہ یہ ملامت کیا ہے یہی ہوتی ہے محبت تو عداوت کیا ہے کروٹیں لیتا ہے ہر درد ترا صبح تلک چاندنی رات سے اے دل تجھے وحشت کیا ہے ایک اس کے لیے کتنوں سے برائی لے لی اب خدا جانے اسے مجھ سے شکایت کیا ہے اک یقیں کی ہے حرارت کہ کوئی ہے اپنا اور اس کے سوا جسموں میں حرارت کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2291 سے 6203