قومی زبان

تو بھی رویا تھا مالک؟

دیکھا تو نے کچھ مالک آرٹ گیلری تیری اور یہ اس کی تصویریں بے رحم رواجوں کی مکڑیوں کے جالوں میں نیم جاں مناظر کی ڈھیر پر سے کوڑے کے روٹی چنتے بچوں کی شہر کے سلم نامی بے نصب ٹھکانوں کی کتنی بے وقعت ہیں یہ جب تلک پکاسو سا کوئی اک مصور ان بھوک کھائے ڈھانچوں کو پینٹنگ میں نا جڑ دے کیمرا ...

مزید پڑھیے

آدھی گواہی

عظیم منصف!! ہماری قسمت کی ہر عدالت کا فیصلہ ہے کہ اپنی بے حرمتی کی فرمان لے کے جائیں تو اپنا کوئی گواہ لائیں گواہ رشتوں کے محترم کنڈلیوں میں بیٹھے سنپولیوں کا گواہ ایسی حویلیوں کا کہ جن میں قانون پاؤں دھرنے سے کپکپائے کنواری چیخیں بلک بلک کے صدائیں کرتی ان ہی اندھیروں میں ڈوب ...

مزید پڑھیے

ہم جانتے ہیں

یوں ہی ملنا تھا تو پہلے ہی کہیں مل جاتے اس طرح کس لیے ہر موڑ پہ ہم گھبراتے اب ملے ہو تو عجب طرح کا ڈر ہے جی کو زندگی کی کہیں یہ بھی تو کوئی چال نہیں اب تو یوں ہے کہ خوشی پا کے بھی وہم آتا ہے یہ بھی بربادئ دل کی تو کوئی فال نہیں خیر آؤ چلو دو چار گھڑی مل بیٹھیں کوئی پیمان وفا باندھیں نہ ...

مزید پڑھیے

دام کا خوف بھی پرواز بڑھا دیتا ہے

میں اگر جاں کی اماں پاؤں تو کچھ عرض کروں بے سبب آپ جو رہتے ہیں پریشان سے کچھ جیب میں رکھتے ہیں تعزیر کے سامان سے کچھ حبس میں تازہ ہواؤں کو چنا کرتے ہیں فاختاؤں کے لیے جال بنا کرتے ہیں میں تو حیران ہوں کیا آپ کو اندازہ نہیں خوش نمو حبس زمیں سے بھی نمو لیتا ہے دام کا خوف بھی پرواز ...

مزید پڑھیے

ایک اک آرزو صدقہ میں اتاری جائے

جشن نوروز بھی ہے جشن بہاراں بھی ہے شب مہتاب بھی جشن مہ تاباں بھی ہے سنتے ہیں آج ہی جشن شہ خوباں بھی ہے آئیے اے دل برباد چلیں ہم بھی وہاں جشن کی رات ہے سوغات تو بٹتی ہوگی اپنے حصے کی چلیں ہم بھی اٹھا لیں سوغات درد کی آخری سینے سے لگا لیں سوغات اور پھر یوں ہو کہ جب شام ڈھلے اوس میں ...

مزید پڑھیے

آداب ضبط عشق نہ رسوا کرے کوئی

آداب ضبط عشق نہ رسوا کرے کوئی اپنی بساط دیکھ کے سودا کرے کوئی کیا طور ہر فراز سے اٹھے غبار شوق وہ سوز اشتیاق تو پیدا کرے کوئی کرتے ہیں غم سے مانجھ کے فطرت کو آب دار کار جنوں میں ہم سے افادہ کرے کوئی اٹھے دہن دریدہ سبھی دعویدار عشق اب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی گزری ہے بار ...

مزید پڑھیے

تمام لہجوں میں لہجہ وہی جو پیار کا ہے

تمام لہجوں میں لہجہ وہی جو پیار کا ہے تمام تحفوں میں تحفہ اک اعتبار کا ہے خزاں کے بیج زمینوں میں بو کے بیٹھے ہیں اور انتظار کسی موسم بہار کا ہے کسی بھی کار جنوں میں کوئی خسارہ نہیں خسارہ کوئی اگر ہے تو انتظار کا ہے تمام سود و زیاں کا حساب رہتا ہے تعلقات کا ہر لہجہ کاروبار کا ...

مزید پڑھیے

رستہ کوئی معیار سے ہٹ کر نہیں دیکھا

رستہ کوئی معیار سے ہٹ کر نہیں دیکھا قامت سے کسی سائے کے گھٹ کر نہیں دیکھا دیوار انا سے تھیں پرے اس کی صدائیں پتھر ہوئے پر ہم نے پلٹ کر نہیں دیکھا کیا جانے کسی پیاسے کے کام آنے کی راحت کوزے میں سمندر نے سمٹ کر نہیں دیکھا ہر شہر کو اک ضد سی رہی گھر نہ بنا پائیں کس شہر کے دامن سے ...

مزید پڑھیے

نقش محرومی تقدیر کو تدبیر میں رکھ

نقش محرومی تقدیر کو تدبیر میں رکھ سعی امکاں سے گزر شوق کو تعمیر میں رکھ اپنے احساس رفاقت کا بنا مجھ کو گواہ اور پھر میری گواہی مری تقصیر میں رکھ تو ہے مختار تجھے حق ہے تصرف پہ مرے میں کہ کھیتی تری تو مجھ کو بھی جاگیر میں رکھ رنگ سچے ہوں تو تصویر بھی بول اٹھتی ہے بے یقیں رنگوں کی ...

مزید پڑھیے

جو ہم سے زندگی ہر دم خفا معلوم ہوتی ہے

جو ہم سے زندگی ہر دم خفا معلوم ہوتی ہے ہمیں تو صاف اپنی ہی خطا معلوم ہوتی ہے ذرا سی بد گمانی تھی اور ان کا اب یہ عالم ہے دعا دیتے ہیں ان کو بد دعا معلوم ہوتی ہے لگائیں گے گلے سے کب وہ کب نظریں چرائیں گے ہمیں پہلے سے ان کی ہر ادا معلوم ہوتی ہے سنور جاتا ہے اس سے بات کرکے یوں مرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2290 سے 6203